مودی اسرائیل کا چپراسی

امریکی حکام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں، ایرانی صدر

پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، رپورٹ

نوازشریف کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے: فواد چوہدری

ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیار

محمد بن سلمان کو آل سعود خاندان میں نفرت اور دشمنی کا سامنا

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پاکستان کو صرف12 منٹ درکار ہیں: جنرل زبیر حیات

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلیے سیکیورٹی رسک ہیں، ڈنمارک کی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی اپیل: کیا آل سعود کی بادشاہت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا؟

انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کے خفیہ راز

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

نگراں وزیراعظم کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار

کیا نواز شریف کی جارحیت تبدیلی لا سکتی ہے؟

کیا لشکر جھنگوی تحریک طالبان کی جگہ سنبھال چکی ہے؟

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں

مجھے کیوں نکالا: نواز شریف کے احتساب عدالت میں اہم ترین انکشافات

بغداد میں العامری کی مقتدی الصدر سے ملاقات، حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک شام میں ہی رہیں گے، ایران

رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا

ایران نے رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے کچل دیا جائے گا، امریکی وزیرخارجہ کی دھمکی

کیا بغدادی انتقام کی کوئی نئی اسکیم تیار کر رہا ہے؟

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے

ماہ رمضان میں امام زمانہ(ع) کی رضایت جلب کرنےکا راستہ

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا، نوازشریف

فضل الرحمان کی فصلی سیاست: فاٹا انضمام کا بہانا اور حکومت سے علیحدگی

مذہبی جذباتیت کا عنصر اور انتخابات

مادے کا ہم زاد اینٹی میٹر کیا ہوا؟

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغان معیشت متاثر ہو گی

امریکہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا

ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ناجائز منافع خوری نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے: علامہ مختار امامی

کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی

روزے کا ایک اہم ترین فائدہ حکمت ہے

نگراں وزیراعظم پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا، ذرائع

موٹروے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے: عمران خان

ایک چشم کشا تحریر: عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

روزہ خوروں کی نشانیاں: طنزو مزاح

ترک صدر ایردوآن اور سود، ٹِک ٹِک کرتا ٹائم بم

آل سعود کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کے الزام میں سات خواتین کارکن گرفتار

فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارتخانہ قائم

افسوس امت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر 57 اسلامی ممالک خاموش ہیں، علامہ ریاض نجفی

رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا

خاص الخاص روزے کا ذائقہ چکھنےکا راستہ

امریکی اسکول فائرنگ میں جاں بحق پاکستانی سبیکا شیخ کے خواب پورے نہ ہوسکے

اگر ہم بیت المقدس کا دفاع نہ کرسکے تو مکہ کا دفاع نہیں کرپائیں گے: صدر اردوغان

یورپ نے امریکی پابندیاں غیر موثر بنانے کے لئے قانون سازی شروع کر دی

سول ملٹری تعلقات: پاکستانی سیاست کا ساختیاتی مسئلہ

پاکستان کا اگلا نگران وزیر اعظم کون ہو گا؟

کیا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بغاوت میں ہلاک ہو گئے ہیں؟

تحریک انصاف نے حکومت کے پہلے 100 دن کا پلان تیار کرلیا

کیوبا میں مسافر طیارہ گر کرتباہ، 110 افراد ہلاک

غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے، پاکستان

رمضان المبارک کے تیسرے دن کی دعا

رمضان الہی ضیافت کا مہینہ

امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی مسترد کرتے ہیں، علامہ ساجد نقوی

بشارالاسد کی روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات

مریخ پر بھیجے گئے سب سے چھوٹے سیٹلائٹ سے زمین کی پہلی تصویر موصول

ایران نے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

62 شہید اور 2770 زخمی اور دنیا خاموش تماشائی

فلسطینی مظاہرین کو دہشت گرد کہنا ’توہین آمیز‘ ہے، روسی وزیر خارجہ

بھولے بادشاہ کا غصہ اور نفرت

نواز شریف کی سیاسی خود کشی: کیا یہ ایک سوچی سمجھی سکیم ہے؟

ایٹمی معاہدے کی حفاطت کی جائے گی، تین بڑے یورپی ملکوں کا اعلان

رمضان المبارک کے دوسرے دن کی دعا

رمضان المبارک کے پہلے دن کی دعا

ٹرمپ جیسے دوست کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں: صدر یورپی یونین

