سعودی عرب کے لیے سلمان کی حکومت کا تیسرا سال کیسا رہا ؟

پاکستان کی طالبان امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

مہران یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن سینٹر قائم کیا جائیگا،ڈاکٹر عقیلی

پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات کے لیے نئی حکمت عملی تیار

یمن میں سعودی جاسوسی ڈرون طیارہ تباہ

چھوٹی سی چیری بڑے فائدوں والی

بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف

انتخابی نشانات کی سیاست: ووٹر حیران، امیدوار پریشان

امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

آیت اللہ سید خامنہ ای نے قومی فٹبال ٹیم کو اچھی کاکردگی پر سراہا

بحرینی عدالت نے شیخ علی سلمان کو جاسوسی کے الزامات سے بری کردیا

فیفا ورلڈ کپ 2018: اسپین نے ایران کو 0-1 سے شکست دے دی

آئی بی اے کراچی میں منعقدہ پاکستان کی پہلی فائنل ائیر پروجیکٹس کی آن لائن نمائش کا احوال

امریکہ کی خارجہ پالیسی بحران سے دوچار

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ؟

’کراچی والوں کی جان ٹینکر مافیا سے چھڑائیں گے‘

پاکستان کے یہودی ووٹر کہاں گئے؟

پاکستان کی خاندانی سیاسی بادشاہتیں

یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا

انفیکشن کی بروقت شناخت سے دنیا بھرمیں ہزاروں لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں

سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

کیا افغان سیکیورٹی اہلکار طالبان کو کنٹرول کر سکے گے ؟

ٹویٹر کیا ایسا کر پائے گا ؟

پاکستان میں سمندری پانی کیا قابل استعمال ہوگا ؟

عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

فٹبال ورلڈ کپ کے شوروغل میں دبی یمنی بچوں کی چیخیں

رپورٹ | یمن کی تازہ صورتحال ۔۔۔ یہاں سب بکنے لگا ہے !!!

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

2018-01-12 23:42:48

سعودی عرب کے لیے سلمان کی حکومت کا تیسرا سال کیسا رہا ؟

Shah-Salman-Bin-Abdulaziz

یہ سلمان بن عبد العزیز سعودی بادشاہ کے قدرت تک پہنچنے کا تیسرا سال ہے ۔لبنان کی ایک تحلیلی خبروں کی ویبگاہ نے ایک مضمون میں اس سرخی کے تحت ؛ سلمان کی حکومت کا تیسرا سال ، گھریلو کودتا اور جنگ کے کھلے محاذ ، سعودی عرب میں گذشتہ سال میں ملک سلمان کی حکومت میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے ۔

العہد ، ویبگاہ کے مضمون میں آیا ہے : سلمان بن عبد العزیز نے سعودی عرب کی بادشاہی میں طاقت میں سر فہرست رہ کر تیسرا ہجری سال ختم کیا ہے ، وہ ملک کہ جو سال ۲۰۱۵ کے اوایل میں ان کے بر سر اقتدار آنے کے وقت سے مختلف ہے ۔

ریاض میں جو تیزی کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں  وہ حکومت کے ڈھانچے اور حکومتی مواد کے لحاظ سے ملک سلمان کی حکومت کے تیسرے سال کی اہم ترین خصوصیات شمار ہوتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ سعودی بادشاہ کا بیٹا محمد   کہ جس نے اندرونی اور بیرونی بہت سارے محاذ کھول رکھے ہیں اس سال کا بلا منازع ستارہ شمار ہو ۔

پہلے لمحے سے ہی کہ جب ملک سلمان نے اپنے سوتیلے بھائے ملک عبد اللہ سے ۲۳ جنوری ۲۰۱۵ کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا  تھا اس نے ان پروگراموں پر کہ جو  اس کے بیٹے محمد نے بنائے تھے عمل کرناشراع کر دیا ۔ محمد بن سلمان اپنے باپ کی حکومت کی ابتدا میں وزیر دفاع اور اس کے بعد سعودی عرب کا ولی عہد بن گیا ۔

ضروی تھا کہ سعودی عرب میں حکومتی اداروں کی تعمیر نو کی جائے چنانچہ  ملک عبد اللہ کے زمانے کے پرانے گارڈ کو برطرف کیا  گیا ، تا کہ محمد بن سلمان کی بیعت کا راستہ کہ جو مقرن بن عبد العزیز اور محمد بن نایف کو یکے بعد دیگرے ہٹانے کے بعد ولی عہد بنا ہے ہموار ہوجائے۔

سال ۲۰۱۷ کا آغاز بجٹ میں ۵۲ ۔ ۸ ارب ڈالر کے خسارے سے ہوا ، ساتھ ہی تیل کی قیمت میں لگاتار   کمی نے  محمد بن سلمان کے اقتصادی پروگراموں کو کمزور کر دیا  ۔لیکن وہ چیز کہ جس نے سعودی عرب کو گذشتہ سال ممتاز کیا ہے وہ شورو غل ہے کہ جو سلمان اور اس کے فرزند نے  ہمسایہ ملکوں کے ساتھ برپا کیا تھا اور اس کے مقابلے میں سعودی خاندان کے اندر کودتا کیا تھا ۔

طاقت کو ہتھیانے کے لیے گھریلو کودتا ،

بغیر کسی شک کے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ سلمان بن عبد العزیز نے ان قوانین کے خلاف کہ جو سعودی عرب میں کئی سال سے نافذ تھے کودتا کیا ۔ سعودی عرب میں ایک طرح مشترکہ حکومت کا قانون ہے جس کی بنیاد فیصل بن عبد العزیز نے جو سابق میں بادشاہ تھا رکھی تھی اور وہ بھی اس وقت کہ جب وہ اپنے سدیری بھائیوں سے مل کر اپنے بھائی سعود کے خلاف کودتا کرنے میں کامیاب ہوا۔

سلمان تقریبا پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومتی پوسٹوں میں تقسیم بندی کے قانون کو ختم کر کے سعودی عرب کے اقتصاد کی طاقت اور اسی طرح اندرونی امنیت کو اپنے بیٹے محمد کے سپرد کر چکا ہے اس طرح کہ اس نے سعودی حکومت کی امنیت کے مغز متفکر محمد بن نایف کو گذشتہ ۲۱ جون کو بر طرف کر دیا تھا ۔

محمد بن نایف کی ولی عہدی اور وزارت داخلہ سے بر طرفی ایک متوقع مسئلہ تھا چونکہ سلمان نے سال ۲۰۱۵ کے اواخر سے اس کام کے لیے مقدمہ سازی کی تھی اور اس نے اس کے دو طاقتور نائبوں کو بر طرف کر دیا تھا اور تدریجا حساس اختیارات کو وزارت داخلہ سے اور چند روز پہلے محمد بن نایف کو بر طرف کر کے عدلیہ کے اختیارات کو خود سے مختص کر دیا تھا ۔

سعودی خاندان کے اندر کودتا کا منظر نامہ محمد بن سلمان کی ولی عہدی کے ساتھ مکمل ہو گیا یہاں تک کہ سعودی عرب کے سابقہ شاہ کے فرزند متعب ابن عبد اللہ کو اس ملک کی قومی گارڈ  کی سرداری کے منصب سے سے ہٹانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا چونکہ قومی گارڈ ملک عبد اللہ اور اس کے بیٹے کی حامی تنظیم میں تبدیل ہو چکی تھی ۔

محمد بن سلمان نے چار نومبر کو متعب کو بر طرف کرنے کے لیے ایک پر ماجرا دن کا انتخاب کیا تھا اور طاقت کو ہتھیانے اور سعودی عرب میں نفوذ  کے اپنے اصلی مقصد کی تکمیل کے لیے متعب اور اس کے ترکی بھائی پر فساد کا الزام عاید کیا ، اور ولید بن طلال ، اور دوسرے نمبر کے کچھ شہزادوں اور مشہور تاجروں کے ناموں کا بھی اس ملک میں فساد میں مبتلا ہونے والوں کی فہرست میں اضافہ کیا ۔

کسی بھی مقام میں نفوذ کے تمام ذرائع پر قبضہ کرنے کے لیے  تین میدانوں ؛ اقتصاد ،امنیت اور فوج پر تسلط ہونا لازمی ہے  ۔سلمان نے سعودی عرب کے اقتصاد کی مدیریت کو سال ۲۰۱۵ کے وسط سے ہی اپنے بیٹے سلمان کو واگذار کر دیا تھا اور وزارت داخلہ اور قومیگارڈ کی اس کو واگذاری کے کام کو اس نے گذشتہ سال کے دوران مکمل کیا ۔ اور سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کے امپراطوروں یعنی ، روٹانا ، ایم بی سی اور اے آر ٹی کو گرفتار کر کے محمد بن سلمان نے ذرائع ابلاغ کو بھی مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا یہ تمام اقدامات  کھلے عام انجام دیے گئے اور ان کی جزئیات نے دنیا کے ذرائع ابلاغ اور روزناموں کو بھر دیا ، یہاں تک کہ سعودی حکومت نے اپنی سیاست کے محرمانہ ہو نے کی  خصوصیت بھی کھو دی اور محمد بن سلمان ملک کے مطلق العنان حکمران میں تبدیل ہو گیا ۔

