افغانستان میں صدر ٹرمپ کی فضائی جنگ کی جانی قیمت کیا؟

ذہنی تناؤ بینائی میں نقصان کی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر وجہ بن سکتا ہے

فٹبال ورلڈ کپ 2018: ژکا اور شکیری کے جشن کے خلاف انکوائری

ہم ملک میں شریعت محمدیؐ کے نفاذ کیلئے اسلام آباد کا اقتدار چاہتے ہیں، مولانا فضل الرحمان

بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہرے

شکست تک عمران خان انسان نہیں بنیں گے،خواجہ سعد رفیق

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت بند کی جائے، کوربین

گوگل کروم کا وہ فیچر جو سست کمپیوٹر کو تیز کردے

پاراچنار، 37 سال قبل صدہ سے بے دخل اہل تشیع خاندانوں کی واپسی + تصاویر

بلوچستان: پرانے چہروں کا نیا انتخاب

رجب طیب اردوغان کی کامیابی اور ایران کی مبارکباد

مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتے ہوئے مظالم

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریکِ طالبان کی قیادت ایک بار پھر محسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں

تارکین وطن قبول نہ کرنے والی یورپی ریاستوں پر پابندی ہونی چاہیے: فرانسیسی صدر

ترکی انتخابات: رجب طیب اردوان کی فتح کا اعلان کردیا گیا

بھارت میں پاکستانی قیدیوں کو عبادت تک نہیں کرنے دی جاتی

امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ گئے، ہزاروں فلسطینیوں کا شدید احتجاج

ایران نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کی دھمکی دے دی

اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے اردن میں ملاقات

انگلینڈ کی پاناما اور کولمبیا کی پولینڈ کو شکست، سینیگال جاپان کا میچ برابر

چاول کے دانے سے بھی چھوٹا منفرد کمپیوٹر

فیس بک نیا اور دلفریب فیچر تیار کرنے میں مصروف

انگلینڈ کا آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کلین سوئپ

جسمانی وزن میں کمی اور توند سے نجات کا بہترین حل

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے والے فوجی اہلکاروں پرفائرنگ،ایک شہید

کراچی:لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں چیخ وپکار

کسی ٹکٹ کا محتاج نہیں، 25 جولائی کو مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوں گی: چوہدری نثار

پرویز رشید اور چوہدری نثار کی جنگ: اندرونی کہانی

افغانستان میں شیعہ عالم دین کے قتل کے واقعے کی مذمت

ہم ایران کے ساتھ ہیں: چین

سیاسی کالعدم جماعتیں اور گرے لسٹ کی تلوار

کیا ترک انتخابات ایک نئی قوم کو جنم دیں گے؟

شہید بھٹو پہلی وزیراعظم خاتون تھیں جو وزیراعظم ہوتے ہوئے بچے کی پیدائش کے عمل سے گزریں

ورلڈ کپ میں تیونس کو بیلجیئم کے خلاف 2-5 سے شکست

مفتی نور ولی محسود تحریکِ پاکستان طالبان کے نئے امیر مقرر

کیا تیونس کا حج بائیکاٹ آل سعود کو یمن پر مظالم سے روک سکتا ہے؟

جنوبی وزیرستان: فوجی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک، 2 جوان شہید

میری خوشی کی انتہا اس وقت نہ رہی جب نیمار میرے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا: احمد رضا

این اے 243 کراچی: عمران خان کے کاغذات نامزدگی کےخلاف اپیل مسترد

ملا فضل اللہ کی موت پر بھارت میں کھلبلی

الحدیدہ جنگ: 25000 کا بے بس لشکر

کیا زعیم قادری نے ’قلعہ لاہور‘ میں شگاف ڈال دیا؟

بنی اسرائیل کی حقیقت قرآن مجید کی روشنی میں

ارجنٹینا فٹبال ٹیم کی شکست کی کہانی چہروں کی زبانی

دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے والی ’’ڈرون چھتری‘‘

میلانیا کی جیکٹ پر لکھا جملہ: مجھے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا کیا آپ کو پڑتا ہے؟

میرا اختلاف نواز شریف کے فائدے میں تھا، چوہدری نثار

10 غذائیں جو آپ کو ہر عمر میں جوان رکھیں

’ لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں‘

ﺑﻘﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ کیوں؟

کینسر کے خطرے سے بچانے والی بہترین غذا

داعش کی معاونت پر مذہبی رہنما کو سزائے موت

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ پر بھی فرد جرم عائد

پاکستان کی طالبان امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

مہران یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن سینٹر قائم کیا جائیگا،ڈاکٹر عقیلی

پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات کے لیے نئی حکمت عملی تیار