قرآن مجید میں امام زمانہ(عج) کےاصحاب کی خصوصیات

کیا یہ ہے سب سے بہترین اینڈرائیڈ فلیگ شپ فون؟

سلمان بادینی کی ہلاکت: کیا داعش اور لشکر جھنگوی کی بلوچستان میں کمر ٹوٹ گئی ہے؟

جنرل شاہد عزیز داڑھی اگا کر شام گیا اور شائد وہاں مر چکا ہے، پرویز مشرف

2018-02-13 09:07:33

مودی اسرائیل کا چپراسی

Modi israel ka

حالیہ دنوں بھارت کے وزیرا عظم نیرندر مودی نے فلسطین سمیت اردن، عرب امارات اور مسقط کا دورہ کیا ہے.
حالیہ دنوں بھارت کے وزیرا عظم نیرندر مودی نے فلسطین سمیت اردن، عرب امارات اور مسقط کا دورہ کیا ہے، اس دورے کا وقت انتہائی اہم ترین ہے کہ جب کچھ ماہ قبل مودی اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں او ر اب کچھ دن قبل ہی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور اب مودی کا یہ چار ملکی دورہ بہت سے سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ متعدد سوالات سے پردہ بھی اٹھا رہا ہے۔کہا جا رہاہے کہ مودی عرب امارات سے ہوتے ہوئے اردن پہنچے جہاں سے پھر فلسطین آئے اور مھمود عباس سے ملاقات بھی کی، اس ملاقات میں مودی نے بھارت کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کی اور وعدہ کیا کہ بھارت فلسطینیوں کے مفادات کو فراموش نہیں کرے گا۔

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مودی کے پڑوس میں ہی ایک خطہ وادی کشمیر کہلاتی ہے کہ جہاں روزانہ کی بنیادوں پر کشمیریوں کے حقوق پائمال کیا جا رہے ہیں اور پھر ابھی چند ماہ پہلے ہی تو مودی اور نیتن یاہو کی مسلسل دو ملاقاتوں میں فلسطین کو فراموش کیا گیا تھا تو اب آخر مودی فلسطین کے کمزور ترین صدر محمود عباس کو کیا یقین دلانا چاہتے ہیں؟ یا پھر یہ کہ وہ دنیا بھر میں اور بالخصوص بھارت میں فلسطین کے معاملے پر عوامی غم و غصہ کو کم کرنا چاہتے ہیں یا شاید یہ کہ اس دورہ میں مودی نے اسرائیل کا ایک سچا اور پکا نمک خوار ہونے کا یقین دلوایا ہے ۔

اب ذرا ان ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیجئے کہ جہاں سے ہوتے ہوئے اسرائیلی نمک خوار مودی فلسطین جا پہنچے تھے۔ عرب امارات: جی ہاں آج کل عرب امارات کھلم کھلا خلیج دنیا میں ایک ایسا پولیس مین بنا ہو اہے کہ جس نے نہ صرف بحرین بلکہ یمن میں بھی جاری فوجی حملوں کی کمان سنبھال رکھی ہے اور یمن میں جاری یکطرفہ عرب بادشاہوں کی جنگ کی کمان کو سنبھالے ہوئے ہے، اب مودی نے یقیناًیہاں پر اسرائیل کی خیر خواہی میں ان کو یہی پیغام دیا ہو گا کہ اسرائیل کے تحفظ کی خاطر اس جنگ کو جاری رکھو، یہ خیال مت کرنا کہ یمن میں مارے جانے والے ہزاروں معصوم انسان مسلمان ہیں یا انسان بھی ہیں، یقیناًمودی نے اپنے کشمری کے تجربات یہاں اماراتی شاہوں کے ساتھ شیئر کئے ہوں گے تا کہ ان کو حوصلہ ملے کہ دنیا چاہے جتنی ہی مخالفت کرتی رہے لیکن کیونکہ اسرائیل کا تحفظ سب پر مقدم ہے اس لئے یمن میں جو جنگ مسلط کر رکھی ہے اسے روکنا مت ، کیونکہ یمن کے عوام کا پہلا نعرہ تکبیر، دوسرا رسالت اور پھر مردہ باد امریکا اور مردہ باد اسرائیل ہے ۔اسی طرح اب ذرا اردن کی با ت کریں کہ جو ہمیشہ سے ہی عالمی استعمار کی غلامی کرنے کو ہی اپنی عاقبت تصور کرتا آیا ہے اور انہی دنوں کہ جب مودی اردن میں دورے پر تھے اردن میں اسرائیلی سفارتخانے کو از سر نو کھولا گیا اور نیا اسرائیلی سفیر بھی متعین کیا گیا ہے، یہاں بھی یقیناًمودی نے اسرائیل کی زبان بولتے ہوئے ان عرب شہنشاہوں کو سمجھایا ہو گا کہ دیکھو نہ تو فلسطین کے مظلوموں کی بات کرنا اور نہ ہی کشمیر کی طرف آنکھ اٹھانا ، اگر پاکستان سے کوئی تمھیں کشمیر پر حمایت کرنے کے لئے کہہ دے تو آنکھیں او ر کان بند کر لینا ۔
عرب امارات اور اردن میں اسرائیلی لوری سنانے کے بعد مودی فلسطین پہنچے اور فلسطینی صدر محمود عباس سے گرمجوشی سے ملاقات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت فلسطین کے عوام کے مفادات کو فراموش نہیں کرے گا، اس موقع پر انہوں نے بھرپور تاکید کی کہ اسرائیل کے ساتھ تمام معاملات کو گفتگو و مذاکرات کے ساتھ حل کر لیں۔یہ ایک اور واضح دلیل ہے کہ مودی کا دورہ درا صل اسرائیل کے لئے تھا نہ کہ بھارت کے لئے، مودی کے اس فعل نے بھارت کے عوام کی تذلیل کی ہے کہ ایک عرب سے زائد آبادی رکھنے والا ملک اور اس کا وزیر اعظم ایک جعلی ریاست اسرائیل کا چپراسی بن کر خطے میں پیغام رسانی کرتا پھر رہا ہے۔در اصل حقیقت تو یہی ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم مودی کا درجہ کسی چپراسی کم نہیں ہے لیکن افسوس ہوتا ہے بھارت کے عوام پر کہ جنہوں نے ایک چپراسی کو اپنا وزیر اعظم بنا کر پوری دنیا میں اپنا وقار خاک کر لیا ہے۔

مودی نے حالیہ دنوں ان چار ممالک کا دورہ کر کے اسرائیل کا چپراسی کا کردار شاید اس لئے بھی ادا کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف امریکی صدر کے القدس سے متعلق آنیو الے بیان کے بعد سے شدید دباؤ تھا، کیونکہ اس بیان کے بعد پوری دنیا نے جہاں امریکا و اسرائیل کی مذمت کی وہاں القدس کی تاریخی حیثیت کو بھی فلسطین سے قرار دیا جس کے بعد جعلی ریاست اسرائیل میں شدید خوف و ہیجان کی کیفیت ہے اور اس کیفیت کی وجہ فلسطینیوں کی تیسری تحریک انتفاضہ ہے کہ جو مسلسل جاری ہے اور مغربی کنارہ میں اسرائیل کو اب شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔فلسطینیوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے اور بالخصوص امریکا کو کسی بھی قسم کے فلسطین سے متعلق مذاکرات کا مینڈیٹ نہیں دینے دیں گے جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی یا محمود عباس دے چکے تھے، یہی وجہ ہے کہ مودی نے بھی بارہا فلسطینی صدر سے کہا کہ وہ تمام مسائل کو مل بیٹھ کر حل کر لیں۔اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا دورہ فلسطین بھارت و فلسطین تعلقات کم بلکہ اسرائیلی چپراس گیری پر زیادہ مبنی تھا۔

