سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

یوم عاشورا حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ تجدید بیعت کا اعلان

لندن میں حسینی عزاداروں کے اجتماع پر گاڑی کے ذریعہ حملہ

مسجد نبویﷺ کے بیرونی صحن میں فائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار

پاراچنار، شب ہشتم کا ماتمی جلوس

دہشت گردی کا خطرہ: کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں موبائل سروس معطل

یوم عاشورا حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ تجدید بیعت کا اعلان

سعودی اتحاد نے ایک بار پھر صنعا ایرپورٹ سے علاج کے لئے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی

شامی فوج کی فتوحات اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف عرب اقوام کی فتوحات ہیں:مصری قانون ساز

ایرانی صدر جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے

جنگ یمن نے سعودی معیشت کو تباہ کر دیا؛ شاہی حکومت قرضہ لینے پر مجبور

سعودی جنگی اتحاد کے ہاتھ پچاس ہزار یمنیوں کے خون سے رنگین ہیں:کارکن انسانی حقوق

امام حسین علیہ السلام کون ہیں؟

امام پاک اور یزید پلید

واقعہ کربلا: دور بنو امیہ میں رثائی و مزاحمتی شاعری کا قتل – عامر حسینی

اے لشکر یزید! یہ آگ میرے اور تمہارے مشترکہ دشمن کی بھڑکائی ہوئی ہے: امام حسین(ع)

وزیر اعظم عمران خان کے لئے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طور پر کھولا گیا

حسین کون ہے اور شیعہ مسلمان حسین (ع) کا غم کیوں مناتے ہیں؟

شہدائے کربلا کی یاد، ملک بھرمیں آٹھ محرم کے جلوس برآمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ

پاکستان کڈنی اینڈ لیورانسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹرسعید اختراوربورڈ معطل

خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

ایوان فیلڈ ریفرنس ، نوازشریف،مریم نواز،کپیٹن(ر)صفدر کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت شروع

سندھ ،انتخابی عذرداریوں پر4 ٹریبونلز نے کام شروع کر دیا

اسحاق ڈار میڈیکل یونیورسٹی کے عہدے سے برطرف

سقائے سکینہ حضرت ابوالفضل العباس (ع)

امام حسین (ع) کی تعلیمات افادیت کی حامل ہیں: ہندوستانی وزیر اعظم

امریکا اور پاکستان کے درمیان تلخیوں کی وجہ چین ہے، پینٹاگون کی رپورٹ

مجالس اور جلوسوں کیلئے حفاظتی اقدامات مزید موثر بنانے کا فیصلہ

شام ميں روس کا فوجی طیارہ تباہ، 15 اہلکار ہلاک

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جاسکتا: وزیراعظم عمران خان

’جو بچے یہاں پیدا ہوئے پاکستانی شہریت ان کا حق‘

بعض مسلم حکمراں امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کرکے اسلام کے خلاف کھلی سازش کررہے ہیں

عزاداری اور ماتم پر ہونے والےاعترضات اور انکے علمی جوابات

سات محرم کی تاریخ

وزیربلدیات سندھ کا مختلف دفاتر کا دورہ، افسران سے باز پرس

لاہور ہائی کورٹ کا حمزہ شہباز کے گھر کے باہر رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے کا حکم

نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس، راجہ پرویزاشرف اور بابراعوان کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

فرانس کے بعد یونان میں بھی ایرانی سفارت خانے پر حملہ

نجی اسکولوں سے متعلق کیسز کو یکجا کرنے کا فیصلہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم کمانڈر افغانستان میں مارا گیا

ترک اور روسی صدور کے درمیان ملاقات، شام میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق

تجارتی جنگ میں شدت: امریکا نے چین پر200 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کردیے

فلسطینی سفیر کو ملک چھوڑنے کا امریکی حکم

ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کوامریکہ کی دھمکی

دہشت گردوں نے کلورین گیس ادلب منتقل کر دی، روس

بھوک ہڑتالی فرانسیسی کارکن کا اسرائیلی جیل سے رہائی سے انکار

دشمنوں کو جدید ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اسرائیلی وزیر اعظم

