بائیوکیمیکل انجینئرنگ

اتحاد بین المسلمین کو ملک میں امن کی بقاء کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، علامہ ہاشم موسوی

علامہ راجہ ناصرعباس کی کابل میں جشن میلاد النبیؐ پر حملے کی مذمت اور درجنوں عاشقان رسول ﷺ کی شہادت پر اظہار افسوس

سعودی عرب نے خاشقجی قتل سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ مسترد کردی

ٹرمپ کے بیان پر پاکستان کے شدید احتجاج پر امریکی حکام کا پاکستان سے رابطہ

یمن کی خون آشام دلدل اور سعودی فوجی اتحاد کے جنگی جرائم – رابرٹ ایف ورتھ

ایم ڈبلیوایم اور آئی ایس او کے مرکزی رہنمائوں کی آئی او کے بازیاب چیئرمین رضی العباس شمسی سے ملاقات، خیریت دریافت

وزیر اعظم عمران خان روانہ

’وزیر اعظم اپنے گھر ریگولرائز کراتے، غریبوں کے گراتے ہیں‘

فلسطینی راکٹوں سے صیہونی کابینہ لڑکھڑائی

ایمان کے درجات میں تنزلی و بلندی کے عوامل

میلاد النبیؐ سرکاری سطح پر منانے کا اعلان

’پی ایس ایل کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آ رہے ہیں‘

نواز شریف کا آخری چار سوالوں کے جواب پر مبنی بیان موخر

دشمن اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا

نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی: عمران خان

جموں میں سالانہ سیرت النبی (ص) کانفرنس کی تیاریاں جاری

امام خمینی (رح) نے ہفتہ وحدت کا نام دے کرعملی طور پر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کیا: ڈاکٹرعادل مزاری

امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

کراچی اتنا خوبصورت بنائینگےکہ دنیا دیکھنے آئے گی

پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں, پینٹاگون

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ‘ 4 کشمیری شہید

سعودی عرب کے خونخوار بادشاہ کا ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے کا مطالبہ

’آج کے بعد ایبٹ آبادکےکالجز میں کوئی داخلہ نہیں‘

عراقی صدر برہم صالح دورہ پرریاض پہنچ گئے،پرتپاک استقبال

شرپسندیہودیوں کے حملے میں فلسطینی اسپتال کی ایمبولینس تباہ

امریکہ کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے، ایران

امریکی شہرشکاگو میں فائرنگ 4 ہلاک متعدد زخمی

ایرانی حکام سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات

جشن عید میلاد النبی (ص) اور ہفتہ وحدت مبارک ہو

لیبیا: سرت میں داعش دہشت گرد گروہ کی سرگرمیاں

یمن کی جانب سے قیام امن کی کوششوں کی حمایت

ایوان صدر میں محفل میلاد کا انعقاد

کراچی: بارہ ربیع الاول کے حوالے سے ٹریفک پلان جاری

آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے بڑے مطالبات رکھ دیے

بھارت، مہاراشٹر کے اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 4 افراد ہلاک

کوئٹہ کا امن اور ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی ہفتہ وحدت12تا 17ربیع اول کے حوالے سے شہر میں مختلف پروگرامات منعقد کئے جائیں گے۔مجلس وحدت مسلمین

ابوظہبی میں پاکستان جیتی بازی ہار گیا

سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس کاشاعر اہل بیت ؑ ریحان اعظمی کے فرزند سلمان اعظمی کی رحلت پر اظہار افسوس

افغانستان میں قتل ہونے والے پولیس افسر طاہر داوڑ کے لواحقین کی وزیراعظم سے ملاقات

’میرے بچے باہر جاکر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے؟‘

قومی غیرت کا درس دینے والے قرضوں کیلئے ملکوں ملکوں پھر رہے ہیں، بلاول بھٹو

حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے، ترک صدر

’پاکستان دہشت گردی کیخلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے‘

’پاکستان کو 2 دہائیوں میں مختلف خطرات کا سامنا رہا‘

’جیت کے قریب پہنچ کر ہار جانا مایوس کن ہے‘

ممبئی حملوں کے الزام میں پھانسی پانے والا اجمل قصاب بھارتی شہری نکلا

عمران خان کا ٹرمپ کو کرارہ جواب

پاکستان کو جیت کیلئے 8 رنز، نیوزی لینڈ کو ایک وکٹ درکار

’’مڈل کلاس طبقہ اسکول فيسيں کیسے ادا کرے گا‘‘

حسین نقی تم کیا ہو؟

بیت المقدس کی وقف املاک کی خریدو فروخت حرام ، اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت ہے:امام مسجد اقصیٰ

ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اتحادکیساتھ لڑی، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ

سپریم کورٹ کا نواز شریف کے خلاف ٹرائل 3 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم

گزشتہ 10 سال میں عوام کو 36 ارب ڈالر کا مقروض بنادیا گیا: فیاض الحسن چوہان

ٹرمپ کا بیان ان کیلئے سبق ہے، جو 9/11 کے بعد امریکا کو خوش کرنا چاہتے تھے،شیریں مزاری