چوتھا سعودی عرب بنانے  کے بارے میں تبلیغ ،

گذشتہ عیسوی سال میں سعودی عرب میں کافی جنجال انگیز واقعات رونما ہوئے اور سعودی عرب کے ولی عہد نے ان کے ذریعے کچھ سیگنل دینے کی کوشش کی اور خود کو سعودی عرب کے نئے معمار کے طور پر پہچنوایا ، یہاں تک کہ اس کے قریبیوں نے اس کو چوتھا سعودی عرب قرار دیا ۔

سعودی عرب کے مسائل کے مبصرین کے لیے واضح ہے کہ سلمان اور اس کے بیٹے کو گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج کا انتظار تھا اور ۲۰ جنوری ۲۰۱۷ کو ڈونالڈ ٹرامپ کے وائٹ ہاوس میں داخلے سے چند ہی دنوں میں قرار داد جیسی چیز کی جزئیات ذرائع ابلاغ میں فاش ہو گئیں جن میں تھا کہ بن سلمان سینکڑوں ارب ڈالر اور سعودی عرب کی طرف سے کچھ وعدوں کے بدلے میں سعودی عرب کا بادشاہ بنے گا ۔

لابی بنانے والوں اور امریکہ کی عمومی کمپنیوں کی ایک فوج بن سلمان کے چہرے کو پہچنوانے کے لیے کام میں مصروف ہے ، وہ جوان شہزادہ کہ جو سعودی عرب میں تبدیلیوں کے منصوبے کا علمبردار ہے تا کہ اس کو اقتصادی اور  اجتماعی لحاظ سےجنگ طلبی سے نکال کر تنوع اور آزادی کی طرف لے جائے ۔

محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے اندر کچھ اقدامات کیے جن کا مقصد اس موج کے ہمراہ ہونا ہے جو ملک کے باہر چل رہی ہے یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ اس کا اصلی مقصد مغرب اور اس کی رائے عامہ تھی تا کہ مغربی معاشرے کے نظریات کو اس ملک کے بارے میں جو وہابی دہشت گردی کی پیداوار اور غیر ترقی یافتہ ملک ہونے کے اعتبار سے مشہور ہے تبدیل کر سکے ۔ اس نے  سال ۲۰۱۷ میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی ،دین وہابیت کے اختیارات کم کیے ، اور صحویین کے بقایاجات سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے ان کے مشہور چہروں کو  گذشتہ ستمبر میں گرفتار کیا۔ لیکن وہ شدت پسند سعودی عرب کے چہرے کو ایک کھلے سعودی عرب کے چہرے میں کہ جو دوسروں کو پسند ہو تبدیل نہیں کر پایا ۔

گذشتہ مئی کے مہینے میں سعودی عرب کے  مشرقی شہر عوامیہ میں سلمان کے جرائم کہ جن کا سلسلہ تین ماہ تک چلتا رہا انہوں نے اس کے استبدادی اور ڈکٹیٹتری چہرے کو اس سے الگ نہیں ہونے دیا اس نے اسی طرح ہر اس شخص کو جو اس کے پروگراموں اور نظریات پر اجتماعی چینلوں پر تنقید کرنے کی جرائت کرتا تھا اسے جیل میں ڈال دیا ، سب سے اہم سعودی عرب کے اس جوان ولی عہد کا اپنے چچا زادوں کے ساتھ سلوک تھا کہ جن کو قید کر کے اس نے ریاض کے ڈی لیکس ہوٹلوں میں رکھا تا کہ ان سے باج وصول کر سکے اور ان کی ثروت پر قبضہ کرے ۔

سلمان اور اس کے بیٹے نے کچھ خیالی پروجیکٹوں جیسے تفریحی شہر القدیہ ، اور دریائے سرخ کے سیاحتی پروجیکٹ اور شہر نیوم کے بارے میں خبر دی کہ جس کے بارے میں مبصرین اور ماہرین کا عقیدہ ہے کہ یہ جوان شہزادے کے کارناموں اور مستقبل میں اس کے کردار کو بڑا کر کے دکھانے کی خاطر ہے تا کہ وہ آنے والے دسیوں سال کےلیے حکومت میں اپنے پاوں مضبوط کر سکے اور اس کے بعد حکومت کو اپنے بیٹے یا اپنے بھائی کے سپرد کر سکے ۔

لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کے لوگ اس کام سے کہ جو بن سلمان نے  چوتھا سعودی عرب بنانے کے لیے کیا ہے مطمئن نہیں ہیں سعودی عرب کے متوسط اور کم درآمد والے طبقات پر ٹیکس عاید کرنے کی سیاست کے ایسے نتائج ہو ں گے کہ سعودی حکومت ، سعودی شہری کو حقیر سا سرمایہ دے کر راضی نہیں کر سکتی چونکہ دوسرے ہاتھ سے اس پر مالیات عاید کر کے اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر کے دوگنا وصول کر لیتی ہے ۔