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام یمنی ارکان پارلیمینٹ کا خط

انکار کس کا، کس کو؟ انکار کس وقت اور کیوں؟

افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے‘ ملیحہ لودھی

جنوبی کوریا کے صدر شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے

فروری میں کثیرالملکی فوجی مشقیں ہوں گی، ایڈمرل ظفر محمود عباسی

امریکی سینیٹ کمیٹی میں جج اور ان پر الزم لگانے والی پروفیسر کی طلبی

پاراچنار، شب ساتویں محرم جلوس عزا مرکزی امام بارگاہ سے برآمد

وزیراعظم آج پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب جائیں گے

ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا ہے، سربراہ آئی اے ای اے

اے لشکر یزید! یہ آگ میرے اور تمہارے مشترکہ دشمن کی بھڑکائی ہوئی ہے: امام حسین(ع)

لندن میں یوم عاشورا کا جلوس جمعرات کو منعقد ہو گا

6 محرم الحرام کے تاریخی واقعات

امریکا میں نماز کی وجہ سے برطرف 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ

امریکہ امن مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو قیدیوں کا تبادلہ کر لے، افغان طالبان

دنیا کی کوئی طاقت اسلامی مزاحمت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،حزب اللہ

کھنڈر بنا ہوا غزہ کا ہوائی اڈہ

ازبکستان: ہزاروں مزاروں کی سرزمین

امریکا، غیر ملکی افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

جنوبی کوریا کے سربراہ آئندہ ہفتے کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے

مودی ’سنیاسی‘ بننا چاہتے تھے لیکن کیوں؟

فرانس میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ، ایران کی شدید مذمت

امریکا نے فلسطینیوں کی امداد میں مزید کمی کر دی

6 نوجوانوں کی شہادت، لاش گھسیٹنے پر مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

2018-06-12 18:06:55

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

1201323-cpecx-1528706681-622-640x480

جس عجلت اور تنگ نظری سے ن لیگ نے پاک چین اقتصادی راہداری یا ’’سی پیک‘‘ (CPEC) کے حوالے سے چین کے ساتھ شرائط و ضوابط طے کیے ہیں اور جو منصوبے لانچ کیے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان اور پاکستان کے لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ملک و قوم کے ساتھ بالکل مخلص نہیں، یہ ذاتی مفادات کی خاطر غیر ملکیوں کو پاکستانیوں پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ ان کےلیے پاکستانیوں کو زندہ درگور کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

منصوبوں کی تیاری، ان کےلیے بجٹ کی منظوری، ان کے طویل و مختصر مدتی معاشی، سماجی اور سیاسی اثرات اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے اس حکومت نے کوئی ٹھوس اور جامع تحقیق نہیں کی بلکہ یہ سارے منصوبے اسی شاہی مزاج کے زیر اثر بنائے گئے جو شریف خاندان کا خاصّہ ہے۔ ان منصوبوں سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ پاکستان کی معیشت مزید مشکلات کا شکار ہوگی۔ اگرچہ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور یہ پاکستان کےلیے ضروری بھی ہے مگر یہ اسی وقت پاکستان کےلیے فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر کام کرنے والے حکمران پاکستان کےلیے مخلص ہوں اور انہیں قومی مفاد اپنے ذاتی مفاد سے زیادہ عزیز ہو۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت اس منصوبے میں بڑی بڑی خامیاں موجود ہیں جو آنے والے دنوں میں پاکستان کی نہ صرف معیشت بلکہ سالمیت و بقا کےلیے بھی خطرناک ثابت ہوں گی۔ اگر بروقت ان خامیوں کو دور نہ کیا گیا اور مناسب اقدامات کے ذریعے پاکستانی عوام تک اس منصوبے کے ثمرات نہ پہنچائے گئے اور صرف چائنیز کو ہی نوازا گیا تو اس ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی پارٹ ٹو کا خطرہ درپیش ہے۔

