کیا انتخابی حلف نامے نا اہلی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں؟

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جاسکتا: وزیراعظم عمران خان

’جو بچے یہاں پیدا ہوئے پاکستانی شہریت ان کا حق‘

بعض مسلم حکمراں امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کرکے اسلام کے خلاف کھلی سازش کررہے ہیں

عزاداری اور ماتم پر ہونے والےاعترضات اور انکے علمی جوابات

سات محرم کی تاریخ

وزیربلدیات سندھ کا مختلف دفاتر کا دورہ، افسران سے باز پرس

لاہور ہائی کورٹ کا حمزہ شہباز کے گھر کے باہر رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے کا حکم

نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس، راجہ پرویزاشرف اور بابراعوان کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

فرانس کے بعد یونان میں بھی ایرانی سفارت خانے پر حملہ

نجی اسکولوں سے متعلق کیسز کو یکجا کرنے کا فیصلہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم کمانڈر افغانستان میں مارا گیا

ترک اور روسی صدور کے درمیان ملاقات، شام میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق

تجارتی جنگ میں شدت: امریکا نے چین پر200 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کردیے

فلسطینی سفیر کو ملک چھوڑنے کا امریکی حکم

ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کوامریکہ کی دھمکی

دہشت گردوں نے کلورین گیس ادلب منتقل کر دی، روس

بھوک ہڑتالی فرانسیسی کارکن کا اسرائیلی جیل سے رہائی سے انکار

دشمنوں کو جدید ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اسرائیلی وزیر اعظم

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام یمنی ارکان پارلیمینٹ کا خط

انکار کس کا، کس کو؟ انکار کس وقت اور کیوں؟

افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے‘ ملیحہ لودھی

جنوبی کوریا کے صدر شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے

فروری میں کثیرالملکی فوجی مشقیں ہوں گی، ایڈمرل ظفر محمود عباسی

امریکی سینیٹ کمیٹی میں جج اور ان پر الزم لگانے والی پروفیسر کی طلبی

پاراچنار، شب ساتویں محرم جلوس عزا مرکزی امام بارگاہ سے برآمد

وزیراعظم آج پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب جائیں گے

ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا ہے، سربراہ آئی اے ای اے

اے لشکر یزید! یہ آگ میرے اور تمہارے مشترکہ دشمن کی بھڑکائی ہوئی ہے: امام حسین(ع)

لندن میں یوم عاشورا کا جلوس جمعرات کو منعقد ہو گا

6 محرم الحرام کے تاریخی واقعات

امریکا میں نماز کی وجہ سے برطرف 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ

امریکہ امن مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو قیدیوں کا تبادلہ کر لے، افغان طالبان

دنیا کی کوئی طاقت اسلامی مزاحمت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،حزب اللہ

کھنڈر بنا ہوا غزہ کا ہوائی اڈہ

ازبکستان: ہزاروں مزاروں کی سرزمین

امریکا، غیر ملکی افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

جنوبی کوریا کے سربراہ آئندہ ہفتے کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے

مودی ’سنیاسی‘ بننا چاہتے تھے لیکن کیوں؟

فرانس میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ، ایران کی شدید مذمت

امریکا نے فلسطینیوں کی امداد میں مزید کمی کر دی

6 نوجوانوں کی شہادت، لاش گھسیٹنے پر مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

طوفان منگ کھٹ چین کے ساحلوں سے ٹکرا گیا

سندھ اسمبلی، آج آئندہ 9 ماہ کیلئے بجٹ منظورہوگا

جے آئی ٹی کے والیم 10 سے متعلق سوال پرنیب پراسیکیوٹرکا اعتراض

میانوالی میں ٹرین حادثے کے بعد ٹریک کی بحالی کا کام جاری

ادارہ امراض قلب کے چیف ایگزیکٹو نیب دفتر میں پیش

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس: چیف جسٹس نےوزیراعلیٰ پنجاب کوطلب کرلیا

سندھ حکومت معذوربچےکا بیرون ملک علاج کرائے گی‘ مراد علی شاہ

مینگورہ میں پی ٹی آئی ایم پی اے کا چالان

’’آئی جی کلیم امام اپنے بیج اتار دیں‘‘

نواز شریف، مریم اور صفدر کی پرول پر رہائی کا آخری دن

تصاویر: برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں جلوس عزا

شامی فوج کے حملے میں جبہت النصرہ کا سرغنہ ابو عمر ہلاک

ایران دشمنوں کے سامنے ہرگز نہیں جھک سکتا، بریگیڈیر جنرل حسین سلامی

داعش پر فتح نے عراق کو سربلند کر دیا، حیدر العبادی

عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی نے سامرا میں داعش کی سازش ناکام بنا دی

’’کسی کو مادر پدر آزادی نہیں دے سکتے‘‘

ترکی: برطانیہ کے سابق فوجی اہلکار کو قید کی سزا

شامی فوج کے حملے میں جبہت النصرہ کا سرغنہ ابو عمر ہلاک

میانمار: آنگ سان سوچی کا روئٹرز کے دو صحافیوں کو قید کی سزا کا دفاع

امریکہ شام میں القاعدہ کا اہم اسپانسر ہے: امریکی تجزیہ کار

امریکہ قطر کے بحران کو حل کرنے پر قادر نہیں:ریچارڈ مورفی

امریکہ کا شمالی کوریا کے خلاف بحری اتحاد تشکیل دینے کا اعلان

افغان ملٹری کا طیارہ گر کر تباہ، 4 اہلکار ہلاک

حضرت امام حسین (ع) کی تعلیمات افادیت کی حامل ہیں ،بھارتی وزیر اعظم

اسرائیلی پابندیاں،فلسطینی بے روزگاری میں سب سے آگے: یو این

’صبرا وشاتیلا‘ میں قتل عام کے مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے: حماس

سمندر طوفان مینگ کھٹ فلپائن کے بعد ہانگ کانگ پہنچ گیا

گوجرہ میں ٹریفک حادثہ‘ 2 افراد جاں بحق

2018-06-09 10:56:44

کیا انتخابی حلف نامے نا اہلی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں؟

SC

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے نئے حلف نامے کے اجراء پر سیاست دانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حلف ناموں کو جواز بنا کر مستقبل میں سیاست دانوں کو نا اہل کیا جا سکتا ہے۔

ان حلف ناموں میں انتخابات لڑنے والے سیاست دانوں سے ان کی جائیداد، قرضہ، نادہندگی، بیرونی دورے، ٹیلی فون، گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی، ازواج اور بچوں کی تعداد، اپنے اور گھر والوں کے کاروبار کی تفصیلات، پاسپورٹ نمبر، نیشنل ٹیکس نمبر، تعلیمی قابلیت، ذرائع آمدنی اور انکم ٹیکس کی ادائیگیوں سمیت کئی طرح کی تفصیلات مانگی گئیں ہیں۔

بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ حلف نامے نادیدہ قوتوں کے اشارے پر تیار کیے گئے ہیں تاکہ ان کونا پسندیدہ  سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس حلف نامے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ برائے پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو نے میڈیا کو بتایا، ’’ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں اور ہمارے خیال میں ان حلف ناموں کو مستقبل میں سیاست دانوں کو نا اہل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ حلف نامے الیکشن کمیشن کی بد نیتی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ انہوں نے خود نہیں بنائے بلکہ نادیدہ قوتوں نے بنا کر انہیں دیے ہیں۔ اگر ای سی پی کی کوئی بدنیتی نہیں ہے تو پہلے اس طرح کے حلف نامے ججوں، جنرلوں اور نوکر شاہی کے افسران سے بھروائے۔ میرے خیال میں ساری سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے پر متفقہ موقف اپنانا چاہیے۔”

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس حلف نامے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق ایم این اے چوہدری منظور نے اس مسئلے پر اپنا نقطہء نظر دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مجھے ذاتی طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ اس حلف نامے کو سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اگر یہ حلف نامہ ضروری ہے تو سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ جر نیلوں، ججوں اور نوکر شاہی کے افسران سے بھی پوچھیں کہ ان کے پاس منصب سنبھالنے سے پہلے کتنی دولت تھی اور بعد میں کتنی ہے۔‘‘ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس تاثر کو رد کیا گیا ہے کہ یہ حلف نامے کسی بیرونی قوت کے کہنے پر بنائے گئے ہیں۔ ای سی پی کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے پہلے ای سی پی نے حلف نامے میں دیے گئے سوالات کو کاغذاتِ نامزدگی میں رکھا تھا۔ پھر پارلیمنٹ نے دوہزار سترہ میں ان کاغذات میں تبدیلی کر دی، ان تبدیلیوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ نے ان ترامیم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حلف نامے تیار کیے جائیں کیونکہ کاغذاتِ نامزدگی کو دوبارہ چھاپنے کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ تو ہم نے تو صرف عدالت کے حکم پر عمل کیا ہے اور یہ کام کسی کے اشارے پر نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں میں سیاست دانوں پر بد عنوانی کے سینکڑوں الزامات لگے۔ اسی لیے ملک میں کئی حلقے اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ عوامی نمائندوں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ سیاست دانوں کی جانب سے بھی اس سلسلے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ معروف سیاست دان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے وزیرِ خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے ای سی پی کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے: ’’میر ے خیال میں اس طرح کے اقدامات سے کرپشن کو روکنے میں مدد ملے گی۔ سیاست دانوں کا ان حلف ناموں پر اعتراض بالکل نا مناسب ہے۔ اگر آپ کو سیاست میں حصہ لینا ہے تو آپ کو احتساب کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی اسحاق ڈار کی شکل میں خود بھی ملک کی دولت لوٹے اور دوسرے کو بھی یہ موقع فراہم کرے کہ وہ ایسا کریں۔‘‘

 

 

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)