رائیونڈ: علامہ جواد نقوی کی مولانا طارق جمیل سے ملاقات

ایران میں عالمی اتحاد امت کانفرنس

فاطمیون سے متعلق امریکہ کے دعوے من گھڑت ہیں: ایران

آزادی کی منزل قریب تر ہے، فلسطینی قوم کا خون جلد رنگ لائے گا: خالد مشعل

آئی او کے لاپتہ چیئرمین رضی شمسی بخیر و عافیت گھر پہنچ گئے

'گجرات سے مسلم نشانیاں دانستہ مٹائی جا رہی ہیں'

’امریکا کیلئے پاکستان نے جو کیا اس کا بدلہ خون سے چکا رہے ہیں‘

افغانستان میں طالبان ہارے نہیں بلکہ پوزیشن مضبوط ہوئی ہے

’جے آئی ٹی کے ریکارڈ کردہ بیانات قابل قبول شہادت نہیں‘

انسداد مالی بدعنوانی کیلئے اجتماعی تعاون کی ضرورت

ایمپریس مارکیٹ آپریشن کے متاثرین کا کیا ہوگا؟

یمن پر سعودی جارحیت اورامریکی سعودی گٹھ جوڑ کے خلاف مظاہرہ

برطانوی وزیر خارجہ ایران پہنچ گئے

سعودی عرب نے وحشی پن کے ہتھیار کو تلوار سے آری میں تبدیل کر دیا

2018-07-03 10:43:01

بائیوکیمیکل انجینئرنگ

بائیوکیمیکل انجینئرنگ

ملک میں بڑھتےوبائی امراض کے پیش نظر ادویات کو درپیش مسائل ، اسپتالوں میں موجود ہائی ٹیک مشینری کی دیکھ بھال اور ٹیکنالوجی سسٹم کے درست انجام دہی کا فریضہ’’ بائیو میڈیکل انجینئر ،،کے سپرد ہوتا ہے۔بائیو میڈیکل انجینئر صحت کے شعبے کا وہ فعال رکن ہے جس کے بغیریہ مکمل نہیں ۔۔

دنیا کی تمام تر ترقی اور گہما گہمی ، جس کی بدولت آج زندگی نہایت آسان ہے۔اس کا کریڈٹ انجینئرنگ کے شعبے کو ہی جاتا ہے اور اگر بات کی جائے بائیو میڈیکل انجینئرنگ کی تعلیم کی تو یہ شعبہ ،،انجینئرنگ کے متعلقہ پیشوں میں سے ہی ایک ابھرتاہوا اوردلچسپ شعبہ ہے ۔جو حیاتیات اور انسانی زندگی کے معیار میں بہتری لانے کی غرض سے طب میں تکنیکی علم کےمجموعہ کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ اس شعبے میں دو اہم شعبوں’’ میڈیکل اور انجینئرنگ،، کو یکجا کیا گیا اور طب کی بہتری کے لیے انجینئرنگ کے اصولوں اور تراکیب کا مطالعہ، تحقیق ، ترقی ، اوراس کے استعمال پر وضاحت کی گئی ۔

اگر آپ بھی انسانی زندگیوں کی دیکھ بھال اور مشینری سسٹم میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ پیشہ آپ کے لیے ہی ہے ۔لیکن اس شعبے کو آپ کیسے اپنا سکتے ہیں اور پاکستان یا بیرون ملک اس شعبے کی اہمیت کیا ہے۔ آئیے ڈال لیتے ہیںاس پر اک نظر ۔۔

داخلے کی اہلیت اور معیار

اس شعبے کا انتخاب کرنے کے لیے سب سے پہلے تواپنے فطری رجحان اور دلچسپیوں کو پیش نظر رکھیں ساتھ ہی بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کے مختلف شعبوں کے مستقبل کی صورتِ حال کا اندازہ بھی۔

اس جائزہ کے بعد اگر آپ بائیو میڈیکل انجینئربننا چاہتے ہیںتو ایک طریقہ یہ ہے کہ FSC یعنی اگر آپ نے پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ کے شعبےمیںانٹرمیڈیٹ کی سند60% حاصل کررکھی ہے تو آپ بائیو میڈیکل پروگرام میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ہمارے یہاں بائیو میڈیکل انجینئرنگ پروگرام 4سالہ بیچلر ڈگری (بی ایس سی یا بی ای ) کے طور پر کروایا جاتا ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ(پری انجینئرنگ) کے بعد الیکٹریکل انجینئرنگ کی ذیلی شاخوں کمپیوٹر انجینئرنگ ، الیکٹرانکس انجینئرنگ ، میکینکل انجینئرنگ یا کیمیکل انجینئرنگ کر لیں اور بائیو میڈیکل میں ایم ایس یا پوسٹ گریجویٹ کورس کرنے کے بعد بطور بائیو میڈیکل انجینئر اپنے کیریئر کا آغاز کریں۔دنیا کے کئی ممالک میں MBBSکی ڈگری لینے کے بعد بھی طلبہ وطالبات بائیو میڈیکل انجینئرنگ کو ماسٹرز ڈگری کے لئے منتخب کرسکتے ہیں۔

بطور بائیو میڈیکل انجینئر

اگرآپ بائیو میڈیکل انجینئرنگ میں بی ایس سی ،بی ای یا ایم ایس کرنے کے بعد بطور بائیو میڈیکل انجینئر اپنے کیریئر کا آغاز کرچکے ہیں تو طب میں استعمال ہونے والی مشینری اور ہائی ٹیک سسٹم کی درست فعالیت ،مختلف آلات اور ان کاحساس آپریشن ،درست ڈیٹاکا حصول اور اس کی حفاظت آپ کے فرائض میں شامل ہے۔بطور بائیو میڈیکل انجینئر مختلف آلات اور سافٹ ویئر ڈیزائن کرنے کے علاوہ وسیع رینج میں تکنیکی ذرائع سے حصول علم اور تحقیق آپ کی ذمہ داری ہے۔ طبی مسائل کے حل ،خصوصاً ڈاکٹر اور مریض کو سہولتیں پہنچانے کے لیے آپریشن تھیٹر کے تمام آلات ، سی ٹی سکین ، الٹراساونڈ اور ایکس رے مشین اور دیگر خودکار مشینیں چلانا اور کنٹرول کرنا شامل ہے ۔یہی نہیں بائیو میڈیکل انجینئرز کسی حادثے یا بیماری میںجسمانی اعضاءکھودینے والے افراد کے لیے آرٹیفیشل اعضاءروبوٹ ہاتھ ،روبوٹ پاؤں، انگلیاں اور دوسرے مصنوعی اعضاء کی تیاری کا کام بھی سرانجام دیتے ہیں ۔

بائیو میڈیکل انجینئر کے لیے کیریئر کے مواقع

بائیو اور میڈیکل کی تحقیق میں مصروف اداروں کو بائیو میڈیکل انجینئرز کی شدید ضرورت ہوتی ہےاگر آپ کے پاس بائیومیڈیکل انجینئر کی ڈگری ہے تومیڈیکل ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ فرم،سیلولر ٹشوز اینڈجینیٹک انڈسٹری،بائیو مٹیریل انڈسٹری،آرتھوپیڈک انڈسٹری،اسپتال بائیو میکانکس آپ کے جاب مارکیٹ کے طور پر موجود ہیں ۔ عالمی صنعتوں ، مینوفیکچرنگ یونٹس ، صنعتی فرموں ، تعلیمی اور طبی اداروں ،حکومتی ریگولیٹری ایجنسیوں کی وسیع رینج میں کام کرسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ سرکاری عہدوں پرکام کرتے ہوئے مختلف آلات اور مراکز میں حفاظتی معیار کاتعین کرنابھی کرسکتے ہیں ۔

پاکستان میں بائیو میڈیکل انجینئرز کی قلت

پاکستان میں بائیو میڈیکل انجینئر ز کی قلت پائی جاتی ہے اس کا ایک سبب اس شعبے میں کام کرنے والےافراد کی کم تنخواہیں اور ان کے بنیادی حقوق سے حکومت کی بے اعتنائی شامل ہے۔ اور یہ قلت سرکاری اسپتالوں کی صورتحال میں مزید خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔بائیو میڈیکل انجینئر کی شدید قلت کے باعث سرکاری اسپتالوں میں موجودکروڑوں روپے کی درآمد کی گئی مشینری(مثلاوینٹی لیٹرز، انجیوگرافی، ایم آر آئی، سی ٹی سکین، ایکو کارڈیک گرافی، کارڈیک مونیٹرز، ای سی جی ) خراب ہوکر سکریپ کا ڈھیر بن جاتی ہے کیونکہ انھیں کوئی ٹھیک کروانے والا نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر آپ کے پاس بائیو کیمیکل کی ڈگری ہے تو آپ بطور پاکستانی بائیو میڈیکل انجینئر ڈیمانڈنگ پرسنالٹی ہیں ۔

بائیوکیمیکل انجینئرنگ میں پڑھائے جانے والے مضامین

بائیو میڈیکل انجینئرنگ میں میکینکل انجینئرنگ ،الیکٹرانکس انجینئرنگ ، مواصلات اورکمپیوٹر انجینئرنگ، کمپیوٹر انٹیگریٹڈ ، مینو فیکچرنگ ، جغرافیائی معلومات کے نظام ، بائیو ٹیکنالوجی ، بائیو میکانکس جیسےمضامین پڑھائے جاتے ہیں۔اس منفرد شعبے میں بائیو انسٹر،منٹیشن ، بائیو میٹریل ، بائیو میکانکس ، میڈیکل گرافکس ،جینیٹکس انجینئرنگ ، آرتھوپیڈک سرجری ، سیلولر اور ٹشو انجینئرنگ شامل ہیں۔

دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)