شکرانے کے نفل ادا کرنے والوں کا انجام؟

جمال خاشقجی کے قتل پہ سعودی اعترافی بیان افسانہ ترازی ہے- واشنگٹن پوسٹ

ادلب: دہشت گردوں کے کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانے میں دھماکہ، گیارہ ہلاک

اللہ تعالی نے جمال خاشقجی کے واقعہ میں سعودی عرب کو عالمی سطح پر رسوا کردیا ہے،سید حسن نصراللہ

اسرائیل کی دھمکیاں کھوکھلی ہیں: حزب اللہ کے نائب سربراہ

مہران باڈر میں طوفان کے نتیجے میں ایک زائر شہید ۱۵ زخمی

یمن: الحالی شہر پر سعودی بمباری پانچ عام شہری شہید، متعدد زخمی

نواز شریف، شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کیس کی سماعت ملتوی

’’خاشقجی کے قتل کی وضاحت ضروری ہے‘‘

افغانستان میں دھماکا، بچوں اور عورتوں سمیت 11 شہری ہلاک

پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا ٹھیکہ روس نے لے لیا

تائیوان میں خطرناک ٹرین حادثہ، 18 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی آبادی کو مسمار کرنے کا ارادہ مؤخر کردیا

صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت پر سعودی وضاحت ناکافی ہیں، جرمن چانسلر مرکل

کراچی: ’غلط چالان‘ پر خودسوزی کرنے والا رکشہ ڈرائیور چل بسا

آئندہ ای سی ایل میں نام کی اطلاع 24 گھنٹے میں کردی جائے گی: سیکریٹری داخلہ

9کشمیریوں کی شہادت پر وادی میں مکمل ہڑتال

مشترکہ تربیتی مشقوں کیلئے روسی فوجی دستے کی پاکستان آمد

’’جعلی اکاؤنٹس معاملہ، سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی‘‘

جنوبی پنجاب صوبے کا خواب پی ٹی آئی کے دور میں پورا ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب

وقت آگیاہےبھارت مسئلہ کشمیرکومذاکرات سےحل کرے، وزیراعظم عمران خان

جمال خاشقجی کا قتل ایک سنگین غلطی تھی: عادل الجبیر

وزیر اعظم عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کو بچانے کی کوششیں

ڈیرہ غازی خان میں دو بسوں میں خوفناک تصادم، 19 افراد جاں بحق

امریکا اور روس آمنے سامنے: ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کی منسوخی پر روس کی امریکا کو دھمکی

عالمی قوتوں کا صحافی کی موت پر سعودی وضاحت کو ماننے سے انکار، ٹرمپ یو ٹرن لینے پر مجبور

ایم ڈبلیوایم رہنما ناصرشیرازی کا وفد کے ہمراہ دورہ بہاولنگر، پولیس گردی کا نشانہ بننے والے خاندان سے اظہار یکجہتی

صحیفہ سجادیہ میں اسلامی سیاست کے طور طریقے موجود ہیں

33 ہزار پاکستانی زائرین ایران کے راستے کربلا کیلئے روانہ

سعودی عرب نے خاشقجی کے قتل کے بارے میں تمام حقائق بیان نہیں کئے

سعودی تعاون مگر کس قیمت پہ؟

ایرانی محافظوں کی بازیابی کیلئے آرمی چیف سے مدد کی درخواست

جمال خشوگی کیس، سعودی وضاحت سے مطمئن نہیں، ٹرمپ

بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہندو انتہا پسند شہری نے اسلام قبول کرلیا

کراچی این اے 247 میں 12 امیدوارمیدان میں

این اے 247 ضمنی الیکشن‘ صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نےاپنا ووٹ کاسٹ کردیا

