بصرہ کے واقعات اور شیعہ گروہوں کی سیاسی بصیرت

امریکی عدالتی کارروائی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، مرضیہ ہاشمی کے بچوں کا بیان

امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف عراقیوں کا احتجاجی اجتماع

امریکا پر ترک حکومت کی تنقید

شام میں عراقی فورسز کی کارروائی، 35 داعشی ہلاک و زخمی

افسوس حکمران اشرافیہ ملک کی خوبصورتی کونہیں سراہتی، یہی وجہ ہے ای سی ایل ان کے لیے بڑی آفت ہے، وزیراعظم

'بلاول کو سیاست کیلئے زرداری کے بجائے بھٹو بننا پڑے گا'

یمن میں بچے سکولوں سے نکل کر مزدوری کرنے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دوبارہ ملاقات آئندہ چند ہفتوں میں متوقع

شام: اسلحہ ڈپو پر بمباری سے 11 افراد ہلاک

وزیراعظم کی سی پیک کے تحت اقتصادی منصوبے تیز کرنے کی ہدایت

خطے میں ایران کا کردار مثبت اور تعمیری ہے: اقوام متحدہ

امریکی اتحادی جنگی طیاروں کی بمباری 20 جاں بحق

پرامن واپسی مارچ پر فائرنگ 43 فلسطینی زخمی

الحدیدہ پر سعودی اتحاد کے حملے میں یمنی شہریوں کا جانی نقصان

مغربی حلب میں شامی فوج نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کر دیا

گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کا مطالبہ

امریکہ کی ایران مخالف تجویز پر اردن کی مخالفت

افغان مفاہمتی عمل پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ پر وکیل کو کانگریس سے جھوٹ بولنے کی ہدایات دینے کا الزام

راحیل شریف کو سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے این او سی جاری

پولیس کا مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن، 10 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد

پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل ، خواجہ برادران کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا

ملٹری کورٹس فوج کی خواہش نہیں، ملک کی ضرورت ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت: صحافی کے قتل کے جرم میں مذہبی پیشوا کو عمر قید کی سزا

کسی کاباپ بھی پی ٹی آئی حکومت نہیں گراسکتا،فیصل واوڈا

ممتاز دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کے الیکٹرک کے نئے چیئرمین مقرر

نواز شریف کا لابنگ کےلئے قومی خزانے کے استعمال کا انکشاف ، وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا

فیس بک نے روس سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں اکاؤنٹس اور پیجز بند کردیے

شام میں داخلے کے لئے سرحدی علاقوں میں عراقی فورسز چوکس/ امریکی داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں!

’رزاق داؤدسےمجھے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں‘

وزیراعظم کی سی پیک پر کام تیز کرنے کی ہدایت

سوڈان: روٹی کی قیمت پر احتجاج میں شدید، مزید دو افراد ہلاک

کولمبیا میں کار بم دھماکہ، 90 ہلاک و زخمی

ٹرمپ کے حکم پرانتخابات میں دھاندلی کرنے کا اعتراف

آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا

برطانوی وزیر اعظم نئی مشکل سے دوچار

صوبائی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جسٹس مقبول باقر

امریکہ کو ایران کا انتباہ

بحرین میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال

سعودی فوجی ٹھکانے پر میزائلی حملہ

بطورچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک گھنٹے کے اندر پہلے مقدمے کا فیصلہ سنادیا

جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا

’’سندھ حکومت نہیں گرا رہے، خود گرنے والی ہے‘‘

کراچی میں پانی و سیوریج لائنیں ٹوٹنے پر سعید غنی برہم

کسی کو صوبوں کا حق چھیننے نہیں دیں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی

پریس ٹی وی کی اینکر کی عالمی سطح پررہائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا

آسٹریلین اوپن، جوکووچ نے تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنالی

زلمے خلیل زاد کی وزیر خارجہ سے ملاقات

پیغام پاکستان۔۔۔۔۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

’ہمارے اراکین پارلیمنٹ ای سی ایل میں نام آنے سے خوفزدہ کیوں؟‘

کراچی: رینجرز نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنادی

اماراتی فضائی کمپنی کا شام کےلیے فلائیٹ آپریشن بحال کرنے کا اشارہ

عمران خان 5 نہیں 10 سال نکالیں گے، سینیٹر فیصل جاوید

وزیراعظم کے ٹوئٹ پر مخالفت کرنےوالوں کووزیراطلاعات کاکراراجواب

وزیر اعلیٰ سندھ تعاون کریں تو زیادہ نوکریاں دے سکتا ہوں: آصف زرداری

مسجد الاقصی کے دفاع کا عزم

فرانس: یونیورسٹی کی عمارت میں دھماکا، 3 افراد زخمی

نیب میں موجود انگنت کیسز فیصلوں کے منتظر

اسرائیل میں سیکس کے بدلے جج بنانے کا سکینڈل

کانگو میں فسادات 890 افراد ہلاک

ایران مخالف اجلاس میں شرکت کرنے سے موگرینی کا انکار

عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

آخری دم تک انصاف کے لیے لڑوں گا، جسٹس آصف کھوسہ

سپرپاور بننے کا امریکی خواب چکنا چور : جواد ظریف

ایران کی سائنسی ترقی کا سفر جاری رہے گا: بہرام قاسمی

مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری : ندی نالوں میں طغیانی

یمن میں عالمی مبصرین کی تعیناتی کی منظوری

سعودی عرب کی مہربانی عمرہ زائرین پرایک اور ٹیکس عائد

2018-09-11 05:46:59

بصرہ کے واقعات اور شیعہ گروہوں کی سیاسی بصیرت

87

تحریر: سید رحیم لاری

اگرچہ بصرہ میں رونما ہونے والے ہنگاموں اور ناگوار واقعات کو چند روز گزر چکے ہیں لیکن یہ کہنا درست ہو گا کہ عراق اب تک ان سے پیدا ہونے والے اثرات کی لپیٹ میں ہے اور یہ اثرات نہ صرف بصرہ بلکہ بغداد اور عراق میں جاری سیاسی ایشوز پر بھی موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ ساری کہانی اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ ہفتے منگل کے روز بصرہ میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ اس احتجاج کی اصل وجہ صوبے میں پانی، بجلی اور دیگر سہولیات کی قلت اور حکومتی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن ہے۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو عراق میں نئے نہیں اور دو سال پہلے اپریل کے مہینے میں انہیں مشکلات کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد نے کچھ دیر کیلئے بغداد میں پارلیمنٹ کی عمارت پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ ان مسائل نے ملکی سیاست پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔

اگرچہ پارلیمنٹ پر مظاہرین کے قبضے کے منفی نتائج سامنے آئے لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ پارلیمنٹ کی عمارت پر مظاہرین کا قبضہ اور توڑ پھوڑ درحقیقت اراکین پارلیمنٹ کی بے توجہی کے خلاف عوامی غصے کا نتیجہ تھا لہذا سب کی رائے یہی تھی کہ ان عوامی مظاہروں اور احتجاج کے پیچھے کوئی ملک دشمن قوت سرگرم عمل نہیں۔ لیکن اس بار کوئی سیاسی ماہر یا تجزیہ کار اس بات سے اتفاق رائے نہیں کرتا کہ بصرہ میں جمعہ کے روز ہونے والے مظاہرے اور ہنگامہ آرائی کا اصل سبب عوامی ناراضگی تھی بلکہ جیسے ہی مخصوص افراد نے کچھ خاص مراکز اور عمارتوں کو توڑ پھوڑ اور حملوں کا نشانہ بنایا سب کیلئے یہ ایک واضح امر تھا کہ ان ہنگاموں اور ناگوار واقعات کے پیچھے ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے اور شیطانی اہداف کے حامل ہیں۔ ان ہنگاموں کے بعد سب سے پہلے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اس کی تصاویر اپنے ٹویٹر پیج پر شائع کیں اور اس کی ذمہ داری قبول کی اور یہ دعوی کیا کہ اس کے بعض عناصر نے عراق کے جنوب میں توڑ پھوڑ اور تخریب کاری کی ہے۔

بعد میں انجام پانے والی تفتیش اور تحقیق کے نتیجے میں جمعہ کے روز بصرہ میں ہونے والے ہنگاموں میں داعش کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ مزید برآں، بصرہ کے صوبائی حکام نے اعلان کیا ہے کہ حکومتی مراکز، سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور ایران کے قونصل خانہ پر حملہ کر کے آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ ساتھ سابقہ بعث پارٹی کے افراد بھی شامل تھے۔ ان عناصر کی موجودگی کے علاوہ عراق کے خبررساں ادارے المعلومہ نے اپنے ایک کالم میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ جمعہ کے روز بصرہ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے شرپسند عناصر نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت بصرہ کینٹونمنٹ، سنٹرل کالج اور النموینیہ کارڈ سنٹر سے ہوتے ہوئے ایرانی قونصل خانے اور حشد الشعبی کے دفاتر کا راستہ اختیار کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کر کے آگ لگائی۔ دوسری طرف ان ہنگاموں کو عراق کے دیگر صوبوں جیسے ذی قار، میسان، واسط، بغداد اور کرکوک تک پھیلانا بھی داعش اور بعث پارٹی سے وابستہ شرپسند عناصر کے ایجنڈے میں شامل تھا۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں جمعہ کے روز بصرہ میں انجام پانے والے واقعات میں کارفرما تین ایسے عوامل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو دو سال پہلے بغداد میں ہونے والے عوامی مظاہروں اور پارلیمنٹ پر عوامی قبضے کے دوران یا تو نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو اس قدر کمزور حد تک تھے کہ ان کا کردار قابل توجہ نہ تھا۔ پہلا عامل اس ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں داعش، بعث پارٹی اور سعودی عرب اور امریکہ کے پے رول پر کام کرنے والے جاسوسوں کے کردار پر مشتمل ہے۔ دوسرا عامل اس ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری کو ایرانی قونصل خانے اور حشد الشعبی کے مراکز تک لے جانے پر مبنی پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی ہے اور تیسرا عامل بدامنی اور انارکی بصرہ سے پورے عراق میں پھیلانے پر مبنی وسیع سازش ہے۔ یہ تین بنیادی عوامل عراق میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ لانا چاہتے تھے۔ داعش اور بعث پارٹی نے جنگ کے میدان میں واضح شکست کھانے کے بعد اپنے عناصر کو شہر کے گلی کوچوں میں بھیج دیا ہے تاکہ عوامی مظاہروں میں گھس کر انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش اور بعث پارٹی سے وابستہ عناصر کا حتمی مقصد عراق کی سیاسی جماعتوں میں ٹکراو پیدا کر کے ملک کا سیاسی ڈھانچہ تباہ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے روز بصرہ میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران بعض سیاسی جماعتوں جیسے مقتدی صدر کی سربراہی میں سائرون اور حیدر العبادی کی سربراہی میں النصر پارٹی کے دفاتر کو بالکل نہیں چھیڑا گیا۔ مقتدی صدر کی پارٹی کے ایک اعلی سطحی عہدیدار الزاملی کا کہنا ہے کہ اس سازش کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ حشد الشعبی کے مراکز اور ایرانی قونصل خانے پر حملوں کے پیچھے مقتدی صدر اور حیدر العبادی کا ہاتھ ہے اور اس طرح شیعہ قوتوں کے درمیان ٹکراو پیدا کیا جا سکے۔

انہی وجوہات کی بنا پر بصرہ میں جمعہ کے روز ہنگامہ آرائی اور فتنہ انگیزی پر مبنی اقدامات کے بعد عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اور بعث پارٹی کا مقابلہ کرنے میں فوجی طاقت بنیادی کردار ادا نہیں کر سکتی بلکہ ان کا مقابلہ سیاسی بصیرت سے کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت عراق کی قومی سلامتی کیلئے شیعہ گروہوں میں سیاسی بصیرت کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور داعش جیسے دشمن کو شکست دینے میں سیاسی بصیرت ہی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان دنوں مقتدی صدر کی سربراہی میں سائرون اتحاد اور ہادی العامری کی سربراہی میں الفتح اتحاد کے درمیان نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ امر دور حاضر کیلئے ضروری سیاسی بصیرت کی ابتدائی علامت ثابت ہو سکتی ہے۔ الفتح اتحاد کے رکن حسین الاسدی نے دونوں اتحادوں کے درمیان گفتگو میں پیشرفت کی خبر دی ہے۔ لہذا بصرہ کے ناگوار واقعات کے بعد عراق کے سیاسی میدان میں نئی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں نئے سیاسی اتحاد ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اس طرح داعش اس بار سیاسی میدان میں بھی شکست کا مزہ چکھے گی۔

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، دنیا ،
ٹیگز:   شیعہ ، بصرہ ، سیاسی ، گروہوں ، بصریت ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)