یورپی اتحادی امریکہ سے قطع تعلقی کی راہ پر؟

ایشیا کپ سپر فور،پاکستان کی بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ

شمالی وزیرستان میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ، آرمی چیف کی شرکت

حالات کشیدہ ہونےکےباوجود پاکستان کرتار پور بارڈر کھولنے کو تیار‘ فواد چوہدری

گرمی کی لہر کے پیش نظر وزیراعلیٰ سندھ کےاحکامات

بھارت کی جانب سے ستلج، راوی اورچناب میں پانی چھوڑے جانے کا امکان

بھارت کچھ کرے توسہی اس کو صحیح سبق سکھایا جائے گا‘ پرویز مشرف

عمران خان بانیان پاکستان کے خواب کو تعبیردے رہے ہیں ‘ وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعظم عمران خان لاہور پہنچ گئے

بارہ محرم کے اہم واقعات

مصر میں شیعہ مسلمانوں کو یوم عاشور منانے نہیں دیا گیا

پیوٹن کا اسرائیلی ایئرفورس چیف سے نہ ملنے کا عزم

برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ

الیکشن بائیکاٹ کے علاوہ بھارت کو اپنی بات سنانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تھا، عمر عبداللہ

چین نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات منسوخ کر دیئے

روسی صدر کی اہواز میں فوجی پریڈ پر دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت

افغانستان میں بم دھماکہ، 8 بچے جاں بحق اور 6 زخمی

تنزانیہ: جھیل میں کشتی الٹ گئی، 100 سے زائد افراد ہلاک

بھارت کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے تک مذاکرات نہیں کرے گا، تجزیہ کار

ترکی میں 110 فوجی اہلکار گرفتار

عراقی وزير خارجہ نیویارک روانہ ہو گئے

انصار اللہ کا سعودی عرب کی جارح فوج کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

اقتصادی جنگ میں امریکہ کی شکست یقینی ہے: ایرانی صدر حسن روحانی

اہواز کے دھشتگردانہ حملے کے موقع پر قوم کے نام رہبر انقلاب اسلامی کا تعزیتی پیغام

تصاویر: ایران میں فوجی پریڈ پر مسلح افراد کا حملہ

قتل حسین کے بعد نساء اہل بیت کے مرثیے – عامر حسینی

ایران میں فوجی پریڈ پر حملے میں شہدا کی تعداد 29 ہو گئی

شام میں روسی جہاز گرنے کا ذمہ دار اسرائیل: روسی وزیر دفاع

افغانستان: بم دھماکے میں 8 بچے جاں بحق، 6 زخمی

سعودی جارحیت سے یمنیوں کو خطرناک قحط کا سامنا ہے، انسانی حقوق

’قانون نافذ کرنے والوں نے عاشورہ محرم پرامن بنایا‘

حضرت امام حسینؑ کی جدوجہد نے ثابت کر دیا کہ دین کا نظم سب سے بڑھ کر ہے، طاہرالقادری

جنگ یمن نے سعودی معیشت کی چولیں ہلا دیں، شاہی حکومت قرضہ لینے پر مجبور

یمنی عوام امن و استحکام کے خواہاں ہیں: انصاراللہ

کربلا سے ہم سیکھتے کیا ہیں؟

’بھارت کے منفی جواب پر مایوسی ہوئی‘

حضرت امام حسینؑ نے عظیم مقصد کیلئے قربانی دی ‘ ڈاکٹر رخسانہ جبین

پاکستان کی ایران میں فوجی پریڈ پرحملے کی شدید مذمت

واقعہ کربلا تاریخ اسلام کاہی نہیں تاریخ کا درخشندہ باب ہے،گورنرپنجاب

امام حسین ؑنے امت کو جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا ولولہ دیا، علامہ اوکاڑوی

مسلم حکمران اقتدار بچانے کیلئے یزیدان عصر کے کیمپ میں جا بیٹھے ہیں،آغا سید حامد علی شاہ موسوی

امریکا پابندیاں ختم کرے یا نتائج کیلئے تیار رہے،چین

بریکنگ نیوز| اہوازمیں فوجی پریڈ پر دہشت گردوں کا حملہ، سپاہ پاسداران کے 8 اہلکار شہید 7 زخمی

