صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

شاہ محمود قریشی کی امریکی اور ترک صدور سے ملاقاتیں

عمران خان کا حالیہ بیان اور کراچی کے عوام میں تشویش کی لہر – محمد فیصل یونس ( Muhammad Faisal Younus )

سندھ میں بدعنوان افسران کا ڈیٹا تیار کر لیا گیا

یمن: اتحادی فورسزاور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں، درجنوں اتحادی ہلاک

شام میں روسی جنگی طیارے کی تباہی کے بعد ماسکو حکام کا بڑا فیصلہ

ادلب میں غیر عسکری علاقے سے شدت پسندوں کو نکالا جائے گا: ترک صدر

فلسطینوں کو8 روز میں گاؤں خان الا احمر خالی کرنے کی دھمکی

ہمیں ایک اورسرجیکل اسٹرائیک کی ضرورت ہے ،بھارتی آرمی چیف کی پھرہرزہ سرائی

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج طلب

پاکستان کویت سےبرادرانہ تعلقات کونہایت اہمیت دیتا ہے‘ شاہ محمود قریشی

لکی مروت: مدرسے میں آگ لگ گئ، شعلوں نے ایک درجن سے زائد دکانوں کو لپیٹ میں لے لیا

کراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار

ن لیگ اور پی پی ایک پلیٹ فارم سے ضمنی الیکشن لڑے، قمر زمان کائرہ

سلامتی کونسل میں امریکہ کی اسرائیل نوازی

فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ

یوم عاشور پردوران ڈیوٹی بھوکے بچوں کو اپنےحصےکا کھانا کھلانےوالے پولیس اہلکار کیلئے نقد انعام اور تعریفی اسناد

منی لانڈرنگ کیس: زرداری ،فریال تالپر عدالت میں پیش

ٹرمپ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے؟

سعودی عرب کے جنگي طیاروں کی الحدیدہ پر وحشیانہ بمباری

ایرانی عوام کی اہواز میں دہشتگردانہ حملے کے شہداء کی تشییع جنازہ میں بے نظیر شرکت

صدر حسن روحانی نیویارک پہنچ گئے

غرب اردن کی صورت حال دھماکہ خیز ہے، اسرائیلی فوج کا اعتراف

تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے ہوا میں قلعے تعمیر کیے، شہباز شریف

شعیب ملک ون ڈے میں زیادہ رنز بنانے والے 7ویں پاکستانی

انور مجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی کو جیل منتقل کرنے کا حکم

افغانستان، فراہ میں فضائی کارروائی، 46 دہشت گرد ہلاک

امام حسین ؑ کی عزادار مملکت پاکستان کا محرم

ایران ملک کی بگڑتی صورتحال کی وجوہات پر غور کرے، نکّی ہیلی

شام میں اسرائیلی حملے روسی مفاد کے خلاف ہیں، ماسکو کی اسرائیل کو تنبیہ

فوجی پریڈ پر حملہ، اماراتی شہری کے ٹویٹ پر ایران کی امارات کو دھمکی

شام: ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کی ڈیل شدت پسند گروہوں نے مسترد کردی

ترک جرمن تعلقات میں کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے رجب طیب اردوگان کا اہم دورہ

سوئٹزر لینڈ میں خواتین کے برقع پہننے پر پابندی، فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہوا

بھارت، باغیوں کے حملے میں رکن اسمبلی سمیت دو سیاسی رہنماء ہلاک

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا بڑا آپریشن، گھر گھر تلاشی

میکسیکو: کرپشن کے خلاف رپورٹنگ پر صحافی قتل

پادریوں کی تعیناتی کیلئے چین، ویٹی کن سٹی تاریخی معاہدے پر متفق

’’مودی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سےتوجہ ہٹانا چاہتے ہیں‘‘