بے شک چین پاکستان دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے مگر یہ بات ذہن میں رکھیے کہ چین زیادہ چالاک اور ہوشیار ہے۔ چین ایک کاروباری سوچ کا حامل ملک ہے۔ اس کا ہر قدم اپنے قومی مفادات کو پورا کرنے میں اٹھتا ہے، وہ لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی نئی تکنیک سے باخبر ہے، وہ کاروباری اور تجارتی پیمانے پر دیگر ممالک کو اپنا محتاج اور دست نگر بنانے کا ہنر جان چکا ہے، اسے دیگر ممالک کی تاریخ سے معلوم ہوچکا ہے کہ جنگ سے ملکوں کو فتح نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان ممالک میں اپنی مصنوعات کی اجارہ داری قائم کرکے اور اس ملک کی اپنی مقامی صنعت کو تباہ کرکے اس ملک کو اپنا معاشی غلام بنانا زیادہ آسان اور منافع بخش ہے اور چین اسی سوچ کے تحت پوری دنیا میں اپنا کاروباری و صنعتی دائرہ تیزی سے پھیلا رہا ہے اور سی پیک، چین کے اس بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

مگر دوسری طرف پاکستانی حکمران جو صرف اپنے ملک کو لوٹنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں، ان میں اس طرح کی کوئی چالاکی اور دور اندیشی نہیں پائی جاتی۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ جب مقامی صنعت تباہ ہوجائے گی اور ہماری تمام مصنوعات چین یا دیگر ممالک سے آئیں گی تو پاکستان کے 21 کروڑ عوام کس طرح زندگی گزاریں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان ہر شعبے میں خود کفیل ہونے کی طرف بڑھے اور اپنی تمام اقسام کی پیداوار میں اضافے کی منصوبہ بندی کرے، اپنی برآمدات کو زیادہ اور درآمدات کو کم کرے اور پاکستانی لوگوں کےلیے روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ پیدا کرے تاکہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور پھر ترقی کی اگلی منازل طے کی جائیں۔ مگر یہاں کیا ہورہا ہے؟

پاکستانی صنعت کا بیڑا غرق کیا جارہا ہے، پاکستانی سرمایہ کاروں کو بد ظن کیا جارہا ہے، پاکستانی کی پڑھی لکھی افرادی قوت کو استعمال کرنے کے بجائے صرف چینیوں کو مواقع دیئے جا رہے ہیں، انہیں پاکستانیوں کے مقابلے میں ٹیکس کی چھوٹ اور دیگر معاشی مراعات دی جا رہی ہیں، ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جارہا ہے، ان کےلیے قوانین اور ویزا پالیسی نرم کی جارہی ہے، وہ پاکستانی کاروبار پر قبضہ کر رہے ہیں، وہ اپنی مصنوعات کو براہ راست پاکستان میں خود بیچ رہے ہیں۔ اس طرح پاکستانی معیشت کو دو طرح سے نقصان ہورہا ہے۔ اوّل یہ کہ پاکستان میں بننے والی مصنوعات کی طلب کم ہو رہی ہے، جس سے پاکستانی صنعت کاروں کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور دوسرے نمبر پر ان لوگوں کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے جو چائنا سے مال درآمد کرتے تھے اور اس میں سے کچھ نفع کما کر اپنا رزق کماتے تھے۔ اب دونوں سطحوں پر چینی قبضہ کررہے ہیں، یعنی اب وہ خود مصنوعات بنارہے ہیں اور خود ہی بیچ رہے ہیں۔

