دو مجرم طبقے از نذر حافی

خاشقجی کے دو مشتبہ قاتلوں کی نئی تصاویر منظرعام پر

پاکستان کیلئےکھیلوں کی دنیا سےایک اوراعزاز

سعودی صحافی بہیمانہ قتل:خطیب جمعہ تہران کا سعودی عرب کے سنگین اور مجرمانہ جرائم کی طرف اشارہ

عرب علاقوں پر صیہونی قبضہ علاقے میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ: بشار جعفری

شیعہ سعودی شہری انتہائی سخت حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں: ہیومن رائٹس

اسرائیل، فلسطینی قصبے "الخان الاحمر” کی مسماری سے باز رہے: عالمی عدالت

غزہ واپسی مارچ: دو سو سے زائد فلسطینی شہید، بائیس ہزار سے زائد زخمی

سعودی عرب: شیعہ نشین شہر قطیف پر حملہ سعودی بربریت کا ثبوت

امام مسجد کی نشاندہی پر 37 برس بعد کعبے کا رخ ٹھیک کردیا گیا

شام کی صورت حال سے کیسے نمٹیں؟ ترکی نے اہم اجلاس طلب کرلیا

سعودی وضاحت قابل اعتبار ہے،ٹرمپ

جمال خشوگی… کیا کہیں؟

کابل : پولنگ اسٹیشن کے قریب 2 دھماکے ، متعدد افراد زخمی

پاکستان ہرفورم پرکشمیریوں کی جدوجہد کواجاگر کرتا رہے گا‘ فواد چوہدری

افغان انتخابات، اشرف غنی نے ووٹ ڈالا

جمال خاشقجی: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟

’’ریلوے میں بھرتیوں سمیت ہر کام قانون کے تحت ہوگا‘‘

نہال ہاشمی کے فوج کے حوالے سے متنازع بیان پر پیمرا کا نوٹس

عباس ٹیسٹ کرکٹ میں گزشتہ 100سال کے بہترین باؤلر

بھارت میں ٹرین حادثے پر وزیراعظم کا افسوس

حکومتی اخراجات کا بوجھ شہریوں پرڈالاجا رہا ہے‘ نیئربخاری

خاشقجی بحران: محمد بن سلمان پر کیا اثر پڑے گا؟

غزہ میں پُرامن فلسطینی مظاہرین کا خون بہایا جا رہا ہے‘ ملیحہ لودھی

ایک اور ڈیم سے دریائے سندھ کا گلا گُھٹ جائے گا؟

’’ ہر کام میرٹ پر کیا اور کریں گے‘‘

پاکستان کے مختلف علاقوں میں 5.3 شدت کا زلزلہ

کوئٹہ میں سردی، شہریوں نے گرم کپڑے نکال لیے

’جمال خاشقجی کی موت قونصل خانے میں لڑائی کے بعد ہوئی‘

آرمی چیف سے قطری وزیرخارجہ کی ملاقات

جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے میں قتل ہوا: سعودی عرب

وزیر خارجہ سے عراق کے سفیر کی ملاقات

’’12ووٹ چوری کرنے والا اسپیکر بنا ہوا ہے‘‘

جمال خاشقجی نے آخری کالم میں کیا لکھا؟

جمال خاشقجی کی جنگل میں تلاش

خاشقجی قتل اور یمن جنگی جرائم: امریکہ سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا

قندھار: گورنر زالمے، صوبائی پولیس چیف اور صوبائی انٹیلی جنس چیف ہلاک

ایران کے دشمن بھی ایران کی طاقت اور قدرت کے معترف ہیں

سعودی سرمایہ کاری کانفرنس: امریکا کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

افغان پالیسی بدلنے تک پاکستان پر دباؤ قائم رکھا جائے گا: امریکا

ایران کے خلاف پابندیوں کا امریکی ہتھکنڈہ اب اس کے ہاتھ سے نکل چکا: محمد جواد ظریف

پاکستان آسٹریلیا کیخلاف سیریز کی فتح سے5 وکٹ دور

غلط پالیسیاں، ظالمانہ اقدامات نیز خاشقجی کا قتل: بن سلمان کو برطرف کئے جانے کا مطالبہ

زندہ سعودی نامہ نگار خاشقجی کے ٹکڑے کرنے میں 7 منٹ لگے ...

فلسطینی فوٹو گرافر محمود الھمص کی لی گئی تصویر، بہترین تصویر قرار

بن سلمان اور اس کی ٹیم جنایت کاروں کی ٹیم ہے: حزب الله سربراہ

قندھار حملہ افغانستان میں امریکی ارادے پر اثر انداز نہیں ہوگا، جیمزمیٹس

برطانیہ: نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ وسیع

یورپ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل

خواجہ آصف کی اہلیت سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

امریکی خلا باز آنکھوں سے محروم ہونے والے ہیں؟

راولپنڈی جانیوالی جعفر ایکسپریس کے قریب دھماکا

عمار بن یاسر کی شہادت اور جنگ نہروان

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی فائرنگ‘ 4 کشمیری شہید

چینی سرمایہ کاری میں کمی سے ایف ڈی آئی میں 42 فیصد تنزلی

عالمی طاقتوں کا شرکت سے انکار، سعودی سرمایہ کاری کانفرنس خطرے میں پڑ گئی

قطری وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

سب سے بڑا ’ڈرامہ کوئین‘ کون؟

پراپرٹی ڈیلرزنے پورے ملک میں فساد برپا کیا ہوا ہے‘ چیف جسٹس

تھر کی صورت حال پر وزیر اعلیٰ کاہنگامی اجلاس کل طلب

توہین عدالت کیس، ایف آئی اےجسمانی ریمانڈ کے بعد فیصل رضاعابدی کو آج عدالت میں پیش کرے گی

6لیگی ایم پی ایز کا پنجاب اسمبلی میں داخلہ بند، دیگر کا دھرنا

پوپ فرانسس شمالی کوریا جائیں گے

کراچی میں رینجرز کی کارروائی‘ ملزم گرفتار

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ناقص دودھ سپلائی کیخلاف کریک ڈاؤن

عمرہ زائرین کو دوسرے سعودی شہر جانے کی اجازت

ننیوا عراق: شباک کمیونٹی کی اکثریت نے شیعہ ہونے کی قیمت کیسے چکائی؟ – فناک ویب سائٹ رپورٹ

امریکی وزیر خارجہ کی خاشقجی کے بارے میں محمد بن سلمان کو 72 گھنٹوں کی مہلت

عمران خان کی اہلیت کیخلاف حنیف عباسی کی نظرثانی درخواست مسترد

ابوظبہی ٹیسٹ،پاکستان کی پوزیشن مستحکم، بیٹنگ جاری

واٹس ایپ نے پیغامات ڈیلیٹ کرنے کے فیچر میں تبدیلی کردی

2018-05-28 10:39:01

دو مجرم طبقے از نذر حافی

Nazar-Hafi111

بزرگ ہونا اور بزرگ تراشنا دو مختلف چیزیں ہیں، سب لوگ اپنے بزرگوں سے عقیدت رکھتے ہیں ، بزرگ لوگ کسی بھی خاندان ، قوم  اور قبیلے کی آبرو ہوتے ہیں۔ بزرگ جو کہتے ہیں وہی جوانوں کے لئے  آئین اور قانون بن جاتا ہے،چنانچہ  جوانوں کی نسبت بزرگوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔   یہ تو طے شدہ بات ہے کہ کمان سے نکلے ہوے تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات  کی واپسی محال ہے۔البتہ اگر کبھی کسی بزرگ شخصیت سے کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو ان کے شایانِ شان نہ ہوتو اس کے ازالے کی کوشش کرنا عین دانشمندی ہے۔

دوطرح کے لوگ ایسے ہیں جو کسی کی غلطی کا ازالہ نہیں ہونے دیتے خصوصا اگر کسی بزرگ شخصیت سے غلطی ہوجائے تو اُس کے ازالے اور تلافی کے لئے سوچنے کو گناہ سمجھتے ہیں اور یوں غلطی پر غلطی کرنے کا زمینہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ  دوطرح کے لوگ ایک خوشامدی قصیدہ گو اور دوسرے ماہر رفوگر ہیں ۔خوشامدی قصیدہ گو حضرات اپنے بزرگوں کی باتوں پر صرف واہ واہ کرتے ہیں اور عوام کو تجزیہ و تحلیل نہیں کرنے دیتے ، وہ چاہتے ہیں کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر ہی بزرگوں کی باتوں پر  واہ واہ ہی کرتے جائیں اور کوئی سوال و جواب یا  تجزیہ و تحلیل نہ ہو، وہ ایک ایسا ماحول بناتے ہیں کہ جس میں لوگ سوچنا  اور پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں،  لوگ  صرف  بزرگوں کی باتیں سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔

یہ جو کچھ لکھتے ہیں اس میں صرف واہ واہ ہوتی ہے ، ان کی تحریروں میں کہیں نظریاتی  تقابل یا  حقائق و واقعات کا موازنہ نہیں ہوتا،یہ سوچنے اور پوچھنے والوں کو بے ادب، گستاخ، نااہل، جاہل، ان پڑھ  اور کبھی کبھی گمراہ ، مشرک و کافر تک کہہ دیتے ہیں۔

ان کا شعبہ ہی خوشامد ، قصیدہ گوئی اور قصیدہ نگاری ہے، غلطی جتنی بڑی ہوگی یہ اتنا ہی لمبا قصیدہ لکھیں گے ، حتیٰ کہ اگر کوئی بزرگ شخصیت مڑ کر اپنی بات کی تصحیح  کرنا بھی چاہے تو یہ قصیدہ گو حضرات اس کی گنجائش نہیں چھوڑتے ، اس طرح کی متعدد مثالیں میرے اور آپ کے سامنے موجود ہیں۔

مثلا میاں نواز شریف  نے جو کچھ کہا اور جو کچھ کیا ، وہ سب کے سامنے ہے لیکن ان کے قصیدہ خوانوں کی زبانیں مسلسل قصیدہ خوانی میں مشغول ہیں۔

دوسرا گروہ رفوگر حضرات  کا ہے، رفوگری یوں تو پھٹے ہوئے کپڑے کو ٹانکا لگانے کا فن ہے ، لیکن اب یہ  بزرگ شخصیات کے کلام سے پیدا ہونے والے خلا کو پُرکرنے کا فن ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی کسی بزرگ شخصیت کی سبقتِ لسانی سے کوئی خلافِ توقع بات نکلتی ہے تو یہ رفوگروں کا لشکر کاغذ پنسل لے کر تاویلیں کرنے بیٹھ جاتا ہے اوراتنے خوبصورت ٹانکے لگاتا ہے کہ خود وہ بزرگ بھی حیران ہوجاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے کہا کہ کل صبح میں نے ایک ہرن کو گولی ماری جوایک  ہی وقت میں  اس کی ٹانگ اور سر کو لگی۔اس پر قصیدہ گو حضرات نے واہ واہ کرکے کے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ البتہ کسی گستاخ درباری نے  اٹھ کر اعتراض کر دیا۔ قصیدہ گو حضرات قصیدے تو  پڑھتے رہے کہ ظلِ الٰہی ماہر نشانہ باز ہیں لیکن دلیل نہیں دے سکے ، چنانچہ بادشاہ نے ایک وزیر کی طرف اشارہ کیا جو رفوگری کا ماہر تھا۔ اس نے اٹھ کر کہا کہ بات در اصل یہ ہے کہ اس وقت ہرن ٹانگ کے ساتھ سر کو کھجلا رہا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ پھر دربار واہ واہ سے گونج اٹھا۔

آج آپ دیکھ لیں وہ عمران خان ہوں یا نواز شریف یا کوئی اور سب کو قصیدہ گووں اور رفوگروں نے گھیر رکھا ہے۔ یہی دو طبقے اس ملت کی بدحالی کے مجرم ہیں۔یہ عوام کو تحقیق، باز پرس اور سوال و جواب نہیں کرنے دیتے اور اسی سے قوموں میں عقب ماندگی، اندھی عقیدت، ذہنی پسماندگی اور بے شعوری جنم لیتی ہے۔

 

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)