مذہبی سلیبرٹیز کا دور

جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے میں قتل ہوا: سعودی عرب

وزیر خارجہ سے عراق کے سفیر کی ملاقات

’’12ووٹ چوری کرنے والا اسپیکر بنا ہوا ہے‘‘

جمال خاشقجی نے آخری کالم میں کیا لکھا؟

جمال خاشقجی کی جنگل میں تلاش

خاشقجی قتل اور یمن جنگی جرائم: امریکہ سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا

قندھار: گورنر زالمے، صوبائی پولیس چیف اور صوبائی انٹیلی جنس چیف ہلاک

ایران کے دشمن بھی ایران کی طاقت اور قدرت کے معترف ہیں

سعودی سرمایہ کاری کانفرنس: امریکا کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

افغان پالیسی بدلنے تک پاکستان پر دباؤ قائم رکھا جائے گا: امریکا

ایران کے خلاف پابندیوں کا امریکی ہتھکنڈہ اب اس کے ہاتھ سے نکل چکا: محمد جواد ظریف

پاکستان آسٹریلیا کیخلاف سیریز کی فتح سے5 وکٹ دور

غلط پالیسیاں، ظالمانہ اقدامات نیز خاشقجی کا قتل: بن سلمان کو برطرف کئے جانے کا مطالبہ

زندہ سعودی نامہ نگار خاشقجی کے ٹکڑے کرنے میں 7 منٹ لگے ...

فلسطینی فوٹو گرافر محمود الھمص کی لی گئی تصویر، بہترین تصویر قرار

بن سلمان اور اس کی ٹیم جنایت کاروں کی ٹیم ہے: حزب الله سربراہ

قندھار حملہ افغانستان میں امریکی ارادے پر اثر انداز نہیں ہوگا، جیمزمیٹس

برطانیہ: نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ وسیع

یورپ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل

خواجہ آصف کی اہلیت سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

امریکی خلا باز آنکھوں سے محروم ہونے والے ہیں؟

راولپنڈی جانیوالی جعفر ایکسپریس کے قریب دھماکا

عمار بن یاسر کی شہادت اور جنگ نہروان

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی فائرنگ‘ 4 کشمیری شہید

چینی سرمایہ کاری میں کمی سے ایف ڈی آئی میں 42 فیصد تنزلی

عالمی طاقتوں کا شرکت سے انکار، سعودی سرمایہ کاری کانفرنس خطرے میں پڑ گئی

قطری وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

سب سے بڑا ’ڈرامہ کوئین‘ کون؟

پراپرٹی ڈیلرزنے پورے ملک میں فساد برپا کیا ہوا ہے‘ چیف جسٹس

تھر کی صورت حال پر وزیر اعلیٰ کاہنگامی اجلاس کل طلب

توہین عدالت کیس، ایف آئی اےجسمانی ریمانڈ کے بعد فیصل رضاعابدی کو آج عدالت میں پیش کرے گی

6لیگی ایم پی ایز کا پنجاب اسمبلی میں داخلہ بند، دیگر کا دھرنا

پوپ فرانسس شمالی کوریا جائیں گے

کراچی میں رینجرز کی کارروائی‘ ملزم گرفتار

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ناقص دودھ سپلائی کیخلاف کریک ڈاؤن

عمرہ زائرین کو دوسرے سعودی شہر جانے کی اجازت

ننیوا عراق: شباک کمیونٹی کی اکثریت نے شیعہ ہونے کی قیمت کیسے چکائی؟ – فناک ویب سائٹ رپورٹ

امریکی وزیر خارجہ کی خاشقجی کے بارے میں محمد بن سلمان کو 72 گھنٹوں کی مہلت

عمران خان کی اہلیت کیخلاف حنیف عباسی کی نظرثانی درخواست مسترد

ابوظبہی ٹیسٹ،پاکستان کی پوزیشن مستحکم، بیٹنگ جاری

واٹس ایپ نے پیغامات ڈیلیٹ کرنے کے فیچر میں تبدیلی کردی

’تحریک انصاف اب تحریک انتقام بن چکی ہے‘

اس آسان نسخے کی مدد سے بیماریوں سے لڑنے کی طاقت میں اضافہ کریں

’ایسپرن سے جگر کے کینسر کے خدشات میں کمی واقع ہوسکتی ہے‘

سعودی سیکیورٹی ادارے دہائیوں سے شہریوں کو اغواء یا قتل کرنے کے حوالے سے بدنام: سابق سی آئی

مائیک پومپیو کے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے مذاکرات

جمال خاشقجی گمشدگی: آئی ایم ایف سربراہ کا مشرق وسطیٰ کا دورہ ملتوی

روس: کریمیا کے شہر کرچ میں دھماکے اور فائرنگ سے 18 ہلاک، 70 زخمی

افغانستان: بم حملے میں پارلیمانی انتخابات کے امیدوار سمیت 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

خاشقجی کو قتل کر کے ان کی لاش کے ٹکڑے کر دیئے گئے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

بن سلمان بلاواسطہ جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہے: گارڈین نیوز

جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعد سعودی عرب کے سفیر واشنگٹن سے فرار: واشنگٹن پوسٹ

جواد ظریف اور شاہ محمود قریشی کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر تاکید

اسرائیل کی شام میں ایرانی فورسز کے خلاف بھرپور کارروائی کی دھمکی

استنبول: سعودی عرب قونصلخانہ کے قونصل جنرل محمد العتیبی ترکی سے فرار

اہواز حملے کا ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ ابوضحی عراق میں ہلاک

دشمن کا منصوبہ ایران کی غلط تصویر پیش کرنا ہے:آیت اللہ سید علی خامنہ ای

’’آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کیلئے مددگار ثابت ہوگا‘‘

قطر کا پاکستان میں 'ویزا سینٹر' کھولنے کا اعلان

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ڈرون کی آزمائشی پرواز

اظہر علی مزاحیہ طریقے سے رن آؤٹ

’’پہلی بار احساس ہوا کہ ارب کیا ہوتا ہے‘‘

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی کا معاونِ خصوصی بننے سے انکار

’’کنیریا کو غلطی تسلیم کرنے کا مشورہ 6 سال پہلے دیا تھا‘‘

نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری

پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ، سرکار کی خالی زمینوں کو عوامی مفاد کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ

سابق وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کے وارنٹ گرفتاری جاری

’’دنیا میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے‘‘

زائرہ زبیدہ خانم کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف زہرانقوی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

پاک افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے: صدر مملکت

2018-04-13 12:10:03

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

muslim-990x556

سلیبریٹی celebrity انگریزی زبان میں آج کے دور کی ایک عوامی اصطلاح ہے جو ایسی مشہور زمانہ شخصیات کے لئے بولی جاتی ہے جو وسیع پیمانے پر میڈیا کے ذریعہ عوام کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ سلیبریٹی کی وجہ شہرت مختلف ہو سکتی ہے جیسے کھیل، گلوکاری، اداکاری، کامیڈی وغیرہ لیکن ہر طرح کی سلیبریٹی میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے دولت کی فروانی اور اس کی نمائش۔

 سلیبریٹی کو خوش قسمت لوگ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ  شہرت کی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کے چاہنے والوں کی کثرت ہوتی ہے اور یہی شہرت اور چاہنے والوں کی کثرت ان کی آمدن میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ اسی لئے کاروباری افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی سلیبرٹی کو اپنے اشتہار کی زینت بنائیں اور ان کے ذریعے اپنی پراڈکٹ کی مارکیٹ میں جگہ بنائیں۔

ہر کھلاڑی سلیبرٹی بن پاتا ہے اور نہ ہر اداکار و گلوکار اور نہ ہر مولوی۔ اس میں جہاں ذاتی کشش اور  خوش قسمتی کا ہاتھ ہے وہاں یقیناً کوئی خاص حربے بھی ہیں جو ایک پیشے سے وابستہ فرد کو سلیبرٹی کی منزل تک لے جاتے ہے۔ 

جدید دور میں سلیبرٹی بننے کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس نے سیاست اور مزہب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔  آج کامیاب سیاست دان وہ سمجھا جا رہا ہے تو سلیبرٹی بھی ہے بلکہ ایسا بھی ہو رہا ہے کہ کھیل، گلوکاری اور مزہبی ٹی وی پروگراموں کے ذریعے سلیبرٹی بننے والے کچھ لوگ سیاست میں وارد ہو رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان کی شہرت اور فین فولونگ Fan Following کے ذریعے اپنے ووٹوں میں اضافے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

سلیبرٹی بننے کی جدید دوڑ نے مذہبی راہنماؤں کو بھی نہیں بخشا اور آج ہم مذہبی سلیبرٹیز کی کثیر تعداد کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ واعظ و نصیحت بھی اس کی سنی جا رہی ہے جو سلیبرٹی ہے۔ مذہبی پروگرام چاہے ٹی وی میں ہو یا کسی مسجد و امام بارگاہ میں، منتظمین کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی مذہبی سلیبرٹی کو بلوایاجائے تاکہ ان کا پروگرام چل جائے۔ مذہبی سلیبرٹی واعظین پھر اپنی اس حیثیت کے مطابق بھاری معاوضے بھی وصول کرتے ہیں۔

 عوامی اور عمومی سطح پر مذہب کو چونکہ مقدس اور ریاکاری سے پاک تصور کیا جاتا ہے لہذا سلیبرٹی کے رجحان کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دیگر پیشوں کی طرح مذہبی سلیبرٹی بننا بھی کامیابی کی علامت بن گیا ہے۔

