ڈپلومیٹک جنگ: پاکستان اور امریکی تناؤ میں اضافہ

پنجاب کی نگران حکومت تحریک انصاف کے اشاروں پر ناچ رہی ہے: شہبازشریف

’یہودی ریاست‘ کے قانون پر تنازع کیوں

’’کیلا‘‘ غذائیت سے بھرپور پھل

کنفیوژن کے شکار حکام افغانستان سے متعلق عسکری پالیسی میں تبدیلی نہیں دیکھ رہے

بلاول کی علی موسی گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت

چوتھا ون ڈے: پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 200 کا ہندسہ عبور کرلیا

طالبان کا شہری آبادیوں پر خود کش حملے روکنے کا اعلان

چین کے صدر تین روزہ دورے پر امارات پہنچ گئے

امریکا کی بھارت کو مسلح ڈرونز فروخت کرنے کی پیشکش

زاہدان کے قریب مسلح شرپسندوں کے ہاتھوں دو سیکورٹی اہلکارشہید

یمنی فوج کا ریاض میں سعودی امریکی آئل کمپنی آرامکو پرڈورن حملہ

الیکشن میں شرکت نہ کرنا شیعوں کی کمزوری کا باعث بنے تو ضرور شرکت کریں:آیت الله صافی گلپایگانی

پاکستان میں داعش کی آمد کی اطلاع

چمن کے مال روڈ پر دھماکا اور فائرنگ، پولیس

بھارت کی واٹس ایپ کو ایک اور وارننگ

نیویارک :زیر زمین اسٹیم پائپ لائن میں دھماکہ

پرو میں ججوں کا رشوت لے کر فیصلے دینے کا انکشاف

ٹرمپ کی پیوٹن کو دورہ واشنگٹن کی دعوت

ہزاروں پولنگ اسٹیشنز غیر محفوظ، سہولیات سے محروم

عابد باکسر کی 10 مقدمات میں ضمانت منظور

انسداد دہشتگردی عدالت میں راؤ انوار کی ضمانت منظور

عسکری پارک کے کمرشل استعمال کیخلاف درخواست دائر

حنیف عباسی کیخلاف ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ محفوظ

الیکشن: فوج ضابطہ اخلاق کے اندر رہے گی،آزادی کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا جمہوری حق ممکن بنایا جائیگا، آرمی چیف

مراد علی شاہ کیخلاف دوہری شہریت کی درخواست مسترد

مریم کی سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقلی مؤخر

حکومت کون بنائیگا، پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی؟

انصاراللہ نے الحدیدہ سے یمنی فوج کے انخلا کا مطالبہ مسترد کر دیا

تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ

پیوٹن کی دہشت ملینیا کے چہرے پر

ترکی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے، قونصل جنرل

پکتیا میں فورسز کیساتھ جھڑپوں میں 27 دہشتگرد ہلاک

ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کی حمایت کا اعلان

امریکا کے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،افغان حکومت

بنگلہ دیش میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں 200 افراد ہلاک

صحت کی حفاظت کے رہنما اصول

ہڈیوں کا بھر بھراپن ایک خاموش بیماری

مودی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کل پیش ہوگی

امریکی صدر کی ایرانی صدر سے ملاقات کے لئے آٹھ بار درخواست

انصاراللہ نے الحدیدہ سے یمنی فوج کے انخلا کا مطالبہ مسترد کر دیا

سمندر پار پاکستانی عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، نادرا حکام

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پرغداری کا الزام لگ گیا

برطانیہ نے اسلحے کی فروخت دگنی کر دی

برطانیہ میں چھ روزہ بین الاقوامی ایئر شو زوروشور سے جاری

غذر میں لینڈ سلائیڈنگ، دریا کا بہاؤ رک گیا

’ایک جیل میں قید باپ بیٹی کو ملنے کی اجازت نہیں‘

کلبھوشن کیس پر جواب جمع کروا دیا

’’شہباز شریف مجھے مقابلے میں مروانا چاہتے تھے‘‘

’’ توبہ قبول کرنا ہمارا کام نہیں‘‘

نواز اور مریم سے وکلاء کی ملاقات منسوخ

فیصل واوڈا کو 8 اہلکار سیکیورٹی دیں گے

عمران کی آئندہ نا زیبا زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

پاک فوج نے تھریٹ الرٹ جاری نہیں کیا، آئی ایس پی آر

پاکستان، ایران فوجی تعلقات میں بہتری کی امید؟

’’ کالعدم تنظیموں کا انتخابات میں حصہ لینا، جمہوریت کے لیے خطرہ ہے‘‘،بلاول بھٹو

’پی پی اور ن لیگ میں پس پردہ نیا مک مکا چل رہا ہے‘

ٹیکس ادائیگی سے متعلق غلط بیانی عمران اسماعیل کے گلے پڑگئی

سعودی عرب: خواتین کو طیارے اڑانیکی تربیت کی اجازت

خان صاحب عوام میں مقبول نہیں ،بلاول کا دعویٰ

پارلیمنٹ نے اسرائیلی وزیراعظم سے جنگی اختیارات چھین لیے

کراچی:الیکشن میں دہشت گردی کی سازش،2 گرفتار

صہیونی جیل میں اسیر 4 فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال ہنوز جاری

اسپین کے کئی شہروں کا اسرائیلی بائیکاٹ مہم میں شمولیت کا اعلان

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، بلاول کا ٹوئٹ

پاکستان نے زمبابوے کو تیسرے ون ڈے میں شکست دے دی

لیبیا میں کنٹینر میں دم گھٹنے سے 8 غیرقانونی تارکین وطن ہلاک

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی

افغانستان میں امریکا کی حکمت عملی ناکام ہو گئی، حامد کرزئی

افغانستان میں داعش کا حملہ، طالبان کمانڈر سمیت 20 ہلاک

ایرانی افواج ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے آمادہ و تیار ہیں:ایرانی وزیر دفاع

2018-04-12 08:55:51

ڈپلومیٹک جنگ: پاکستان اور امریکی تناؤ میں اضافہ

pak uS

امریکا اور پاکستان کی جانب سے انکار کے باوجود دونوں ممالک ایک ایسے سفارتی تنازع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، جس کے تحت سفارت کاروں کی نقل و حرکت کو سختی سے محدود کیا جاسکتا ہے۔

اس بارے میں ڈان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی حکام کو بتایا گیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے اور دیگر شہروں میں قائم قونصل خانوں کے سفارتکار بغیر اجازت 40 کلو میٹر سے زیادہ دور سفر نہیں کرسکیں گے۔

اس حوالے سے واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارتخانے اور اسلام آباد میں وزارت خارجہ کو ایک خط بھیجا گیا، جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اگر کچھ معاملات حل نہیں ہوتے تو ان پابندیوں کا اطلاق یکم مئی سے ہوجائے ہوگا۔

تاہم اس حوالے سے جب ڈان نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا تو ان کے ترجمان نے بتایا ’ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نوجوان کی ہلاکت پر امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاج ریکارڈ

ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آیا مستقبل قریب میں ان پابندیوں کا اطلاق ہوسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت اس بارے میں کچھ اعلان نہیں کرسکتے‘۔

دوسری جانب پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے بھی اسی طرح کا جواب سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں، جبکہ سفارتخانے کو مستقبل کی پابندیوں کے بارے میں کوئی اطلاع بھی موجصول نہی ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک روز قبل امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان ہیتھر نوریٹ کا کہنا تھا ’ اس معاملے پر میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے‘۔

اس حوالے سے ڈان کے علم میں یہ بات بھی آئی کہ مارچ کے وسط میں پاکستان کو ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا تھا اور اس کے بعد سے اسلام آباد اور واشنگٹن میں دونوں اطراف سے اس معاملے پر متعدد مرتبہ تبادلہ خیال کیا گیا۔

تاہم پاکستان اور امریکی حکام نے اس بات کو واضح کیا کہ اس نوٹس کا گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکی ملٹری اتاشی کی جانب سے ٹریفک سگنل بند ہونے کے باوجود گاڑی گزارنے سے ایک نوجوان ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق سفارتکاروں کو 25 میل کی حدود سے باہر سفر کرنے کے ارادے پر کم از کم 5 روز قبل اجازت لینے کے لیے درخواست دینے کی ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ پاکستانی ہم منصب کے ساتھ تبادلہ خیال میں امریکی حکام کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں اسلام آباد کی جانب سے پہلے ہی امریکی سفیروں پر اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے، جس کے مطابق انہیں قبائلی علاقوں یا کراچی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ یہ پابندیاں نہیں ہیں بلکہ امریکی سفارتکاروں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات یقینی بنانا ہے جبکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھی اپنے سفیروں کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)، کراچی اور سیکیورٹی تحفظات والے حصوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ اگر امریکی سفارتخانہ ان علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہوتا ہے تو فاٹا اور دیگر علاقوں میں امریکی سفیروں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائی جاسکتی ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے یہ انتباہ ایک بڑے ویزا تنازع سے منسلک ہے کیونکہ گزشتہ ماہ پاکستان کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا تھا، جس میں شکایت کی گئی تھی کہ پاکستانی سفیروں کو 2 برس کا ویزا جاری ہوتا ہے جبکہ امریکی سفارتکاروں کو ایک سال کا ویزا ملتا ہے، جس کے باعث تین سالہ تعیناتی کی مدت میں انہیں ہر سال ویزے کی تجدید کرانی پڑتی ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ پاکستان دیگر امریکی حکام اور تاجروں کو ویزا جاری کرنے میں بھی کافی محدود رہتا ہے، ساتھ ہی خبر دار کیا تھا کہ پاکستانی حکام اور شہریوں کو بھی اس چیز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ملٹری اتاشی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے عدالت میں درخواست

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں کو زیادہ تر امریکا کا 5 سال کا ویزا دیا جاتا لیکن امریکی حکام اور تاجروں کو پاکستان کے لیے صرف سنگل انٹری ویزا دیا جاتا، جس کی مدت 3 ماہ ہوتی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا کی جانب سے پاکستانی حکام کے لیے قلیل مدتی ویزا شروع کیا گیا، یہاں تک کہ وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو اپنے حالیہ دورے کے دوران ایک ماہ کا ویزا جاری کیا گیا۔

اسی حوالے سے ڈان کو ملنی والی معلومات کے مطابق 5 برسوں سے زائد کے عرصے میں امریکا کی جانب سے 40 ہزار غیر تارکین وطن ویزا جاری کیے گئے جبکہ اسی دوران اسلام آباد نے 60 ہزار امریکیوں کو ویزے جاری کیے، تاہم ان ویزا میں سے 60 فیصد ویزا ایسے شہریوں کو جاری کیا گیا جو پاکستانی نژاد امریکی شہری تھے اور وہ یہاں اپنے اہل خانہ سے ملنے آئے تھے۔

زمرہ جات:  
ٹیگز:   پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)