کیا انتخابی حلف نامے نا اہلی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں؟

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

کیا مسلم لیگ ن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟

عید فطر کا دن، خدا کی عبادت اور اس سے تقرب کا دن 

پھانسی دے دیں یا جیل بھیجیں

شفقنا خصوصی: بھاڑے کے ٹٹو اور پاک فوج

افغانستان میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی، مصنوعی تنفس پر منتقل

سعودی عرب کی کھوکھلی دھمکیاں

ایم ایم اے اور اورنگزیب فاروقی کے مابین خفیہ ڈیل کیا ہے؟

ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک کون لایا تھا: ایک خصوصی تحریر

غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

آج سے موبائل بیلنس پر ٹیکس ختم: 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے کا بیلنس ملے گا

اول ماہ ثابت ہونے کا میعار کیا ہے؟

سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں؟

رمضان المبارک کے انتیسویں دن کی دعا

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

پاکستان میں انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟

آرمی چیف کا دورہ افغانستان : کیا اشرف غنی کو سخت پیغام دیا گیا ہے؟

شیخ رشید نااہلی سے بچ گئے

بھارت کے حق میں بیان : کیا شہباز شریف بیرونی قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں؟

سوال و جواب » فطرہ

رمضان المبارک کے اٹھائیسویں دن کی دعا

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

دورِ زوال کا نوحہ

ایران اور مشرق وسطی کے بارے میں امریکی سوچ خطرناک ہے

ہر نیک کام میں والدین کو شریک کرنا بہت زیادہ برکات کا حامل ہے

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ کی تاریخی ملاقات

ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات کا اعلامیہ جاری

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

کالعدم اہلسنت و الجماعت میں دراڑ: احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی آمنے سامنے

مشرف کی متوقع واپسی، کیا سابق آمر کا کوئی سیاسی مستقبل ہے؟

کیا نواز شریف ملک سے بھاگ جائیں گے؟

2018-06-09 10:56:44

کیا انتخابی حلف نامے نا اہلی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں؟

SC

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے نئے حلف نامے کے اجراء پر سیاست دانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حلف ناموں کو جواز بنا کر مستقبل میں سیاست دانوں کو نا اہل کیا جا سکتا ہے۔

ان حلف ناموں میں انتخابات لڑنے والے سیاست دانوں سے ان کی جائیداد، قرضہ، نادہندگی، بیرونی دورے، ٹیلی فون، گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی، ازواج اور بچوں کی تعداد، اپنے اور گھر والوں کے کاروبار کی تفصیلات، پاسپورٹ نمبر، نیشنل ٹیکس نمبر، تعلیمی قابلیت، ذرائع آمدنی اور انکم ٹیکس کی ادائیگیوں سمیت کئی طرح کی تفصیلات مانگی گئیں ہیں۔

بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ حلف نامے نادیدہ قوتوں کے اشارے پر تیار کیے گئے ہیں تاکہ ان کونا پسندیدہ  سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس حلف نامے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ برائے پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو نے میڈیا کو بتایا، ’’ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں اور ہمارے خیال میں ان حلف ناموں کو مستقبل میں سیاست دانوں کو نا اہل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ حلف نامے الیکشن کمیشن کی بد نیتی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ انہوں نے خود نہیں بنائے بلکہ نادیدہ قوتوں نے بنا کر انہیں دیے ہیں۔ اگر ای سی پی کی کوئی بدنیتی نہیں ہے تو پہلے اس طرح کے حلف نامے ججوں، جنرلوں اور نوکر شاہی کے افسران سے بھروائے۔ میرے خیال میں ساری سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے پر متفقہ موقف اپنانا چاہیے۔”

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس حلف نامے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق ایم این اے چوہدری منظور نے اس مسئلے پر اپنا نقطہء نظر دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مجھے ذاتی طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ اس حلف نامے کو سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اگر یہ حلف نامہ ضروری ہے تو سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ جر نیلوں، ججوں اور نوکر شاہی کے افسران سے بھی پوچھیں کہ ان کے پاس منصب سنبھالنے سے پہلے کتنی دولت تھی اور بعد میں کتنی ہے۔‘‘ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس تاثر کو رد کیا گیا ہے کہ یہ حلف نامے کسی بیرونی قوت کے کہنے پر بنائے گئے ہیں۔ ای سی پی کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے پہلے ای سی پی نے حلف نامے میں دیے گئے سوالات کو کاغذاتِ نامزدگی میں رکھا تھا۔ پھر پارلیمنٹ نے دوہزار سترہ میں ان کاغذات میں تبدیلی کر دی، ان تبدیلیوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ نے ان ترامیم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حلف نامے تیار کیے جائیں کیونکہ کاغذاتِ نامزدگی کو دوبارہ چھاپنے کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ تو ہم نے تو صرف عدالت کے حکم پر عمل کیا ہے اور یہ کام کسی کے اشارے پر نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں میں سیاست دانوں پر بد عنوانی کے سینکڑوں الزامات لگے۔ اسی لیے ملک میں کئی حلقے اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ عوامی نمائندوں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ سیاست دانوں کی جانب سے بھی اس سلسلے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ معروف سیاست دان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے وزیرِ خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے ای سی پی کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے: ’’میر ے خیال میں اس طرح کے اقدامات سے کرپشن کو روکنے میں مدد ملے گی۔ سیاست دانوں کا ان حلف ناموں پر اعتراض بالکل نا مناسب ہے۔ اگر آپ کو سیاست میں حصہ لینا ہے تو آپ کو احتساب کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی اسحاق ڈار کی شکل میں خود بھی ملک کی دولت لوٹے اور دوسرے کو بھی یہ موقع فراہم کرے کہ وہ ایسا کریں۔‘‘

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

انصاف نظر آنا چاہیے

- ایکسپریس نیوز

الیکٹیبلز کی سیاست

- ایکسپریس نیوز

اسمارٹ ٹیکنالوجی

- ایکسپریس نیوز

صحت سب کے لیے

- ایکسپریس نیوز

کشمیر کو یاد رکھیں گے

- ایکسپریس نیوز

عدالتی دھماکا

- ایکسپریس نیوز

افکار و نظریات

- سحر نیوز

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

جام جم - 19 جون

- سحر ٹی وی