بہر حال عرب امارات، اردن اور فلسطین سے نکلنے کے بعد اب اسرائیلی چپراسی مودی مسقط گئے ہیں ، مسقط کے بارے میں عرض ہے کہ اس وقت خلیج دنیا کا واحد عرب ملک ہے کہ جس نے نہ تو دوسرے عرب بادشاہوں کی طر ح داعش بنانے میں امریکا کی مدد کی، نہ ہی فلسطین سے متعلق کوئی خیانت سرزد کی، نہ ہی دیگر عرب بادشاہوں کی طرح یمن کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ کا حصہ بنا، اسی طرح اور کئی ایک اقدامات ایسے ہیں کہ جو مسقط اور یہاں کے حکمرانوں کو خطے کی امریکی و اسرائیلی غلام عرب ریاستوں سے منفرد کرتے ہیں ، اب مودی کا یہاں آنے کا مقصد بھی واضح ہے کہ شاید ان کو ڈرایا دھمکایا جائے یا پھر یہ کہ اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدوں کی لالچ دے کر مسقط کو بھی دیگر عرب پٹھو ممالک اور ان کے بادشاہوں کے طرح اسرائیلی نمک خوار بنانے کی کوشش کی جائے۔لیکن یقین قوی ہے کہ مسقط کی خودار اور باغیرت حکومت کسی بھی ایسے فیصلے یا اقدام میں شامل نہیں ہو گی کہ جس کا براہ راست نقصان مسلم امہ کو پہنچتا ہو یا مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایشیاء کا ایک قاتل دوسرے غاصب اور قاتل کی بقاء کے لئے مسلمان ممالک اور ان کے حکمرانوں سے ملتا پھر رہا ہے اور کوشش میں مصروف ہے کہ کسی طرح اسرائیل کا تحفظ یقینی ہو جائے ، جبکہ حقیقت میں یہ قاتل تو خود دسیوں ہزار مظلوم انسانوں کا قاتل ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔یہاں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان عرب ریاستیں اور بادشاہتیں امریکا اور اسرائیل کا اربوں ڈالرز کا اسلحہ خرید کر یمن میں استعمال کر رہی ہیں، یمن کو بالکل غزہ کی طرح محصور کیا گیا ہے، جہاں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسی لاکھ افراد کی زندگیاں موت کے قریب جا پہنچی ہیں ، لیکن یہ عرب و مسلمان دنیا ہے کہ جو غزہ و فلسطین کو بھول کر، کشمیر کی مظلومیت کو بھول کر، برما کی مظلومیت کو فراموش کر کے، افغانستان میں روزانہ کی بنیاد پر ہونیو الے دہشت گردانہ حملوں کو بھول کر، عراق میں امریکا کے ہاتھوں لاکھوں انسانوں کا قتل عام بھول کر، اگر کوئی کام کررہی ہیں تو یہ عرب ریاستیں یا تو داعش بنانے میں امریکا کی مدد کرتی رہی ہیں، یا پھر آج کل شام میں النصرۃ نامی دہشت گرد گروہ کو از سر نو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، یا پھر پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی مدد کر کے پاکستانیوں کا قتل عام کروانے میں مصروف ہیں، یا پھر امریکا و اسرائیل سے اربوں ڈالرز کا اسلحہ لے کر یمن پر بمباری کر کے دسیوں ہزار مظلوم یمنی مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں، ان کے نزدیک فلسطین کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے کہ اسرائیل اور بھارت جو چاہے کر​​تے رہیں لیکن یہ عرب بادشاہ تو مسلمانوں کا ہی خون بہائیں گے۔جب مسلم دنیا کے حکمران امریکی و اسرائیلی کاسہ لیسی کرتے رہیں گے تو پھر مودی جیسے چپراسی بھی فلسطین کاز کا سودا کرنے کے لئے اسرائیلی نمک خواری کیوں نہ کریں گے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دانش کی باتیں

- ایکسپریس نیوز

اخوت کی ایک لاکھ اینٹیں

- ایکسپریس نیوز

انتخابات کا طبل بج چکا

- ایکسپریس نیوز

جب گھنٹہ بدلا

- ایکسپریس نیوز

کیا آج کا پاکستان

- ایکسپریس نیوز

سب کچھ بدل سکتا ہے مگر…

- ایکسپریس نیوز

تحقیقاتی رپورٹنگ

- ایکسپریس نیوز

سندھ سراپا احتجاج

- ایکسپریس نیوز

کھجور کے فوائد

- سحر نیوز

Root terms Pakistan a strong side

- اے آر وائی