یمن میں سعودی جاسوسی ڈرون طیارہ تباہ

چھوٹی سی چیری بڑے فائدوں والی

بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف

انتخابی نشانات کی سیاست: ووٹر حیران، امیدوار پریشان

امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

آیت اللہ سید خامنہ ای نے قومی فٹبال ٹیم کو اچھی کاکردگی پر سراہا

بحرینی عدالت نے شیخ علی سلمان کو جاسوسی کے الزامات سے بری کردیا

فیفا ورلڈ کپ 2018: اسپین نے ایران کو 0-1 سے شکست دے دی

آئی بی اے کراچی میں منعقدہ پاکستان کی پہلی فائنل ائیر پروجیکٹس کی آن لائن نمائش کا احوال

امریکہ کی خارجہ پالیسی بحران سے دوچار

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

2018-06-09 11:05:25

افغانستان میں صدر ٹرمپ کی فضائی جنگ کی جانی قیمت کیا؟

U.S air force personnel stand by an U.S. A-10 aircraft, one of a squadron that arrived at the Kandahar air base, Afghanistan January 23, 2018. REUTERS/Omar Sobhani

ہیلی کاپٹرز دوپہر کے بعد آئے اور انھوں نے ہجوم پر اس جگہ راکٹ داغے جہاں بچے بیٹھے ہوئے تھے۔عینی شاید نے بتایا کہ جیسے ہی لوگوں نے وہاں سے بھاگنا شروع کیا تو مشین گن کی گولیوں نے ان کا پیچھا کیا۔

یہ طالبان کے خلاف نئی مہک فضائی مہم کی تازہ ترین مثال تھی کہ کس طرح طالبان کے خلاف امریکہ اور افغان فورسز کی خوفناک فضائی کارروائیوں میں شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ افغان فضائیہ کی جانب سے دو اپریل کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز میں کی جانے والی فضائی کارروائی میں کم سے کم 36 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہو گئے۔

واضح رہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام ضلع دشت آرچی میں دینی مدرسے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع تھے۔ یہ لوگ وہاں طالب علموں کے لیے اسناد کی تقسیم کے لیے ہونے والی روایتی تقریب دیکھ رہے تھے۔

ایک مقامی عینی شاہد نے اگلے دن بی بی سی کو بتایا ’میں نے ہر جگہ پگڑیاں، جوتے، بازو، ٹانگیں اور خون دیکھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا علاقے میں ہونے والی اس تقریب کے بارے میں ہر کوئی جانتا تھا اور اس میں بہت سے بچے اس لیے بھی شامل تھے کیونکہ تقریب کے بعد انھیں دوپہر کا مفت کھانا دیا جانا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ اگست میں افغانستان کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت امریکی فورسز کے لیے فضائی حملے کرنا آسان ہو گیا ہے۔ عراق اور شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ ماند پڑنے کی وجہ سے تمام وسائل ایک مرتبہ پھر افغانستان منتقل ہو گئے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے طالبان اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی شدید بمباری کے نتیجے میں گذشتہ برس زیادہ تر عام افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں دشت آرچی واقعے سے پہلے امریکی فضائی حملوں میں 67 افراد ہلاک اور 75 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔

اسی دوران امریکہ نے افغان فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر مدد کرنے شروع کی جو ایک پانچ سالہ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں اسے 159 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر فراہم کرنا شامل ہے۔

افغانستان میں ایک اعلیٰ امریکی جنرل جان ڈبلیو نکلسن نے وعدہ کیا ہے کہ ’فضائی طاقت کی ایک بے لگام لہر‘ کو چھوڑا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کا مقصد طالبان کو مذاکرات کی میز کی جانب دھکیلنے کی ایک کوشش اور شاید امریکہ کی سب سے طویل جنگ کا خاتمہ ہے جو 17 برس سے جاری ہے۔

لیکن جب امریکی ہیلی کاپٹروں نے رواں برس تین اپریل کو طالبان کے زیرِ انتظام ضلع دشت آرچی میں دینی مدرسے میں جاری مذہبی تقریب پر بمباری کی تو اس نے واشنگٹن اور کابل دونوں کے لیے اہم سوالات اٹھائے اور طالبان کے لیے طاقتور پروپیگنڈا فراہم کیا۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی میں طالبان کے سینئیر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا جو قندوز شہر پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کابل میں اینالسٹ نیٹ ورک کی کیٹ کلارک کا کہنا ہے ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ہیلی کاپٹروں کے پائلٹ کھلے مجمعے پر بمباری کریں اور ان کو نظر نہیں آیا ہو کہ وہ کس پر یعنی بچوں پر بمباری کر رہے ہیں؟

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ افغان فضائیہ ان لوگوں کو افغان عوام نہیں سمجھتے؟

افغانستان کے آزاد ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنی پانچ جون کی رپورٹ میں کہا کہ حملہ ایک ’جنگی جرم‘ تھا۔

افغان حکومت نے ابتدائی طور پر اس بات سے انکار کیا کہ اس حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم ایک ماہ بعد حکومت نے اس واقعے پر معذرت کی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا اعلان بھی کیا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ‘حکومت اور باغیوں میں اہم فرق یہ ہے کہ ایک جائز حکومت اپنی غلطیوں کے لیے ہمیشہ معافی طلب کرے۔’