آغا سید حسن کی قیادت میں بڈگام اور جڈی بل میں جلوس ہائے عاشورا

عراق: ابوبکر البغدادی کے نائب کو سزائے موت سنادی گئی

ایران شام میں تعمیری کردارادا کررہا ہے:تجریہ نگار جان کرسٹن

حکومتی قدغن کے باوجود لالچوک سے جلوس عاشورا برآمد، عزاداروں کی گرفتاریاں اور پولیس تشدد

بحرین: حسینی عزاداروں پر حملہ، جمعیت الوفاق کی جانب سے شدید مذمت

امام حسین علیہ السلام کا راستہ عزت و کرامت اور آزادی کا راستہ ہے، سید حسن نصراللہ

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

کربلا میں گیارہ محرم

یمن کی سڑکوں کی فضا میں لبیک یاحسین اور ھیہات منا الذلہ کی گونج

نائیجیریا میں عزاداروں پر پولیس اور فوج کے حملے

سعودی عرب ،یمن میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے سلسلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے

سفرِ کربلا ۔ امام حسین علیہ السلام کی آخری قربانی

حضرت امام زمان (عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

واقعہ کربلا کا سوز اوردرد و غم 14 صدیاں گزرنے کے باوجود ہمارے دلوں میں موجود ہے

پاکستان میں یوم عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

محرم میں نواسہ رسول کی یاد منانے والوں پر تنقید کرنے والوں کی خدمت میں

تصاویر: لندن میں 29 واں سالانہ روز عاشورا کا جلوس عزا

بھارت پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات طے کرکے مُکرگیا

واقعہ کربلا ثابت قدمی اور استقامت کی مثال ہے: وزیراعظم عمران خان

حضرت امام حسین(ع) غیروں کی نظر میں

کیا امام حسین (علیہ السلام) اپنی شہادت سے باخبر تھے ؟

کربلائے معلیٰ میں لاکھوں زائرین کی موجودگی میں مقتل خوانی

عراق و ایران میں شام غریباں

امام حسین علیہ السلام کی شہادت

یوم عاشورا حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ تجدید بیعت کا اعلان

لندن میں حسینی عزاداروں کے اجتماع پر گاڑی کے ذریعہ حملہ

مسجد نبویﷺ کے بیرونی صحن میں فائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار

پاراچنار، شب ہشتم کا ماتمی جلوس

2018-09-03 09:00:28

یورپی اتحادی امریکہ سے قطع تعلقی کی راہ پر؟

y

تحریر: عرفان علی

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے ساتھ ہی پوری دنیا کو سخت آزمائش میں ڈالنے والے فیصلے بھی سنائے ہیں۔ مئی میں انہوں نے ایران پر نئی پابندیاں لگائیں تو یہ بھی واضح کر دیا کہ جو کوئی بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، ان کمپنیوں اور افراد پر بھی امریکی پابندیاں لاگو ہوں گی، یعنی وہ امریکہ کے ساتھ کاروبار نہیں کرسکے گا۔ نومبر سے ان پابندیوں میں ایک اور اضافہ ہونے جا رہا ہے کہ ایران کی تیل کی صنعت پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہر وہ ملک یا کمپنی جو ایران سے تیل خریدے گا، اسے بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپی یونین کے ممالک خاص طور جرمنی، فرانس اور انکے علاوہ بھارت اور چین کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کئے تھے، اس لئے پانچ جمع ایک گروپ کا رسمی نام ای تھری پلس تھری تھا، جس میں ای (ای یو) یورپی یونین کا مخفف تھا۔ امریکہ کے ساتھ بھی مذکورہ ممالک کے اچھے تجارتی تعلقات ہیں، جو کہ ٹرمپ کی شروع کردہ تجارتی جنگ کے بعد سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

ایران سے خرید و فروخت یا ایران میں سرمایہ کاری کرنے کی وجہ سے ان ممالک کی سرکاری و غیر سرکاری شخصیات، اداروں اور کمپنیوں کو بھی امریکی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سال 2015ء میں فرانس کے بین الاقوامی بینکاری گروپ بی این پی پیباس کے خلاف مین ہٹن میں امریکی جج نے ایران، کیوبا اور سوڈان پر پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے ایک مقدمے میں 8.83 بلین ڈالر ضبط کرنے اور 14 کروڑ ڈالر جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ ان ممالک کے لئے باقی سارے نقصانات ایک طرف، سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جو بھی بینک ایران سے متعلق ٹرانزیکشن کرے گا، وہ بینک اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اہم شخصیات پر بھی امریکی پابندیوں کا اطلاق ہوگا، وہ امریکہ کے کسی بینک کے ساتھ ٹرانزیکشن نہیں کرسکیں گے اور امریکی مالیاتی نظام ان سے قطع تعلق کرلے گا۔ اس وقت دنیا میں بین الاقوامی خرید و فروخت کی مد میں ایک ملک سے دوسرے ملک جو ادائیگی ہوتی ہے، وہ سوئفٹ نظام کے تحت ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بینکوں کا آپس میں رابطے کا ایک نظام ہے جسے سوئفٹ کہتے ہیں، یعنی سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹربینک فائنانشل ٹیلی کمیونیکیشن(SWIFT)۔

البتہ ایک ملک سے دوسرے ملک خرید و فروخت کی مد میں جو ادائیگی ہوتی ہے، وہ ڈالر میں ہوتی ہے تو درمیان میں (انٹرمیڈیئری بینک) امریکہ کے توسط سے ہی یہ ترسیل ممکن ہوتی ہے۔ سوئفٹ بیلجیم کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ہے لیکن یہ ادارہ تقریباً چوبیس ہزار بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی مشترکہ ملکیت ہے اور گیارہ ہزار مالیاتی اداروں پر مشتمل نیٹ ورک کے تحت پوری دنیا کے بینکاری نظام میں رابطے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس نظام سے منسلک بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات کا پیغام بھیجتے ہیں اور جس ملک کی کرنسی ہوتی ہے، اس ملک کے مرکزی بینک یا دیگر بینک جس کو یہ اختیار ہوتا ہے، اس کے توسط سے ادائیگی ممکن بنا دی جاتی ہے۔ اگر ادائیگی ڈالر میں کرنی ہے تو لامحالہ امریکی بینکاری نظام کے ذریعے ہی ادائیگی ہوتی ہے، یعنی جس ملک کی بھی کرنسی ہے، اس کے بینکاری نظام کے توسط سے ہی ادائیگی ہوتی ہے۔

اس صورتحال سے پریشان ہوکر جرمنی کے وزیر خارجہ نے کراس بارڈر رقوم کی ادائیگی کے نئے طریقہ کار کی تجویز پیش کی ہے، کیونکہ معلوم ہے کہ جب تک بین الاقوامی تجارت کی کرنسی ڈالر ہے، تب تک امریکی حکومت دنیا کے کاروباری معاملات پر اثر انداز رہے گی۔ ستائیس اگست 2018ء کو جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو مآس نے برلن میں وزارت خارجہ میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں یورپی یونین پر زور دیا کہ امریکہ کے مقابلے پر اپنی اقتصادی خود مختاری کو یقینی بنائیں اور دیگر ممالک کو ادائیگیوں کا یورپی یونین کا اپنا متبادل چینل قائم کریں اور امریکہ کے تسلط اور امریکہ پر انحصار کو ختم کریں۔ انہوں نے ایران کو ادائیگیوں کے لئے متبادل چینل بنانے کا اشارہ بھی دیا۔ لیکن ایک طرف جرمنی کے وزیر خارجہ اتنی بڑی بات کہہ رہے ہیں، لیکن دوسری جانب برطانوی اور فرانسیسی ایئرلائنز دونوں نے ہی ایران روٹ پر اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور وجہ یہ بتائی کہ غیر منافع بخش کاروبار ہے، جبکہ ٹائمنگ بتا رہی ہے کہ یہ امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ اس لئے ماہرین جرمنی کی اس خواہش کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔ روس کے مرکزی بینک کی سربراہ الویرا نبیعلینا نے مئی 2018ء میں کہا تھا کہ امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے روس اپنے کراس بارڈر بینکنگ نظام قائم کرنے کے لئے سال 2014ء سے کام کر رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین سمجھتے ہیں کہ چین یہ متبادل چینل قائم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

یورپی یونین نے ایران کے لئے حال ہی میں 18 ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا، جس پر امریکی حکومت کی طرف سے منفی ردعمل ظاہر کرکے اسے غلط وقت پر غلط اشارہ قرار دیا گیا اور امریکی عہدیدار نے یورپی یونین کو تاکید کی کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے۔ یورپی یونین کی امداد اور اعلانات کے باوجود ایران واضح کرچکا ہے کہ یورپی یونین امریکی پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کو یقینی بنائے، ورنہ نیوکلیئر معاہدے پر ایران یکطرفہ عمل نہیں کرے گا، بلکہ اسکے ساتھ جو رسمی وعدے معاہدے میں کئے گئے ہیں، ان پر عمل کرنا اور کروانا نیوکلیئر ڈیل کے دیگر فریقوں اور خاص طور یورپی یونین کی جانب سے معاہدے پر دستخظ کرنے والے تین ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی بھی ذمے داری ہے۔ ایک جانب مسلمان حکومتوں کو امریکہ نے مشکل میں ڈال رکھا ہے تو دوسری جانب اب یورپی یونین اور بھارت کو بھی امریکہ اور اپنے مفادات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا وقت آگیا ہے۔

فرانس کے صدر امانویل میکرون نے پیرس میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اپنے دفاع و سلامتی کے ضمن میں مزید امریکہ پر انحصار نہیں کرسکتا اور یورپ کو جلد ہی اپنے دفاع و سلامتی کا انتظام خود اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ کم از کم اس نے خود کو آزاد و خود مختار سمجھنے والے یورپی ممالک کو بھی انکی اوقات یاد دلا دی ہے کہ امریکہ کی نظر میں انکی حیثیت بھی مسلمان ممالک جیسی ہی ہے۔ دنیا کی حکومتیں ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، جس میں امریکہ کے اتحادی مذکورہ ممالک کی اپنی ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے کہ آیا وہ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر امریکا کو ’’نو مور‘‘ کہنے کی جرات کر پاتے ہیں یا نہیں۔ ان ممالک کی صرف زبانی کلامی ناراضگیوں اور الزامات اور جوابی الزامات پر اب کوئی ان ممالک کو سنجیدہ نہیں لے گا۔ اب کہنے کا وقت گذر گیا، اب کرکے دکھانے کا وقت آگیا ہے۔

یہ یورپی ممالک، چین اور روس اور دیگر متاثرہ مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر ایک نئے بین الاقوامی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھنے کے لئے سنجیدہ عملی اقدامات کریں تو ایسا ممکن ہے، لیکن کیا یورپی یونین میں اتنی جرات ہے کہ وہ ایسا کرسکے۔ کیا واقعی وہ امریکہ سے قطع تعلق کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اشارے تو ایسے ہی دیئے جا رہے ہیں اور ٹرمپ نے ان کے لئے کوئی باعزت متبادل چھوڑا ہی کب ہے۔؟ امکانات تو ہمیشہ سے موجود رہے لیکن یورپ کے ان تین بڑے ممالک کے ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو بالکل بھی یقین نہیں آرہا کہ یہ یورپی ممالک امریکہ کے خلاف کوئی نیا بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کی ہمت نہیں کرسکیں گے۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے جزولاینفک یعنی بینکاری کے شعبے میں امریکہ مخالف چینل قائم کر لینا، یہ عالمی سیاست میں کسی ٹیکٹونک شفٹ سے کم نہیں ہوگا لیکن ان کے ماضی کے پیش نظر ایسا ہونے کی امید کم ہی ہے۔

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

بڑھاپے کا بچپن

- ایکسپریس نیوز

7 ارب انسانوں کی نجات

- ایکسپریس نیوز

خدا کے لیے کچھ سوچو

- ایکسپریس نیوز

بھولی بسری یادیں

- ایکسپریس نیوز

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

جام جم - 23 ستمبر

- سحر ٹی وی