 اب چونکہ سلیبرٹی بننے کے کچھ تقاضے ہیں لہذا ان کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اچھے لباس کی نمائش، مخصوص جبہ قبہ پہننا، لمبی اور چمکدار داڑھیاں، پروٹوکول کا اظہار، چاہنے والوں کے جھرمٹ میں رہنا، متانت اور آہستگی کے ساتھ چلنا اور بات کرنا، میڈیا پر وقتا فوقتا موجود رہنا، انوکھی اور متنازع باتیں کرنا وغیرہ وہ ایسے تقاضے ہیں جو مذہبی سلیبرٹیز کو پورا کرنا پڑتے ہیں۔ اب تو یہ مذہبی سلیبرٹیز تشہیری مہم کا حصہ بھی بننے لگے ہیں۔ دیسی دوائیاں، مسواک و منجن، خیرات و زکوٰۃ جمع کرنے کے اشتہارات کے علاوہ حج، عمرہ اور زیارات کے قافلوں کے اشتہارات پر مذہبی سلیبرٹیز کی تصاویر نمایاں نظر آتی ہیں۔

یورپ کے حالیہ دورہ میں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ یہاں کے تقریباً تمام گرجا گھر، ویٹیکن سٹی سمیت ٹورسٹ پوائنٹ بن چکے ہیں یہاں تک کہ ان مذہبی اداروں کے ذرائع آمدن کا وسیع حصہ ان ٹورسٹ (زائرین) کے ٹکٹ اور امداد پر مشتمل ہوتا ہے۔ یوگا اور ہندو و سکھ روحانیت بھی یہاں مقبول ہے اور جا بجا ان مزہبی راہنماؤں کی تصاویر اور لیکچرز کے اشتہاری مہم بھی دیکھنے کو ملی۔ اس سب میں بھی سلیبرٹی بننے اور ہونے کی ذہنیت کار فرما نظر آئی کیونکہ اگر آپ سلیبرٹی نہیں ہوں گے تو کون آپ کے لیکچرز سننے کو آئے گا۔

سوشل میڈیا نے بھی مذہبی سلیبرٹی بننے کے خواہشمند راہنماؤں کا کام آسان کر دیا ہے اور اب ایسے افراد نے اپنی ایک مکمل سوشل میڈیا ٹیم بنائی ہوئی ہوتی ہے جو ان کی تقاریر کو مختلف کلپس میں بدل کر تشہیر کرتے ہیں اور ان کی تصاویر اور اقوال زریں کو نمایاں کرکے نشر کرتے ہیں اور اسے وقت کا تقاضا کہتے ہیں کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو گویا دین و مذہب کی تبلیغ رک جائے گی اور جو کچھ ہے وہ ان ہی کے دم سے قائم ہے۔

اس سارے رجحان کی وجہ نئے نسل کی سلیبرٹی پرستی کا مزاج ہے۔ آج ان لوگوں کو وہی شخص مزہبی کام کرتا نظر آتا ہے جو سلیبرٹی ہے۔ اپنے کردار و عمل سے، اپنی سادگی اور تقویٰ و پرہیزگاری سے وہ بھی اپنے قریہ اور محلے میں رہ کر  تبلیغ شاید اب خواب ہی رہ گیا ہے۔ خلاص بے معنی ہو گیا ہے اور ریاکاری عین دانشمندی۔ رمضان المبارک کے روزے بھی اب تو مزہبی سلیبرٹیز کے ساتھ ٹی وی پر گذر جاتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ شاید مساجد میں اعتکاف کی کامیابی کے لئے بھی کسی مذہبی سلیبرٹی کا اس مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کا اعلان کرنا پڑے۔ والله اعلم۔

مذہبی سلیبرٹیز کی اس نئی ثقافت کا منفی  اور سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہےکہ ہر مذہبی سلیبرٹی کے فینز (چاہنے والے) ایک دوسرے کے سامنے حریف کے طور پر آجاتے ہیں اور اپنے درمیان ایک مقابلے بازی شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے کو منافق، کافر، کاہل اور استعماری ایجنٹ کہنے سے بھی نہیں کتراتے۔ فٹ بال کے سلیبرٹی فینز اور مذہبی سلیبرٹیز کے فینز میں فرق تو ہوناچاہئیے۔ فٹ بال تو ایک کھیل ہے لیکن مذہب ایک ایسی سنجیدہ چیز ہے جس کا انسان کی آخرت سے تعلق ہے۔ اگرچہ جدید دور کے تقاضوں کو قبول کرنا چاہئیے اور اس کے مطابق ہی اپنی زندگی گذارنا چاہئیے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم یہ کس قیمت پر کر رہے ہیں۔

 

پروفیسر عالم شاہ

 

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

لالچ کو پھانسی دو

- ایکسپریس نیوز

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی