پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے والے تکفیری عناصر کا ٹارگٹ اب افغانستان کیوں؟

پاک فوج ایک کروڑ پودے لگائے گی

دنیا کے سب سے بڑے پاکستانی پرچم کی رونمائی

اقوام متحدہ کے امن مندوب تین معاونین کے ہمراہ غزہ کی پٹی پہنچ گئے

غزہ میں تین شہداء کے جنازے، لاکھوں عوام آخری دیدار کے لیے امڈ آئے!

قزاقستان: ایران اور روس کے صدور کی ملاقات

مہاتیر محمد کا چین کیساتھ معاہدے ختم کرنے کا عندیہ

جرمنی میں مہاجر مخالف حملوں میں کمی آئی ہے: جرمن وزارت داخلہ

’’اومنی گروپ کی جائیداد، اکائونٹس کی قرقی کا حکم دیتے ہیں‘‘

عقد امام علی علیہ السلام و حضرت زھرہ (س)

ایران کو پتا ہونا چاہیے کہ اُس کے اقدامات پر اُس کی پکڑ ہوتی ہے: اماراتی سفیر

یمن میں عام شہریوں پر حملہ، سعودی اتحادی افواج نے الزامات مسترد کردیے

برطانیہ کی اسلحہ ساز فیکٹری میں دھماکا، ایک شخص ہلاک، ایک زخمی

ناسا نے سورج کی جانب پہلا ’’پارکرسولر پروب ‘‘ نامی خلائی جہاز بھیج دیا

پاکستانی نژاد بشپ نے نقاب پر پابندی کی حمایت کر دی

انڈونیشیا میں طیارہ کو حادثہ ، 8 افراد ہلاک

شام : اسلحہ گودام میں دھماکہ ، 39شہری جاں بحق

بھارتی کرکٹر نوجوت سدھو نے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

بنی گالا تا پارلیمنٹ ہاؤس سیکیورٹی انتظامات

آزاد کشمیر، کلیاں نالے پر پل بیٹھ گیا، دو افراد جاں بحق

رینجرز کارروائی، ڈیرہ غازی خان سےاسلحہ برآمد ،6 ملزمان گرفتار

نو منتخب ارکان خیبرپختونخوا اسمبلی نے حلف اٹھا لیا

قومی اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھالیا

اسلام آباد: العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت 15 اگست تک ملتوی

گیلانی کی سکیورٹی واپس لینے پر بلاول کا شدید ردعمل

پی ٹی آئی کے وفد کی ایاز صادق سے ملاقات

برطانیہ:نامعلوم شخص کی فائرنگ سے 10 افراد زخمی

جہانگیر ترین، علیم خان کی چوہدری برادران سے ملاقات

غزہ سے آتش گیر کاغذی جہازوں سے اسرائیل میں 7 مقامات پر آتش زدگی

ترکی کا ایران کیساتھ قومی کرنسی میں تجارت کرنے کا اعلان

ایران :بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

ابوظہبی دہشتگرد گروہ القاعدہ کا خفیہ کیمپ ہے:ترجمان انصار اللہ

شمال مغربی ایران میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ

یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کے رہنما کی عمران خان کو مبارکباد

امریکی ایلچی کی “حماس” کو مٹانے کی گھناؤنی سازش

کل ملک کی جمہوری تاریخ کا اہم دن کیوں؟

امریکا سے تجارتی جنگ چھڑنے کے بعد اردوان کا پیوٹن سے رابطہ

ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر عراقی صدر کی تاکید

روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیق کرانے سے میانمار کی حکومت کا انکار

امریکا سعودی جارحیت میں برابر کا شریک ہے،سینیٹر برنی سینڈرز

اسرائیل ،فلسطینی مزاحمت کی محکم ضربوں کو تحمل نہیں کر پائےگا:حسین امیر عبداللہیان

سعودی عرب نے فوجی بجٹ میں اضافہ کردیا

ڈیرہ اسماعیل خان: ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ کب رکے گا؟

مراد علی شاہ وزیراعلیٰ اور سراج درانی اسپیکر سندھ اسمبلی کے امیدوار نامزد

اسد قیصر اور پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی کی نشستیں چھوڑ دیں، ذرائع

ریفارم کا مقصد سرمایہ کاری کی فضا سازگار بنانا ہے، شمشاد اختر

کرپشن ریفرنس ، ڈاکٹر عاصم کیخلاف سماعت 18اگست تک ملتوی

طالبان اور افغان حکومت کا غزنی پر کنٹرول کا دعویٰ

’’ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد نہیں ہونے دیں گے‘‘

الاسکا کا ڈیلٹن ہائی وے دنیا کا خطرناک ترین زمینی راستہ

ایرانی حکومت کا مؤقف ہٹلر کی پالیسیوں کے مشابہ ہے، امریکی سینیٹر

بھارتی رکن پارلیمنٹ نے مودی کے خلاف احتجاجاً ہٹلر کا حلیہ اپنا لیا

زمبابوے: صدارتی انتخابات کے نتائج عدالت میں چیلنج

چین: مسجد کے انہدام کے خلاف سینکڑوں مسلمان سراپا احتجاج

اصغر خان کیس 15 اگست کو سماعت کیلئے مقرر، نواز شریف اور دیگر کو نوٹس جاری

اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس اللہ ہے: رجب طیب اردوغان

سعودی عرب :یمن میں بچوں کی ہلاکت تحقیقات کی جائے گی

ڈی آئی خان میں وزیرستان طرز کا آرمی آپریشن کیا جائے، ایم ڈبلیو ایم کا مطالبہ

’الیکشن میں اقلیتوں کی کامیابی بڑی پیشرفت ہے‘

گلگت میں پولیس چوکی پر فائرنگ ،3 اہلکار شہید

تربیلا اور منگلا میں پانی کے ذخیرے میں بہتری

گوجرانوالہ میں فائرنگ سے جنرل کونسلر جاں بحق

عمران خان کی اہلیہ کے پہلے شوہر خاور مانیکا کی شادی

عمران خان کا شاہ فرمان کو گورنر خیبرپختونخوا بنانے کا فیصلہ

امریکا میں ہائی جیک کیا گیا طیارہ گر کر تباہ

دالبندین میں بس پر خودکش حملہ، 5افراد زخمی

شیعہ نسل کشی : متاثرین کے نکتہ نظر سے تکفیریت کا جائزہ

حزب اللہ لبنان کی یمنی اسکول کے بچوں کی بس پر سعودی عرب کے حملے کی مذمت

مسلم نیٹو کی تشکیل ناممکن ہے:سابق ایرانی سفیر

بی بی سی نے اسرائیل کے دباؤ پرغزہ پر اسرائیلی حملے سے متعلق خبر کی سرخی تبدیل کردی

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی تفصیلات جاری

2018-08-06 12:28:57

پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے والے تکفیری عناصر کا ٹارگٹ اب افغانستان کیوں؟

133

تحریر:سید نجیب الحسن زیدی

ہمارا قتل ہی ہماری صداقت و سچائی کی گواہی ہے اور یہ ہمارے مد مقابل کی عاجزی ہے کہ اس کے پاس کوئی اور چارہ کار نہیں ہے سوائے اسکے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہمیں راستے سے ہٹا دیا جائے جبکہ یہ بھی اسکا گمانِ باطل ہے، ہم نے تو شہادتوں کا سلیقہ کربلا سے سیکھا ہے.

ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے روز ہی یہ خبر آتی تھی کہ فلاں شیعوں کی مسجد میں دہشت گردوں نے گھس کر فائرنگ کر دی اور بے گناہ نمازیوں کے خون سے مسجد کو رنگین کر دیا، کبھی سننے میں آتا تھا کسی امام بارگاہ میں کسی دہشت گرد نے خود کو اڑا لیا جسکے نتیجے میں متعدد عزادار شہید ہو گئے کبھی خبر آتی کسی جلوس پر حملہ ہوا گیا ، یا پولیس کے لباس میں آئے دہشت گردوں نے راست فائرنگ کے ذریعہ بے گناہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو موت کی نیند سلا دیا ،کبھی کسی مزار پر حملے کی خبر آتی تو کبھی کسی خانقاہ کو نشانہ بنایا جاتا لیکن ان تمام دہشت گردانہ کاروائیوں میں ایک چیز مشترک ہوتی اور وہ یہ کہ جو ان حملوں کا نشانہ بنتے وہ سب کے سب بیشتر ایک عقیدے کے ماننے والے ہوتے خاص کر مساجد و امام بارگاہوں میں شہید ہونے والے تو یقینی طور پر اپنے عقیدے کی بنا پر اس لئے نشانہ بنتے کے وہ شیعہ ہیں جبکہ مزار و خانقاہوں میں نشانہ بننے والے یا تو اسلئے نشانہ بنتے کہ امن و سلامتی کا پیغام عام کرنے والے صوفی منش لوگ ہیں یا اس لئے نشانہ بنتے کہ برملا اور واضح طور امام علی علیہ السلام سے اپنے عشق کا اظہار کرتے نظر آتے، مکتب کربلا سے وابستگی اور عشق علی ؑ کا اظہار یہ دونوں ہی وہ چیزیں تھیں جو ایک زمانہ تک پاکستان کے کچھ علاقوں میں ایک طرح سے جرم جانی جاتیں اور تکفیری عناصر انہیں موت کی نیند سلا کر اپنے لئے بزعم خود جنت کی راہ ہموار کر لیتے جو علیؑ علیؑ کرتے، غم کربلا کے ساتھ جینے اور مرنے کا عہد کرتے اور سر عام یزیدیت مردہ باد کے نعرے لگاتے، اور حسین زندہ باد کہتے ہوئے اپنے تاریخی پس منظر کو بیان کرتے۔

پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے ان حملوں میں ایک اور چیز جو مشترک ہوتی وہ قاتلوں کا مذہب اور انکی فکر، جس طرح زیادہ تر دہشت گرد انہ کاروائیوں کا شکار ہونے والے مکتب اہلبیت سے وابستہ ہوتے انکا جرم یہ ہوتا کہ اہلبیت اطہار علیھم السلام سے عقیدت رکھتے ہیں اسی طرح بیشتر دہشت گردانہ کاروائیوں کا تعلق تکفیری اور سلفی فکر سے ہوتا۔ کل جو کچھ پاکستان میں ہو رہا تھا اور آج بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کب کیا ہو جائے وہی آج افغانستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے، کتنا عجیب ہے جو مذہب پاکستان میں بسنے والے خاص تکفیری و سلفی فکر کے حامل انسانیت کے دشمنوں اور قاتلوں کا ہے وہی مذہب افغانستان میں بسنے والے کج فکر قاتلوں کا بھی ہے ، تکفیری عناصر کے ذریعہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں شہید ہونے والے جس جرم کے مرتکب ہوئے اسی جرم کے مرتکب افغانستان کے بے گناہ بوڑھے جوان، اور عورتیں بھی ہیں۔

یہ جرم ہے جرم محبت اہلبیت (ع)، یہ جرم معمولی نہیں ایسا جرم ہے کہ جسکی بنا پر بزعم خود بڑی آسانی سے دشمن کفر کا فتوای لگا کر تکفیری عناصر اپنی دہشت پسندانہ کاروائیوں کا جواز فراہم کر لیتے ہیں لیکن اب یہ اتفاق ہی ہے کہ کربلا سے لیکر آج تک تکفیری و سلفی فکر نے بس فتوے لگا کر اپنے مد مقابل کو کافر کہہ کر اپنے لئے محض ایک بہانہ ضرور تراشا ہے کہ اپنے ضمیر کو تھپکی دی جا سکے اور لوگوں کے سوال کا کوئی تو جواب ہوکہ جب پوچھا جائے “بای ذنب قتلت” تو کہا جا سکے کہ کافر تھے اس لئے قتل واجب تھا ، اس بہانے کے سوا ،انکے پاس نہ اپنے ضمیر کی آواز دبانے کے لئے کچھ ہے نہ دوسروں کوجواب دینے کے لئے کچھ جبکہ چاہے وہ سرزمین پاکستان ہو یا آج کی افغانستان و شام کی زمین جنہیں قتل کیا جا رہا ہے ، انکے جسم کا قطرہ قطرہ اپنی حقانیت کی گواہی دے رہا ہے کہ اگر ہم سچائی و حق کے راستے پر نہ ہوتے تو ہمارا دشمن کیوں کر ہمیں جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے قتل کرتا ، ہمارا قتل ہی ہماری صداقت و سچائی کی گواہی ہے اور یہ ہمارے مد مقابل کی عاجزی ہے کہ اس کے پاس کوئی اور چارہ کار نہیں ہے سوائے اسکے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہمیں راستے سے ہٹا دیا جائے جبکہ یہ بھی اسکا گمانِ باطل ہے، ہم نے تو شہادتوں کا سلیقہ کربلا سے سیکھا ہے، یہ تو کربلا سے اب تک کی ریت چلی آ رہی ہے کہ ہر وہ سر کٹے گا جو انفردای و اجتماعی طور پر ملک و قوم کی سربلندی کا سبب ہوگا ،ہم تو اپنی سربلندی کا خراج شہادتوں کے ذریعہ ادا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ،جب کربلا کے تپتے صحرا میں ہزاروں کے درمیان سربلند محض ۷۲ تھے ، اور انہیں باک نہ تھا ہزاروں سرنگوں یزیدیوں سے، تو آج ہمیں کیوں کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہے ، نہ کل حسین ؑنے یزیدیت کے خوف سے اعلان حق چھوڑا تھا نہ آج ہم حسینت کا درس دینے والی مسجدوں اور امام بارگاہوں کو چھوڑیں گے نہ کل حسین نے یزیدیت کے خوف سے اس کی بیعت کی تھی نہ آج ہم دامن حسینت کو چھوڑ کر استکباری آقاؤں کے سامنے خم ہونا پسند کریں گے ۔

یہی وجہ ہے جن لوگوں پر ایک خاص طبقے کی جانب سے جس طرح کل عرصہ حیات کو پاکستان میں تنگ کر دیا گیا تھا آج افغانستان میں ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ، گزشتہ جمعہ خونین جمعہ کو کون بھول سکتا ہے جہاں ایک طرف ایک شیعہ مسجد میں گھس کر ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور پھر دوسرے نے تابڑتوڑ فائرنگ کر کے ۲۹ یا اس سے زائد نمازیوں کو شہید کر دیا، شیعوں پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں میں یہ چھٹا یا ساتواں حملہ ہے جس میں خاص کر شیعوں کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے جبکہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران کےعلاوہ جب شیعہ و سنی مسلک و فرقوں سے ماوراء اپنے دشمن سے اپنی سرزمین کے لئے لڑ رہے تھے ہمیشہ ہی شیعہ مظلوم رہے ہیں کون بھول سکتا ہے ۹۰ کی دہائی میں کس طرح طالبان نے سفاکیت و درندگی کا ننگا ناچ ناچتے ہوئے ہزاروں ہزارہ شیعوں کو صرف اسی جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کہ وہ محبت اہلبیت ؑ کے مجرم تھے، در اہلبیتؑ سے وابستہ ہونے پر فخر کرتے تھے۔ علاوہ از ایں افغانستان میں بسنے والے قریب بیس فیصد شیعوں کو یوں تو ہمیشہ ہی اکثریت کی طرف سے مختلف خطرات رہے لیکن طالبان کے خاتمے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ شیعوں کو ایک نسبی آزادی نصیب ہوئی تھی ، لیکن حالیہ ہونے والے حملوں اور ان کی کیفیت کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ جیسے کچھ طاقتوں نے جس طرح پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک کر کھوکھلا کر دیا ویسے ہی کچھ طاقتیں در پردہ تکفیری عناصر کی پشت پناہی کرتے ہوئے افغانستان کو تباہ و برباد کر دینے کے درپے ہیں، دور از قیاس نہیں کہ شام میں لڑنے والے افغانستان کے جیالے جوانوں کے عزم و ہمت کے سامنے بے بس ہونے کے بعد تکفیری و سلفی عناصر کو سامراج نے ایک نیا راستہ دکھا دیا ہو کہ اگر فاطمیون سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو فاطمیون جیسے لشکروں کو تشکیل دینے والے جوانوں کے وطن کو تو نا امن بنا سکتے ہو، انکا نشیمن تو برباد کر سکتے ہو تاکہ ہم اپنے اہداف کو بہ آسانی حاصل کرتے چلے جائیں، اور ہمارے مقابلے پر آنے والے افغانستان کے جوان اپنے ملک و وطن میں اپنے خاندان والوں کی حفاظت کے لئے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔

لیکن یہ تکفیری عناصر اور انکے مائی باپ بھول گئے کہ کربلائی عزم کے سامنے نہ وہ پاکستان میں ٹک سکے، نہ شام میں اور نہ افغانستان میں ہی انہیں کچھ حاصل ہونے والا ہے، اس لئے کہ شکست ہی انکی تقدیر ہے اور انکی تقدیر کی سطروں کو آج نہیں ۱۴ سو سال پہلے لکھ دیا گیا تھا ، اور اس تحریر کو حسین ابن علی علیہ السلام نے یزید کے سامنے انکار بیعت کر کے کربلا کے تپتے ریگزاروں پر اپنے پاکیزہ لہو سے لکھا تھا سو زمین بدلے گی ، وقت بدلے گا لیکن حسینی انداز جو کل تھا وہی رہے گا ، کل پاکستان کی سرزمین تھی آج افغانستان کی ہے اور کل اور کوئی ہوگی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)