نئے پاکستان کی تعمیر کی جدوجہد میں سب کوکردار ادا کرنا ہوگا ‘ عثمان بزدار

ملتان، جعلی ڈگریاں فروخت کرنے والال ٹیچر گرفتار

زائرین کو درپیش مسائل کیخلاف علمائے بلتستان کا احتجاج

شام: داعش نے 27 مغویوں میں سے دو خواتین اور 4 بچوں کو رہا کر دیا

روز لیلة الہریر

سینیٹر رحمن ملک کا وزیراعظم کو خط

جمال خاشقجی قونصل خانے کے اندر جھگڑے میں مارا گیا: سعودی اٹارنی جنرل

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا ریاستی جبر جاری، مزید 3 کشمیری جاں بحق

کابل پولنگ اسٹیشن دھماکہ: 5 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق

آئی این ایف معاہدہ: ’روس نے خلاف ورزی کی، امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا‘

جمال خاشقجی کی ہلاکت کے معاملے پر برطرف کیے گئے جنرل احمد العسیری کون ہیں؟

قندھار حملہ: ’طالبان اور پاکستان مخالف‘ جنرل عبدالرازق کون تھے؟

ایران کے خلاف امریکی اقدامات، مشرق وسطیٰ بحران کے لئے زہر قاتل: پیوٹن

غزہ: اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال، دسیوں افراد زخمی

ساڑھے تین منٹ میں 300 فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا: ایہود باراک

ضمنی الیکشن: قومی وصوبائی اسمبلیوں کی 3 نشستوں پر پولنگ جاری

غزہ: فلسطین کا بچہ بچہ سروں پر کفن باندھ کر دشمن کے خلاف میدان جہاد میں اترے گا: القسام

خشوگی کی لاش حوالے کی جائے، حقوق انسانی کی تنظیم کا سعودی عرب سے مطالبہ

افغانستان کے خونریز پارلیمانی انتخابات

پاکستانی زائرین اربعین کے لئے ایران میں سہولتیں

امریکی اراکین کانگریس کا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر زور

جمال خاشقجی کے قاتلوں کے نام اور تفصیلات

عمران خان کا نیا پاکستان عوام کیلئے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف سے لیا جانے والا موجودہ قرضہ آخری ہوگا، اسد عمر

وزیراعلیٰ سندھ نے بجلی بریک ڈاؤن کا نوٹس لے لیا

’’صوبہ بنانے کیلئے آئینی طریقہ کار موجود ہے‘‘

اساتذہ کی تربیت کے لیے عالمی اسکالرز کو پاکستان بلائیں گے: صوبائی وزیر تعلیم

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

’’بجلی بریک ڈاؤن، وفاق، نیپرا کے الیکٹرک سے جواب طلب کرے‘‘

کاروبارمیں اتارچڑھاؤآتے رہتے ہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے‘ اسد عمر

خاشقجی کے دو مشتبہ قاتلوں کی نئی تصاویر منظرعام پر

پاکستان کیلئےکھیلوں کی دنیا سےایک اوراعزاز

سعودی صحافی بہیمانہ قتل:خطیب جمعہ تہران کا سعودی عرب کے سنگین اور مجرمانہ جرائم کی طرف اشارہ

عرب علاقوں پر صیہونی قبضہ علاقے میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ: بشار جعفری

شیعہ سعودی شہری انتہائی سخت حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں: ہیومن رائٹس

2018-07-09 08:49:06

شکرانے کے نفل ادا کرنے والوں کا انجام؟

Image result for ‫حامد میر‬‎

تاریخ کو مسخ کر کے نئی تاریخ بنائی جا رہی ہے۔ احتساب عدالت کی طرف سے شریف خاندان کیخلاف سنائے گئے فیصلے پر عمران خان شکرانے کے نوافل ادا کر رہے ہیں اور شیخ رشید احمد صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی طاقتور کا احتساب ہوا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کا کہنا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اُنہیں دی جانیوالی سزا کی اصل وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے پچھلے ستر سال سے جمہوریت کیخلاف جاری سازشوں کا راستہ روکنے کیلئے نادیدہ قوتوں کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ یقین کیجئے کہ دونوں اطراف کے دعوے سُن کر مجھے ہلکے ہلکے جھٹکے لگے۔ دونوں نے تاریخ کو مسخ کیا۔ اس کی وجہ لاعلمی نہیں بلکہ سیاسی مفاد ہے۔ الیکشن قریب تر ہیں اور عوام سے سچ بول کر ووٹ حاصل کرنے کے بجائے جھوٹ بول کر ووٹ بٹورنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پہلی دفعہ کسی طاقتور کا احتساب ہوا ہے۔ جنکے پاس طاقت ہے اُنکا احتساب تو آج تک ہوا ہی نہیں احتساب تو صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے جنہیں اقتدار دے دیا جاتا ہے اختیار نہیں دیا جاتا اور اگر وہ تھوڑا بہت اختیار حاصل کر لیں تو اُسے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
آیئے میں آپ کو پاکستان کی تابناک سیاسی تاریخ کے کچھ واقعات یاد دلانے کی جسارت کرتا ہوں تاکہ

آپ جناب شیخ کے دعوے کو تاریخ کے آئینے میں پرکھ سکیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد سندھ کے گورنر غلام حسین ہدایت اللہ اور وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ گورنر صاحب نے قائد اعظمؒ کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کرپشن میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ کا موقف تھا کہ وہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کے مخالف ہیں اسلئے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور گورنر اُن کیخلاف ہو گئے۔ قائد اعظمؒ کی منظوری سے 26اپریل 1948ء کو گورنر نے وزیراعلیٰ کھوڑو کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا اور اُن پر کرپشن کے مقدمات قائم کر دیئے گئے۔ جسٹس عبدالرشید اور جسٹس شہاب الدین پر مشتمل ایک خصوصی عدالت بنائی گئی جس نے ایوب کھوڑو کو تین سال کیلئے نااہل قرار دیدیا۔ کچھ عرصہ کے بعد 14جنوری 1949ء کو وزیر اعظم لیاقت علی خان پروڈا کا قانون لائے اور انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ افتخار ممدوٹ سمیت کئی سیاستدانوں پر اس قانون کی تلوار چلائی۔ اس دوران ایوب کھوڑو کو سندھ ہائی کورٹ نے بحال کر دیا اور دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اُنہوں نے بھی پروڈا کا خوب استعمال کیا۔ کھوڑو نے وہی غلطی کی جو گورنر غلام حسین ہدایت اللہ اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے کی اور اس طرح پاکستان کی سیاست میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لینے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ چھ جولائی 2018ء کو شریف خاندان کیخلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا فیصلہ آنے کے بعد اس خاکسار نے نواز شریف کی لندن میں پریس کانفرنس سنی تو مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب 1997ء میں نواز شریف نے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد احتساب بیورو بنایا اور اپنے ایک منظور نظر سیف الرحمان کو اس بیورو کا سربراہ بنا دیا۔ سیف الرحمان نے اس وقت کی اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف بہت سے مقدمات قائم کئے تو جواب میں پیپلز پارٹی نے بھی نواز شریف پر الزامات لگائے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شریف خاندان نے اپنی ناجائز دولت سے لندن میں پراپرٹی خرید رکھی ہے۔ 13جولائی 1997ء کو میں نے روزنامہ پاکستان میں ’’عدالت جانا ضروری ہے‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں یہ عرض کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے وزیر اعظم نواز شریف پر بیرون ملک جائیداد اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے جو الزامات عائد کئے ہیں اگر وہ غلط ہیں تو انہیں محترمہ کے خلاف عدالت میں جانا چاہئے۔ میرے اس کالم پر نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر پرویز رشید نے ایک خط لکھا اور دعویٰ کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا میرے قائد پر الزام جعلسازی ہے۔ پرویز رشید کا جواب نصیر اللہ بابر مرحوم نے دیا۔ پھر پرویز رشید کا جواب الجواب آیا جو 15جولائی 1997ء کو شائع ہوا اور میں نے یہ لکھ کر دونوں سے اپنی جان چھڑائی کہ ایک دن کسی نہ کسی عدالت میں ان الزامات کا فیصلہ ضرور ہو گا۔ اس دوران سیف الرحمان نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو احتساب عدالت کے جج ملک قیوم سے سزا دلوانے کے انتظامات مکمل کر لئے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر ملک قیوم کے تمام ٹیلی فون انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے ٹیپ کئے جا رہے تھے کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ زرداری صاحب کے بہکاوے میں نہ آ جائیں۔ یہی وجہ تھی کہ ملک قیوم کی ناصرف سیف الرحمان بلکہ شہباز شریف، وزیر قانون خالد انور اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ راشد عزیز کیساتھ بھی گفتگو ریکارڈ ہوتی رہی۔ اپریل 1999ء میں ملک قیوم نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور زرداری کو قید، نااہلی اور جرمانے کی سزا سنائی تو محترمہ بیرون ملک اور زرداری جیل میں تھے۔ اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انٹیلی جنس بیورو کے ایک افسر نے حکومت کو تحریری طور پر بتایا کہ کس طرح سیف الرحمان نے جسٹس ملک قیوم پر دبائو ڈال کر پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف فیصلہ کیا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو وہاں بھی سیف الرحمان اور جسٹس ملک قیوم کی ٹیلی فون پر گفتگو سنی گئی۔ یہ ٹیلی فونک گفتگو کسی نامعلوم ذریعے سے نہیں آئی تھی بلکہ آئی بی نے اس کی ذمہ داری لی لہٰذا سپریم کورٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کر کے ملک قیوم کو ایک متعصب جج قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ تاریخ نے میرے خلاف کینگرو کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ یہ کینگرو کورٹ کسی اور نے نہیں نواز شریف نے بنائی تھی۔ جب نواز شریف سعودی عرب میں مقیم تھے تو ہمارے دوست جناب سہیل وڑائچ نے اُن سے کئی انٹرویوز کے بعد اُن کی ایک سوانح عمری 2007ء میں شائع کی۔ نواز شریف کی کہانی اُن کی اپنی زبانی ’’غدار کون؟‘‘ کے نام سے شائع ہوئی اور اس کتاب میں صفحہ 194پر نواز شریف نے سہیل وڑائچ کے سامنے اعتراف کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کا جس طریقے سے احتساب ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ نواز شریف نے کہا ’’ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دبائو تھا۔‘‘
عجیب بات ہے کہ 1990ء میں آئی ایس آئی نے آپ کو بڑے پیار سے ’’الیکشن فنڈ‘‘ دیا اور آپ نے یہ نذرانہ محبت وصول کرلیا۔ 1999ء میں آئی ایس آئی نے سیاسی مخالفین کو سزا دینے کیلئے دبائو ڈالا تو آپ نے دبائو بھی قبول کر لیا۔ جب دبائو ڈالنے والوں کے احتساب کا وقت آیا اور پرویز مشرف کیخلاف آئین سے غداری کا مقدمہ شروع ہوا تو آپ نے ایک خاموش ڈیل کے ذریعہ مشرف کو پاکستان سے بھگا دیا اور ذمہ داری سپریم کورٹ پر ڈال دی۔ مشرف نے بیرون ملک جا کر ٹھمکے لگانے شروع کئے تو میں نے گستاخی کرتے ہوئے اُنکے ٹھمکوں کی ایک ویڈیو ٹویٹ کر دی۔ ستمبر 2016ء میں مریم نواز نے میری اس ٹویٹ کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مشرف کا ذاتی معاملہ ہے کیونکہ وہ جنرل راحیل شریف کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ آج وہ کہتی ہیں کہ مشرف بھاگ گیا ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ مشرف بھاگا نہیں بھگایا گیا تھا۔ آپ نے بھگایا تھا۔ آپ کیساتھ ناانصافی کیخلاف ہم ضرور آواز بلند کرینگے لیکن آپ اپنی غلطیوں کا اعتراف کب کرینگے؟ نواز شریف کو سزا پر شکرانے کے نوافل ادا کرنیوالوں کا امتحان بھی شروع ہے۔ ان لوگوں نے عوام سے غلط بیانی بند نہ کی تو انکا انجام بھی دوسروں سے مختلف نہ ہو گا۔

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

عمران خان کے استاد

- بی بی سی اردو