خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ

پیوٹن کی دہشت ملینیا کے چہرے پر

ترکی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے، قونصل جنرل

پکتیا میں فورسز کیساتھ جھڑپوں میں 27 دہشتگرد ہلاک

ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کی حمایت کا اعلان

امریکا کے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،افغان حکومت

بنگلہ دیش میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں 200 افراد ہلاک

صحت کی حفاظت کے رہنما اصول

ہڈیوں کا بھر بھراپن ایک خاموش بیماری

مودی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کل پیش ہوگی

امریکی صدر کی ایرانی صدر سے ملاقات کے لئے آٹھ بار درخواست

انصاراللہ نے الحدیدہ سے یمنی فوج کے انخلا کا مطالبہ مسترد کر دیا

سمندر پار پاکستانی عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، نادرا حکام

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پرغداری کا الزام لگ گیا

برطانیہ نے اسلحے کی فروخت دگنی کر دی

برطانیہ میں چھ روزہ بین الاقوامی ایئر شو زوروشور سے جاری

غذر میں لینڈ سلائیڈنگ، دریا کا بہاؤ رک گیا

’ایک جیل میں قید باپ بیٹی کو ملنے کی اجازت نہیں‘

کلبھوشن کیس پر جواب جمع کروا دیا

’’شہباز شریف مجھے مقابلے میں مروانا چاہتے تھے‘‘

’’ توبہ قبول کرنا ہمارا کام نہیں‘‘

نواز اور مریم سے وکلاء کی ملاقات منسوخ

فیصل واوڈا کو 8 اہلکار سیکیورٹی دیں گے

عمران کی آئندہ نا زیبا زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

پاک فوج نے تھریٹ الرٹ جاری نہیں کیا، آئی ایس پی آر

پاکستان، ایران فوجی تعلقات میں بہتری کی امید؟

’’ کالعدم تنظیموں کا انتخابات میں حصہ لینا، جمہوریت کے لیے خطرہ ہے‘‘،بلاول بھٹو

’پی پی اور ن لیگ میں پس پردہ نیا مک مکا چل رہا ہے‘

ٹیکس ادائیگی سے متعلق غلط بیانی عمران اسماعیل کے گلے پڑگئی

سعودی عرب: خواتین کو طیارے اڑانیکی تربیت کی اجازت

خان صاحب عوام میں مقبول نہیں ،بلاول کا دعویٰ

پارلیمنٹ نے اسرائیلی وزیراعظم سے جنگی اختیارات چھین لیے

کراچی:الیکشن میں دہشت گردی کی سازش،2 گرفتار

صہیونی جیل میں اسیر 4 فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال ہنوز جاری

اسپین کے کئی شہروں کا اسرائیلی بائیکاٹ مہم میں شمولیت کا اعلان

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، بلاول کا ٹوئٹ

پاکستان نے زمبابوے کو تیسرے ون ڈے میں شکست دے دی

لیبیا میں کنٹینر میں دم گھٹنے سے 8 غیرقانونی تارکین وطن ہلاک

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی

افغانستان میں امریکا کی حکمت عملی ناکام ہو گئی، حامد کرزئی

افغانستان میں داعش کا حملہ، طالبان کمانڈر سمیت 20 ہلاک

ایرانی افواج ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے آمادہ و تیار ہیں:ایرانی وزیر دفاع

اسرائیل نے غزہ تک ایندھن کی ترسیل بند کر دی

بن سلمان کی ذاتی سیکورٹی "موساد” کے حوالے، امریکی تجزیہ کار

چین میں گرمی سے روڈ پگھلنے لگے

سعودی عرب : خواتین ڈرائیورزکیلئے زنانہ جیلوں کی تیاری

اسرائیل کی مسجد اقصیٰ کے قریب پھر کھدائی

زرداری اور فریال کا نام ای سی ایل سے خارج

مستونگ خود کش حملہ آور کا ڈی این اے ٹیسٹ

خواجہ حارث نے نواز شریف کے جیل ٹرائل کا مقصد بتادیا

عمران خان کو نیب نے آج طلب کرلیا

رؤف صدیقی سردارشیر محمد رند کے حق میں دستبردار

صفدر کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی ضمانت میں توسیع

نادرا آج سے ’رزلٹ ٹرانسمیشن سروس‘ ایکٹیویٹ کرے گا

نواز اورمریم کی سزاؤں کیخلاف درخواست کی سماعت کل ہوگی

حافظ آباد میں پی ٹی آئی اور ن لیگی کارکنوں میں تصادم

اسکول جس میں صرف ایک بچی پڑھتی ہے

بجلی مہنگی کرنے کیلئے نیپرا کو درخواست ارسال

شہباز ، عمران، بلاول کو وزیر اعظم کے برابر سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ

شیعہ رہنماوں کی کالعدم جماعت کے سرغنہ لدھیانوی سے ملاقات کی رُداد، علامہ امین شہیدی کی زبانی

گورنر اسٹیٹ بینک کیخلاف 22 سینیٹرز کی درخواست مسترد

شاہد آفریدی کی سراج رئیسانی کے اہلخانہ سے تعزیت

یادداشت کیلئے چارسائنسی انداز

یاہو میسنجر کی موت واقع ہو گئی

جنوبی کوریا:ہیلی کاپٹر حادثے میں5افراد ہلاک

سی ای او پی آئی اے کی دعوت پر ایئر سفاری کی، ڈی جی سی اے اے

الیکشن کمیشن عمران خان کی تقاریر پر پابندی لگائے، ن لیگ

این اے124: پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے حق میں دستبردار

نواز شریف کو پیش نہ کر کے کیا چھپایا جا رہا ہے؟

فواد حسن فواد ایک روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں

2018-06-24 22:34:55

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

(تحریر:عظمت علی )
گذشتہ ایام کے مقابل آج لوگوں نے اس قدر ترقی کے زینے طے کر لئے ہیں کہ موبائیل ،ٹیب لیٹ، لیپ ٹاپ اور کمپوٹر کی صورت میں دنیا مٹھی میں سمٹ کر آ گئی ہے۔ دور حاضر کا انسان روزانہ صبح سویرے اٹھتے ہی اخبار کا مطالعہ کرتا ہے ۔جس میں ظلم ،ظالم ،مظلوم ،اور قتل ،قاتل ،مقتول کے نت نئے چہرے نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ ان تمام واقعات کی مشترکہ روداد غم یہ ہوتی ہے کہ ان میں معصوم مسلمان مردو عورت اور بچوں کو ظلم کو نشانہ بنایا جانا واضح طور پر دکھائی دیتاہے۔ قابل تعجب بات یہ ہے کہ اس سفاکانہ کارنامے کو بروئے کار لانے والے دشمن عناصرنے مسلمانوں کاحلیہ اپنالیا ہے اور اپنی شناخت ایک متدین اور حقیقی مسلمان کی حیثیت سے کراتے ہیں۔ جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ سانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے!

جب ان مجرموں کو اپنے کئے کی سزا نہ ملی اور مسلمان دشمن نہیں بلکہ انسان دشمن ایجنسیوں نے ان کی جنگی اسلحہ اور دیگر تمام وسائل زندگی فراہم کئے تو ان کی جسارتیں اور جوان ہو گئیں ۔جس کے چلتے ان درندہ صفت لوگوں نے مسجد ،مندر ،گرجا گھر،عزاخانہ ،مقدس روضوں اور مذہبی مقامات کی برملا توہین کر کے عالم انسانیت کے زخموں پر نمکچھڑک دیا ہے۔

آج سے تقریباً 93 برس قبل 8 شوال المکرم 1344ھ بمطابق .1925.1926ء میں آل سعود نے بنی امیہ و بنی عباس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خاندان نبوت وعصمت کے لعل و گہر کی قبروں کو جنت البقیع (مدینہ منورہ ) اور اسی سال جنت المعلیٰ (مکہ معظمہ ) میں ویران کر کے اپنے اس بغض و عداوت کا ثبوت دیاجو صدیوں سے ان کے سینوں میں کروٹیں لے رہا تھا۔ چوری کے بعد سینہ زوری کا عالم یہ ہو اکہ ان کے زرخرید غلاموں نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ قبر پر سائباں ،چھت ،گنبد ،مینار اور قبور و حرم بنانا اور اس کی زیارت کرنا حرام ہے۔جبکہ قرآن مجید کی صریحی بیان ہےکہ :ومن یعظم شعائراللہ فانھا من تقو ی القلوب ” اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کےدل کے تقویٰ کا نتیجہ ہو گا۔(حج 32)