ذرا ہوش کے ناخن لیجیے کہ پاکستان کے صنعتکار، مزدور اور تاجر کیا کریں گے؟ اگرچہ پاکستان میں بننے والی چیزیں کچھ مہنگی ہوتی ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم غیر ملکیوں کو اجازت دے دیں کہ وہ آکر ہمارے کاروبار پر قبضہ کرلیں۔ پاکستان میں چیزیں مہنگی ہیں تو اس کے پیچھے ان ہی کرپٹ اور بدمعاش حکمرانوں کی پالیسیاں ہیں کہ قومی خزانے کو کرپشن کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کےلیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگائے جاتے ہیں جس سے مہنگائی بڑھتی ہے ورنہ مقامی مصنوعات ہمیشہ سستی ہوتی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سی پیک کی وجہ سے چین کو پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات عام کرنے اور اجارہ داری قائم کرنے کےلیے زیادہ آسان اور سستا ذریعہ فراہم کردیا گیا ہے جو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ اگر اس منصوبے پر ذرا غور کیا جائے تو اس میں زیادہ تر سڑکیں ہیں جو چائنا کو پاکستان کے ساتھ براہ راست زمینی راستے سے منسلک کردیں گی اور چائنا کےلیے اپنی مصنوعات پاکستان میں لانا نہایت ہی آسان ہوجائے گا اور مقامی صنعت بری طرح تباہ ہو جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی نئی صنعت یا فیکٹری نہیں لگائی گئی کہ جہاں پر پاکستانی پروفیشنلز اور مزدوروں کو ملازمت دی جاتی، پاکستان اپنا خام مال خود مفید مصنوعات میں تبدیل کرتا اور سارا فائدہ پاکستانی عوام اور حکومت کو ہوتا۔

سی پیک ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا اگر ہمارے حکمران کرپٹ، خودغرض اور غدار نہ ہوتے۔ اب تو ہم نے اس کاریڈور کے ذریعے غیر ملکیوں کو خود ہی اجازت دے دی ہے کہ وہ ہم پر معاشی طور پر قبضہ کرلیں اور جب ہم معاشی لحاظ سے ان کے دست نگر ہوں گے تو ہماری ثقافت، تہذیب اور معاشرت بھی مجبوراً ان سے کندھا ملائے گی۔ ابھی تک ہم انگریزوں کے سماجی و نفسیاتی اثرات سے نہیں نکلے کہ ایک اور مصیبت سر پر منڈ لا رہی ہے۔

جس طرح حکومت نے دعوی کیا ہے کہ سی پیک پاکستان کےلیے گیم چینجر ہے اور یہ پاکستانی معیشت کےلیے آکسیجن ہے، تو یہ دعوی سراسر جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کےلیے کوئی زیادہ سود مند نہیں بلکہ آنے والے حالات میں یہ ملک کےلیے نقصان دہ ثابت ہو گا؛ اگر اس میں موجود قباحتوں اور خامیوں کو دور نہ کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی یہ کوئی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔

پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور بے روزگاری کے خاتمے کےلیے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنی مقامی صنعت کو فروغ دینا ہوگا اور اسی ملک میں ہی اپنی تمام تر ضروریات کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ زرعی شعبے سے لے کر دفاعی شعبے تک، ہر جگہ ہمیں اپنے زور بازو اور ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہوگا اور یہی ہماری کامیابی کی کلید ہے۔

خلیل احمد

بلاگر نے یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی ای کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایل ایل بھی کیا ہے۔ بلاگر کا تعلق ضلع لودھراں سے ہے جبکہ انہیں ٹوئٹر آئی ڈی Khalila57727600 پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

زمرہ جات:  
ٹیگز:   سی پیک ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ہارو مگر ایسے تو نہیں

- ایکسپریس نیوز

میری گاڑی کے آگے جھنڈا

- ایکسپریس نیوز

ایک مودبانہ گزارش

- ایکسپریس نیوز

ریت کے بگولوں کا ماتم !

- ایکسپریس نیوز

فطرت سے محرومی کا نوحہ

- ایکسپریس نیوز

پچاس لاکھ مکان

- ایکسپریس نیوز

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

- مجلس وحدت المسلمین