فوجی پریڈ حملے میں امریکی اتحادی خلیجی ریاستیں ملوث ہیں، ایران

امریکہ نے محمود عباس کو اب تک ویزا نہیں دیا

تیرہ محرم کے اہم واقعات

بحرین میں حکومت مخالفین کی جاسوسی صہیونی سافٹ ویئر سے ہو رہی ہے : سیٹیزن لیب

کویت سے تعلق رکھنے والے 15 داعشیوں کا ادلب میں پھنس جانے کا انکشاف

اڈیالہ جیل میں حنیف عباسی کی تصویر سے متعلق تحقیقات مکمل، چھوٹے اہلکار قصور وار قرار

اہواز دہشتگردانہ حملے کے خلاف یوم سوگ

نیا بلدیاتی نظام 48 گھنٹے میں، سرکاری ریکارڈ جلنے کے واقعات کی تحقیقات جے آئی ٹی کرے گی، منتخب نمائندوں کا بھی احتساب ہوگا، وزیراعظم عمران خان

’’جعلی بینک اکاؤنٹس پر آگاہ کئے بغیر حکم جاری نہ کیا جائے‘‘

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، سیلاب کا خدشہ

نوازشریف کی 3 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

انسداد پولیو مہم آج سے ملک بھر میں شروع ہورہی ہے

خیرپورمیں پولیس کا سرچ آپریشن‘ 2 ڈاکوؤں سمیت 8 ملزمان گرفتار

عمران خان کیخلاف نااہلی کی درخواست، سپریم کورٹ نے خارج کردی

ایشیا کپ سپر فور،پاکستان کی بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ

شمالی وزیرستان میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ، آرمی چیف کی شرکت

حالات کشیدہ ہونےکےباوجود پاکستان کرتار پور بارڈر کھولنے کو تیار‘ فواد چوہدری

گرمی کی لہر کے پیش نظر وزیراعلیٰ سندھ کےاحکامات

بھارت کی جانب سے ستلج، راوی اورچناب میں پانی چھوڑے جانے کا امکان

بھارت کچھ کرے توسہی اس کو صحیح سبق سکھایا جائے گا‘ پرویز مشرف

عمران خان بانیان پاکستان کے خواب کو تعبیردے رہے ہیں ‘ وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعظم عمران خان لاہور پہنچ گئے

بارہ محرم کے اہم واقعات

مصر میں شیعہ مسلمانوں کو یوم عاشور منانے نہیں دیا گیا

پیوٹن کا اسرائیلی ایئرفورس چیف سے نہ ملنے کا عزم

برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ

الیکشن بائیکاٹ کے علاوہ بھارت کو اپنی بات سنانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تھا، عمر عبداللہ

چین نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات منسوخ کر دیئے

روسی صدر کی اہواز میں فوجی پریڈ پر دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت

افغانستان میں بم دھماکہ، 8 بچے جاں بحق اور 6 زخمی

تنزانیہ: جھیل میں کشتی الٹ گئی، 100 سے زائد افراد ہلاک

بھارت کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے تک مذاکرات نہیں کرے گا، تجزیہ کار

2018-04-20 20:37:00

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

d12208b286d8caa697a0d385efda3a5e_XL

 ابھی ذیشان اشرف بٹ کا خون تازہ ہے، مقتول صحافی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا کہ شیخوپورہ میں سیوریج کے منصوبے میں مبینہ طور پر غیر معیاری مواد استعمال ہونے کی کوریج کرنے والے ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر مقامی جنرل کونسلر کے دفتر میں بند بھی کردیا گیا۔ ڈان نیوز کے مطابق  شیخوپورہ پریس کلب کو شکایتی خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گَھنگ روڈ کا سیوریج نظام تباہ ہوچکا ہے، جبکہ جنرل کونسلر کی ہدایات پر شہر کے چند علاقوں میں ہونے والے ترقیاتی کام میں استعمال ہونے والا مواد غیر معیاری ہے۔ جب رپورٹر اور ان کی ٹیم گھنگ روڈ پہنچی اور فوٹیج ریکارڈ کرنا شروع کی تو کونسلر رائے محمد خان اپنے عملے کے ہمراہ وہاں پہنچے اورصحافیوں پر تشدد شروع کر دیا کیمرہ مین اپنی جان بچاتے ہوئے جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا جبکہ کونسلر ،بلال شیخ کا موبائل فون چھین کر انہیں گاڑی میں اپنے ڈیرے (دفتر) لے گئے۔ڈیرے پر بھی ڈان نیوز کے رپورٹر پر گنے سے تشدد کیا گیا اور بلدیاتی چیئرمین امجد لطیف شیخ کے دفتر میں محصور کر دیا گیا۔

یہ اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ بولنے کی قیمت ہے ، یہ بے لاگ صحافت کا اجر ہے، یہ حق اور حقیقت کی خاطر قلم اٹھانے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جب صحافی حضرات کے ساتھ یہ برتاو ہو رہا ہے تو آپ خود اندازہ کیجئے کہ  عام عوام کے ساتھ مختلف اداروں میں  کیسا  سلوک کیا جا رہا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر تشدد اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں صحافیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سال ۲۰۱۷ سے لے کر اب تک ان گنت صحافیوں کو ملک کے اطراف و کنار میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس تشدد کے جواب میں  بعض اوقات چند روز احتجاجی جلسےجلوس ہوتے ہیں اور پھر معاملہ ٹھپ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ اب رکنے میں نہیں آتا۔

صحافیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اب ایک منظم احتجاج کی ضرورت ہے۔دوسری طرف یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ایک انسان کی زندگی کے لئے جس طرح ہوا اور پانی  کی ضرورت ہے اسی طرح ایک معاشرے کی زندگی کے لئےآزادی رائے، آزادی صحافت ،جمہوریت اور انسانی حقوق  کی ضرورت ہے۔اگر معاشرے میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا، صحافیوں کو گولیاں ماری جائیں گی، انہیں اغوا کیا جائے گا اور ان پر تشدد کیا جائے گا تو ایسے معاشرے سے زندگی کی رمق بھی ختم ہو جائے گی۔ پاکستان میں آزادی رائے کوایک منظم لابی مسلسل کچل رہی ہے۔ عصرِ حاضر کے فرعون معاشرے کو غلام رکھنے کے لئے معاشرے کی اجتماعی سوچ کو مسل رہے ہیں، معاشرتی ڈکٹیٹر  ایک طرف تو معاشرے میں کرپشن اور دیگر  برائیوں کو خود رواج دیتے ہیں اور  دوسری طرف اگر کوئی صحافی ان کی نقاب کشائی کرتا ہے تو جواب میں کہتے ہیں کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے۔

 سارے معاشرے کو برا کہنا درا اصل برے لوگوں کو بچانے کی  ایک عمدہ چال ہے۔ ہمارے ہاں کچھ چالاک لوگوں نے عوام  کو سیاسی  بصیرت ، معاشرتی  رواداری ا ور اخلاقی اقدار کے بجائے  نعروں، ووٹوں اور سیٹوں کے پیچھے لگا رکھا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو عوامی رائے اور اپنے حقوق کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکشن ہوجانے کا نام ہی  جمہوریت اور ووٹ ڈالنے کا نام  ہی آزادی رائے ہے۔  لوگوں کو ذہنی طور پر اتنا محدود اور چھوٹا کر دیا گیا ہے کہ وہ حق اور سچ  کہنے کے بجائے، پارٹیوں ، برادریوں ، مسالک اور شخصیات کی پرستش کرتے ہیں۔لوگ الیکشن میں بھی ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو انسانوں سے زیادہ اپنے کتوں سے پیار کرتے ہیں اور جو انسانیت اور شرافت کے بجائے بدمعاشی اور دھونس پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے پڑھے لکھے اور دانشمند طبقے کو اس حقیقت کو سمجھنے اور آگے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کبھی بھی ایک منظم لشکر اور مرتب سوچ یعنی ایک مستقل لابی کا مقابلہ ایک پراگندہ لشکر اور منتشر سوچ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ الیکشن میں زیادہ سیٹیں لینے اور زیادہ

ووٹ لینے سے کسی کی انسانیت ، آدمیت اور شرافت میں اضافہ نہیں ہو جاتا، بلکہ  معاشرے میں انسانیت، آدمیت اور شرافت کی حاکمیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام مسائل  میں فاسق و فاجر لوگوں کی مخالفت کریں ۔ جولوگ اپنے ،ماں باپ ، اپنے ہمسایوں اور اپنے عزیزو اقارب سے زیادہ اپنے کتوں اور پالتو  بدمعاشوں سے محبت کرتے ہیں وہ ہمیں کیا جمہوری اقدار سکھائیں گے اور ہمارے ساتھ کیا بھلائی کریں گے اور وہ ہمیں کیا آزادی رائے دیں گے! عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ عوام خود اپنے ساتھ بھلائی کرے، بھلے اور نیک  لوگوں کا ساتھ دے اور بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھنے سے قطعاً نہ کترائے۔ ہاں اس راستے میں ذیشان اشرف بٹ کی طرح ہماری جان بھی جا سکتی ہے اور  بلال شیخ کی طرح  کسی کو اغوا کر کے اس  پر تشدد بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے راستے میں جولوگ ڈٹ جاتے ہیں وہی تاریک راتوں میں روشنی کے ستارے بن کر چمکتے ہیں اور جو بِک یا ڈر جاتے ہیں وہ اپنے پیچھے سیاہ رات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

آج بحیثیت قوم ہمارے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو قوم کو مغرب کی طرز پر معاشرتی آزادی، آزادی رائے اور آزادی صحافت دینے کے دعوے کرتے ہیں جبکہ عملا ً عوام کو مصر کے فرعونوں  کی نگاہ سے دیکھتے ہیں  اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو عوام کی دینی رہبری اور قیادت کے دعویدار ہیں لیکن  معاشرے میں آزادی رائے اور آزادی صحافت کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ لوگوں کے خون سے لا تعلق رہتے ہیں۔ اب ملک ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاں ہم نے خود ہی اپنے معاشرے کی زندگی یا موت کا فیصلہ کرنا ہے،ہمارے دانشمند حضرات خواہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوں یا دینی مدارس سے ، انہیں اپنے ملک میں معاشرتی آزادی، سماجی عدالت، عوامی حقوق اور رائے عامہ کی آزادی کے حوالے سے سکوت اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

خصوصاً اگر دینی اداروں کے دانشمند معاشرے کی تعریف، معاشرتی آزادی، اظہارِ رائے ، رائے عامہ اور صحافت کے خدوخال کو علمی و عملی قالب میں عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے اور ملی آزادی اور اظہار رائے کا تحفظ نہیں کریں گے تو رائے عامہ خود بخود غیروں کے آگے مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ دینی اداروں کو چاہیے کہ آزادی صحافت کو وہ بھی اپنا مسئلہ سمجھیں اور صحافیوں کے بہنے والے خونِ ناحق  کا نوٹس لیں، جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر لڑنے والے اس قوم کے مجاہد ہیں اسی طرح اس ملک میں کرپشن، بدعنوانی ، فراڈ اور دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے والے صحافی بھی عظیم مجاہد ہیں۔لہذا دینی حلقوں کی طرف سے صحافیوں پر ہونے والے تشدد پر خاموشی بلاجواز ہے۔

آئیے وطن عزیز سے کرپشن اور بدعنوانی کی سیاہ رات کے خاتمے اور آزادی رائے کی خاطر قربانیاں دینے والے صحافیوں کے حق میں ہر پلیٹ فارم سے  آواز بلند کریں اور  متحد ہوکر حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ وہ  صحافیوں پر تشدد اور حملے کرنے والے مجرمین کو قرار واقعی سزا ئیں دے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرہ تو زندہ ہو لیکن صحافت مردہ ہو، ہمیں اس معاشرے میں صحافت کو زندہ رکھنے کے لئے  عوام و خواص کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی ہوگی اور تمام پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو معاشرتی دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔یاد رکھئے !صحافت معاشرے کا دل اور دماغ ہے، صحافت زندہ رہے گی تو معاشرہ بھی زندہ رہے گا۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
ٹیگز:   صحافت ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

افکار و نظریات

- سحر نیوز

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

جام جم - 25 ستمبر

- سحر نیوز