ام قیس بنت محض کابیان ہےکہ ایک دفعہ میں رسول خدا کے ہمراہ بقیع پہنچی تو آپ نے فرمایا: اس قبرستان سے ستر ہزار افراد محشور ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب داخل بہشت ہوں گے ۔نیز ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کے مانند دمک رہے ہوں گے۔ (صحیح بخاری جلد 4حدیث4 ،سنن نسائی جلد 4 حدیث 91سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 493)

اگر بفرض محال مذکورہ فتویٰ کو تسلیم کرلیں تو اس کا یہ مطلب ہوگاکہ 1115ھ سے پہلے جہاں جہاں بھی قبورکی زیارت ،احترام ،تعمیر و مرمت ہوئی وہ سب کفر و شرک کےزمرے میں شامل تھا۔یعنی اس کا کھلاہوا مفہوم یہ ہوا کہ محمدابن عبدالوہاب سے قبل گذشتہ تمام علماء اسلام غیر اسلامی و حرام افعال میں ملوث تھے جبکہ بات ازلحاظ عقل و منطق بالکل بعید نظر آتی ہے ۔آل سعود کی یہ کارستانیاں کہ عراق اورشام سے حج و عمرہ کی انجام دہی کی خاطر تشریف لانے والوں پر پابندی عائد کرنا اور سعودی عرب میں مقیم حضرات پر یہ دباؤ کہ وہابیت قبول کرو ورنہ جلاوطن کر دیئے جاؤگے ۔جس کے باعث ہزاروں مسلمان ان کےمظالم سے تنگ آکر حجازکو الوداع کہنے پر مجبورہو گئے۔

مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سیاہ کارنامے صدیوں کا سفر کر چکے ہیں۔لیکن چونکہ آج میڈیا کا دور ہے اس سبب سے اگر دنیا کےکسی بھی گوشہ و کنار میں دہشت گرد انہ واردات ہوتی ہیں تو اس کی خبریں لمحوں میں جنگل کی آگ کے مانند پھیل جاتی ہے۔مثلاً 2013 ء میں صحابی رسول اکرم جناب حجر ابن عدی کی قبر مطہر کو سلفی گروہ نے مسمار کرکے جب ان کے ترو تازہ جسم اطہر کی تصویریں سوشل میڈیاپر شائع کیں تو لمحوں میں اس دردناک خبر نے پوری دنیا میں غم وآلام کی فضا قائم کردی ۔لوگوں نےان کےاس وحشیانہ عمل پر صدائے احتجاج بلند کرکے رسول اعظم اور ان کےاصحاب باوفا سےاظہار محبت کا ثبوت پیش کیا۔اسی طرح 2014 ء میں جب ان سلفی وہابی گروہ نے انبیائے خدا جناب یونس اور جناب شیث علیہماالسلام کے مزارات پر دہشت گردانہ حملہ کیا تو اس المناک واقعہ کی خبر پورے عالم میں جاپہنچی ۔پوری دنیاکےحریت پسند افراد نے اس شیطانی عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مسلم و غیر مسلم حلقوںنے ایک عظیم پیمانہ پر احتجاجی جلوس بھی نکالا ۔

المختصر! یہ سلسلہ روز ازل سے جاری وساری ہے مگر جس کر وفر سے اس ظالمانہ روش کو اختیار کیاگیا اسی شد ت سے مظلومیت میں نکھار پیدا ہوتاگیا اور پھر ان مظالم کااختتام ظالم کے تابوت کی آخری کیل ثابت ہوا جس کے بعد ظلم و ظالم دونوں پور ی دنیا میں رسوائے زمانہ ہوئے اور یہ ہونا ہی تھا کیوں کہ ’’ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتاہے‘‘

زمرہ جات:   Horizontal 3 ، اسلام ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی