امریکی بھیس میں اسرائیل کی 90 اسپیشل فورسز افغانستان میں داخل

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

کیا مسلم لیگ ن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟

عید فطر کا دن، خدا کی عبادت اور اس سے تقرب کا دن 

پھانسی دے دیں یا جیل بھیجیں

شفقنا خصوصی: بھاڑے کے ٹٹو اور پاک فوج

افغانستان میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی، مصنوعی تنفس پر منتقل

سعودی عرب کی کھوکھلی دھمکیاں

ایم ایم اے اور اورنگزیب فاروقی کے مابین خفیہ ڈیل کیا ہے؟

ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک کون لایا تھا: ایک خصوصی تحریر

غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

آج سے موبائل بیلنس پر ٹیکس ختم: 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے کا بیلنس ملے گا

اول ماہ ثابت ہونے کا میعار کیا ہے؟

سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں؟

رمضان المبارک کے انتیسویں دن کی دعا

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

پاکستان میں انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟

2018-03-11 04:54:55

امریکی بھیس میں اسرائیل کی 90 اسپیشل فورسز افغانستان میں داخل

 

ISAF
موصولہ رپورٹوں کے مطابق، عربی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آئندہ دنوں میں اسرائیلی اسپیشل فورسز پر مشتمل ایک 90 افراد کا گروہ، افغانستان میں داخل ہوجائیگا۔ جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ یہ گروہ امریکی فوجیوں کے روپ میں داخل ہونگے اور امریکہ کے زیر نظر علاقوں میں ہی مقیم ہونگے۔

اس گروہ کی اسپیشلیٹی یہ ہے کہ ان کو اسرائیل سے باہر اسلامی گروہوں کے خلاف میدانی جنگوں میں مقابلے کی مہارت کے علاوہ عوامی فورسز سے مقابلے کی بھی مہارت حاصل ہے۔

ماسکو سے شائع ہونے والا روزنامہ روسیسکا نے اس حوالے سے خاص اطلاعات نشر کی ہیں، انہوں نے اس حوالے سے کہا ہے: اسرائیل کا اس اقدام سے ہدف یہ ہے کہ شہری جنگوں میں تجربہ حاصل کرے جو کہ حزب اللہ کے خلاف ممکنہ جنگ میں ان کے لئے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکمِ خاص میں افغانستان میں متعین امریکی فورسز ہیڈکوارٹر کو اتحادی ممالک سے فوجی مشارکت کا طریقہ اپنا لیں۔ اس حکم سے ان کا مقصد اپنے خرچوں میں کمی لانا ہے۔ کیونکہ امریکی اتحادیوں کی اسپیشل فورسز اور کمانڈوز کا خرچہ بلیک واٹر سمیت دیگر امرءکی فورسز سے بہت کم ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور افغانی اسلامی حکومت کے روابط کا سلسلہ 90 کی دہائی تک تب سے شروع ہوتا ہے جب روسی فورسز اس ملک سے نکلے اور 1996 میں طالبان کے اقتدار میں آنے تک یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، اسرائیل نے اپنی مداخلت کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے افغان حکام سے رابطے کا آغاز کیا۔ لندن میں چھپنے والا جینز ڈیفنس میگزین اور مشہور اسرائیلی روزنامہ یدیعوت آحارانوت نے اس حوالے سے لکھا ہے: برہان الدین ربانی کے ایک وزیر نے، اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سے کسی یورپی ملک کے دارالحکومت میں ملاقات کی تھی۔

جینز ڈیفنس نے زور دیا ہے کہ: اس ملاقات سے اسرائیل کا مقصد افغانستان کے شمال میں الائنس سے دوستی بنانی تھی جو کہ طالبان سے لڑ رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور مذکورہ الائنس کے روابط کے سامنے آنے سے پریشان تھا۔ کیونکہ اسے یہ ڈر تھا کہ پاکستان اس پر اعتراض کریگا اور یوں امریکہ جنوبی ایشیا میں اپنے ایک اہم اتحادی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بہر حال اہم اسرائیلی اہداف میں ایک اہم ہدف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا خاص طور پر افغانستان میں اثر رسوخ حاصل کرے۔

امریکہ کے اسرائیل کو افغانی پارٹی سے کھلے عام روابط پر لاکھ منع کرنے کے باوجود، اسرائیل نے اپنی اسپیشل فورسز کے ایک گروہ کو افغانستان روانہ کیا، یہ گروہ جس کا نام 262 تھا، 60 کی دہائی میں تشکیل پایا جو کہ عربی یہودیوں پر مشتمل تھا۔ وہ مسلمانوں اور عربوں کا یونیفارم پہنتے تھے۔ اس آرگنائزیشن کا مقصد عرب نشین علاقوں میں فتنے پھیلانا اور جاسوسی کرنا تھا۔

اسرائیل، سیاسی مشروعیت نہ رکھنے اور سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہونے کی وجہ سے اپنے انٹیلی جینس اداروں سے وابستہ ہے۔ اسی سلسلے میں موساد اور شین بیٹ اندرونی اور بیرونی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اسرائیل، الکٹرانک جاسوسی اور ریڈار نصب کرنے کے علاوہ دیگر ذریعوں سے ایران کے مشرق اور پاکستان کے شمال میں زمینی جاسوسی اڈوں کے ذریعے اپنے اسٹرٹیجک مقاصد پانے کی کوشش کرکے ان ممالک پر دباؤ ڈالیگا۔

دوسری جانب، عراقی حکام نے اس حوالے سے پریشانی کا اظہار کیا ہے؛ کیونکہ انہیں بھی یہ خوف ہے کہ اسرائیلی فورسز عراق مین بھی امریکی بھیس میں داخل نہ ہوجائیں۔ کیونکہ با وثوق رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز عراق اور کردستانی اڈوں میں بھی داخل ہوچکے ہیں۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

جام جم - 20 جون

- سحر نیوز