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت بھی افغانستان کی فضائیہ کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کی ذمہ دار ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی سینئیر ریسرچر پیٹریشیا گراسمین کا کہنا ہے ’امریکہ افغان پائلٹوں کی تربیت کرتا اور انھیں تمام سامان فراہم کرتا ہے۔‘

افغانستان میں نیٹو مشن ریزولیوٹ سپورٹ کا کہنا ہے کہ دو اپریل کے حملے میں امریکہ اور بین الاقوامی افواج ملوث نہیں تھیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا ’افغان فضائیہ اور امریکی افواج دونوں بین الاقوامی جنگی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ ہم آپریشنل منصوبہ بندی پر عملدرآمد سے شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

 

لیکن افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے ہی غلطیاں نہیں کی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کی بمباری سے 154 عام شہری مارے گئے جبکہ افغان فضائیہ کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 99 ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی افواج نے ایک دہائی قبل افغانستان میں فضائی کارروائیوں کے ذریعے عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کی تدبیر کی۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی امریکی بمباری کے سخت ناقد تھے۔ وہ اسے افغانستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے تھے۔

مس گوسمین نے کہا ’ان کے پاس عام لوگوں کی تکلیف میں کمی کے لیے خاص مقصد کے لیے وقف سویلین کیژوئلٹی ٹیم تھی جس نے ہر واقعے کا تجزیہ کیا۔ ان کے پاس ایسا عملہ تھا جس نے ان مقامات کا دورہ کیا۔ سنہ 2014 سے ریزولیوٹ سپورٹ میں سویلین کیژوئلٹی ٹیم کافی چھوٹی رہی ہے۔ اس ٹیم کے ارکان سائٹس کا دورہ نہیں کرتے۔ وہ متاثرہ افراد سے گفتگو کرتے ہیں اور نہ عینی شاہدوں یا دیگر مقامی ذرائع مثلاً طبی عملے سے بات چیت کرتے ہیں۔’

ریزولیوٹ سپورٹ کا کہنا ہے کہ وہ اور امریکی فوج صرف ایسے متاثر عام لوگوں کے معاملات کی تحقیقات کرتے ہیں جو ان کی وجہ سے متاثر ہوئے ہوں۔ یہ تحقیقات اس صورت میں کی جاتی ہیں اگر محفوظ رہتے ہوئے سائٹس کا دورہ کیا جا سکے اور اگر الزامات کی تصدیق یا تردید کے لیے دستیاب اطلاعات ناکافی ہوں۔

افغانستان میں بہت سے عام شہری اب بھی حکومت مخالف گروپوں کی وجہ سے نشانہ بنتے ہیں جن میں طالبان اور دولتِ اسلامیہ شامل ہیں۔ حالانکہ ان گروہوں پر شدید بمباری کی جاتی ہے لیکن ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکہ عام لوگوں کو بچانے کے طریقۂ کار میں لاپرواہی کر رہا ہے۔ سنہ 2016 سے 2017 تک امریکی فضائیہ کے حملوں میں 226 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسی عرصے میں افغان اور امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے عام شہروں کے نشانہ بننے میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تمام ذرائع کو سامنے رکھیں تو عام شہری کے نشانہ بننے میں کچھ کمی ہوئی ہے خصوصاً زمینی کارروائیوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کم رہی ہے۔ کیٹ کلارک کے مطابق گو فضائی حملوں میں عام لوگوں کی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ رہی ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ زیادہ فضائی کور نے طالبان کو آبادی والے علاقوں پر حملے کرنے سے روکا ہے۔

کسی بھی صورت میں دشتِ آرچی کا واقعہ افغان فضائیہ اور امریکی ماہرین کے ذمہ داران اور حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

بارنیٹ روبن سنہ 2009 اور 2013 کے درمیان امریکی محکمۂ خارجہ میں افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی ایلچی کے سینئیر مشیر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فضائی کارراوئیوں کا ‘کوئی سٹریٹیجک اثر نہیں ہے۔ یہ بار بار وہی جنگ لڑ رہے ہیں۔’

روبن کے مطابق بڑی طاقتوں اور افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے ایک مضبوط افغانستان کی اولین شرط ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال ‘زچ ہو جانے والی ایسی حالت ہے جسے پلٹا نہیں جا سکتا۔ اگر وسطی یا طویل مدت میں یہ حالات تبدیل ہوئے تو یہ تبدیلی ہمارے خلاف ہو گی۔’

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

اسرائیلی ہمسفر

- اسلام ٹائمز

نئی پارٹی پرانا رواج

- ایکسپریس نیوز

صرف ایک ہی راستہ

- ایکسپریس نیوز

جمہوریت اور سیاست

- ایکسپریس نیوز

یہ محل سراؤں کے باسی

- ایکسپریس نیوز