سعودی عرب کی شکست کے محاذ ،

سال ۲۰۱۵ اور ۲۰۱۶ میں سلمان اور اس کے بیٹے نے جنگ اور علاقے کے محاذوں کے سلسلے میں اپنی سیاستوں کو جاری رکھتے ہوئے  پہلے سے زیادہ نقصان اور شکست کا سامنا کیا ہے سعودی حکومت پر سب سے زیادہ دباو یمن کے کھلےمحاذ  کا ہے محمد بن سلمان گذشتہ برس میں  یمن میں یہاں تک  کہ ذرائع ابلاغ کی حد تک بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا ان کی فوجیں صنعاء تک نہیں پہنچ پائیں اور نہ ساحلی محاذ پر ان کو پیشرفت نصیب ہوئی اور نہ تعز کے محاذ کو جیت سکیں جب کہ سعودی عرب کو ٹرامپ کی حمایت بھی حاصل تھی گذشتہ اپریل میں امریکہ نے ہوشمند ہتھیار سعودی عرب کو بیچنے کا معاملہ بھی انجام دیا جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس سے محاذوں پر موئثر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔

سرحدوں پر یمن کی فوج اور عوامی کمیٹیوں کی برتری کا سلسلہ جاری ہے اور سلمان اور اس کے بیٹے کی فوج کے مالی اور جانی نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے جدہ ،مشیط ریاض اور دیگر حیاتی شہروں پر یمن کے میزائل گر رہے ہیں ان تمام شکستوں نے بن سلمان کو اپنی آخری چال چلنے پر مجبور کر دیا ہے گذشتہ عیسوی مہینےکے اوایل میں اس نے امارات اور علی عبد اللہ صالح سابقہ صدر کی مدد سے ناکام کودتا کا منصوبہ بنیایا لیکن پھر سے معلوم ہو گیا کہ  ان کا اندازہ غلط تھا اور وہ درست محاسبات کی بنیاد پر نہیں تھا ۔

یمن کے محاذ پر سعودی عرب کے نقصانات کے علاوہ  بن سلمان نے اماراتیوں کی مدد سے قطر کے خلاف محاذ کھولا سعودی حکومت نے کوشش کی کہ وہ قطر کی حکومت کے خلاف اپنے تمام پتے ایک بار ہی کھول دے لیکن پتہ چلا کہ پابندیوں اور محاصرے سے کچھ حاصل نہیں ہوا بدلے میں قطر کے روابط سعودی عرب کے علاقائی رقیب ایران کے ساتھ استوار ہو گئے

قطر کے بحران کے بعد محمد بن سلمان نے گذشتہ چار نومبر کو لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو اغوا کر کے ایک نیا محاذ کھولا ، لیکن حالات نے اس اناڑی شہزادے کے حق میں کروٹ نہیں لی اور لبنانیوں کے اتحاد کے نتیجے میں اور بین الاقوامی دباو کی وجہ سے حریری کو آزاد کرنا پڑا اور سلمان کے کارناموں میں ایک اور شکست کا اضافہ ہوا ۔

گذشتہ ستمبر میں سعودی عرب نے عراق کو ٹکڑے کرنے کے لیے جو اندازے لگائے تھے وہ کردستان میں ریفرینڈم کے باوجود ناکام رہے عراقیوں نے اپنی فوج اور مسلح افراد کے ذریعے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور داعش کو عراق میں زبردست شکست ہوئی ۔ایسا لگتا ہے کہ محمد بن سلمان کو فلسطین کے مسئلے کو ٹرامپ کے ساتھ مل کر ختم کرنے میں بھی شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے اور منظر عام پر آنے والی خبروں کی بنیاد پر بن سلمان فلسطینیوں پر دباو ڈال رہا ہے کہ وہ نیتن یاہو ۔کشنر کے مشترکہ حل کو مان لیں جسمیں فلسطینیوں سے وطن واپسی کا حق چھین لیا گیا ہے اور قدس کو فلسطین کا پایتخت نہیں مانا گیا ہے ۔

فلسطین کے مسئلے میں سعودی عرب کے اس مشکوک کردار نے اور اسرائیل کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی اس کی کوششوں نے کہ جن کے بارے میں عنقریب ہی سرکاری سطح پر اعلان ہونے والا ہے عربی اور اسلامی ملکوں میں عوامی محاٖل پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اور اسلامی ملتوں کے نزدیک سعودی عرب کے رتبے میں تنزل آیا ہے خاص کر اس وقت کہ جب اس نے ٹرامپ کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ قدس کو اسرائیل کا پایتخت مانتا ہے سست رد عمل کا مظاہرہ کیا ۔   

زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)