تاریخی تناظر میں تین محرم

صومالیہ: امریکی فضائی حملے میں 52 ’جنگجو‘ ہلاک

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ہزاروں طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

مسلم لیگ (ق) کا اختلافات وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ

پریس ٹی وی کی اینکر کی گرفتاری، امریکی دوغلی پالیسی کی واضح مثال

یمن پرسعودی جنگی طیاروں کی جارحیت متعدد افراد شہید

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت پر پوری دنیا سوگوار و عزادار

سانحہ ساہیوال: بچوں کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، وزیراعظم

وزیراعلیٰ بلوچستان کی یقین دہانی کے بعد لاپتہ افراد گھروں کو لوٹنے لگے

ساہیوال واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف درج، ورثا کا احتجاج ختم

کینسر کے علاج کا نیا طریقہ دریافت

’رواں سال ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ برآمدات کا ہدف حاصل کرلیں گے‘

میکسکو میں تیل کی پائپ لائن میں دھماکا، 21 افراد ہلاک

امریکی عدالتی کارروائی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، مرضیہ ہاشمی کے بچوں کا بیان

امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف عراقیوں کا احتجاجی اجتماع

امریکا پر ترک حکومت کی تنقید

شام میں عراقی فورسز کی کارروائی، 35 داعشی ہلاک و زخمی

افسوس حکمران اشرافیہ ملک کی خوبصورتی کونہیں سراہتی، یہی وجہ ہے ای سی ایل ان کے لیے بڑی آفت ہے، وزیراعظم

'بلاول کو سیاست کیلئے زرداری کے بجائے بھٹو بننا پڑے گا'

یمن میں بچے سکولوں سے نکل کر مزدوری کرنے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دوبارہ ملاقات آئندہ چند ہفتوں میں متوقع

شام: اسلحہ ڈپو پر بمباری سے 11 افراد ہلاک

وزیراعظم کی سی پیک کے تحت اقتصادی منصوبے تیز کرنے کی ہدایت

خطے میں ایران کا کردار مثبت اور تعمیری ہے: اقوام متحدہ

امریکی اتحادی جنگی طیاروں کی بمباری 20 جاں بحق

پرامن واپسی مارچ پر فائرنگ 43 فلسطینی زخمی

الحدیدہ پر سعودی اتحاد کے حملے میں یمنی شہریوں کا جانی نقصان

مغربی حلب میں شامی فوج نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کر دیا

گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کا مطالبہ

امریکہ کی ایران مخالف تجویز پر اردن کی مخالفت

افغان مفاہمتی عمل پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ پر وکیل کو کانگریس سے جھوٹ بولنے کی ہدایات دینے کا الزام

راحیل شریف کو سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے این او سی جاری

پولیس کا مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن، 10 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد

پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل ، خواجہ برادران کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا

ملٹری کورٹس فوج کی خواہش نہیں، ملک کی ضرورت ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت: صحافی کے قتل کے جرم میں مذہبی پیشوا کو عمر قید کی سزا

کسی کاباپ بھی پی ٹی آئی حکومت نہیں گراسکتا،فیصل واوڈا

ممتاز دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کے الیکٹرک کے نئے چیئرمین مقرر

نواز شریف کا لابنگ کےلئے قومی خزانے کے استعمال کا انکشاف ، وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا

فیس بک نے روس سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں اکاؤنٹس اور پیجز بند کردیے

شام میں داخلے کے لئے سرحدی علاقوں میں عراقی فورسز چوکس/ امریکی داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں!

’رزاق داؤدسےمجھے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں‘

وزیراعظم کی سی پیک پر کام تیز کرنے کی ہدایت

سوڈان: روٹی کی قیمت پر احتجاج میں شدید، مزید دو افراد ہلاک

کولمبیا میں کار بم دھماکہ، 90 ہلاک و زخمی

ٹرمپ کے حکم پرانتخابات میں دھاندلی کرنے کا اعتراف

آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا

برطانوی وزیر اعظم نئی مشکل سے دوچار

صوبائی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جسٹس مقبول باقر

امریکہ کو ایران کا انتباہ

بحرین میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال

سعودی فوجی ٹھکانے پر میزائلی حملہ

بطورچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک گھنٹے کے اندر پہلے مقدمے کا فیصلہ سنادیا

جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا

’’سندھ حکومت نہیں گرا رہے، خود گرنے والی ہے‘‘

کراچی میں پانی و سیوریج لائنیں ٹوٹنے پر سعید غنی برہم

کسی کو صوبوں کا حق چھیننے نہیں دیں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی

پریس ٹی وی کی اینکر کی عالمی سطح پررہائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا

آسٹریلین اوپن، جوکووچ نے تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنالی

زلمے خلیل زاد کی وزیر خارجہ سے ملاقات

پیغام پاکستان۔۔۔۔۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

’ہمارے اراکین پارلیمنٹ ای سی ایل میں نام آنے سے خوفزدہ کیوں؟‘

کراچی: رینجرز نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنادی

اماراتی فضائی کمپنی کا شام کےلیے فلائیٹ آپریشن بحال کرنے کا اشارہ

عمران خان 5 نہیں 10 سال نکالیں گے، سینیٹر فیصل جاوید

وزیراعظم کے ٹوئٹ پر مخالفت کرنےوالوں کووزیراطلاعات کاکراراجواب

وزیر اعلیٰ سندھ تعاون کریں تو زیادہ نوکریاں دے سکتا ہوں: آصف زرداری

مسجد الاقصی کے دفاع کا عزم

2018-09-14 05:17:25

تاریخی تناظر میں تین محرم

26

1-حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے باہر آنا
حضرت یوسف(علیہ السلام) کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے آپ کو کنویں میں ڈالدیا تھا، جبرئیل امین نے آپ کو پکڑ کر ایک تختہ پر بٹھایا، اور آپ کی دلجوئی کی۔ اس وقت ایک قافلہ وہاں پہنچا اوروہ اپنے گھوڑوں کو پانی پلانے کیلئے کنویں کے پاس آئے تاکہ وہاں سے مصر کی طرف روانہ ہوں ، اس قافلہ کے سردار ، ”مالک“ نے اپنے غلام کو حکم دیا:کنویںمیں ڈول ڈال کر پانی نکالو، غلام نے ڈول میں رسی باندھ کر اس کو کنویں میں ڈالا، جب ڈول کنویں میں پہنچی تو حضرت یوسف(علیہ السلام) نے ڈول کی رسی کو کھول دیا۔ غلام نے رسی کو کھینچا تو ڈول واپس نہیں آئی، وہ گھبرایا ہوا ”مالک“ کے پاس آیا اور قضیہ بیان کیا۔ مالک خود کنویں کے پاس آئے : اور آواز دی: جس کسی نے بھی اس ڈول کی رسی کو کھولا ہے وہ انسان ہے یا جن؟ حضرت یوسف(علیہ السلام) نے کہا: میں انسان ہوں مجھ پر ظلم کیا گیا ہے مجھے کنویں سے باہر نکالو۔
مالک نے مضبوط رسی کنویں میں ڈالی اور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو کنویں سے باہر نکالااور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پورا واقعہ سنایا، جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جب یہ دیکھا کہ جناب یوسف کو نجات مل گئی تو مالک کے پاس آئے اور کہا : یہ ہمارا غلام ہے جو ہمارے پاس سے بھاگ گیا تھا،اس کو ہمیں واپس دیدو، یا اس کو ہم سے خرید لو۔ مالک نے کہا: اس کوواپس نہیں دوں گا لیکن میں تم سے اس کو خرید لیتا ہوں۔مالک نے بہت کم قیمت ان کو دی اور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے کر مصر گئے اور وہاں پر عزیز مصر کو فروخت کردیا (۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۱۴۔

2-قید خانہ سے حضرت یوسف(علیہ السلام) کی رہائی
حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ خیانت نہ کرنے کے جرم میں چند سال قیدخانہ میں رہے، قیدخانہ میں آپ کے دوستوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خواب کی تعبیر اس طرح کی : ایک کو فرعون قتل کردے گا اور دوسرے کو آزاد کردے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آزاد ہونے والے شخص سے کہا: فرعون سے میرا تذکرہ کرنا تاکہ وہ مجھے قید خانہ سے آزاد کردے۔
اتفاقا وہ شخص آزاد ہوگیا، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سفارش کو بھول گیا۔ اس کو کئی سال گذر گئے ، ایک رات کو فرعون نے خواب میں دیکھا جس کی تعبیر بتانے والوں نے صحیح تعبیر نہیں بتائی۔ آزادہ شدہ قیدی کو حضرت یوسف(علیہ السلام) کی یاد آئی اور فرعون سے کہا: میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو خواب کی تعبیر بتانے میں ماہر ہے، وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور آپ سے فرعون کے خواب کی تعبیر معلوم کی، اس نے حضرت یوسف(علیہ السلام) کی تعبیرکو فرعون تک پہنچا دیا ، فرعون نے کہا: یہ شخص بہت زبردست اور عالم ہے اس کو میرے پاس لاؤاور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو آزاد کردیا۔
حضرت یوسف(علیہ السلام) کی مصر میں وفات ہوئی، آپ کودفن کرنے کی جگہ پر لوگوں میں اختلاف ہوا ، ہر کوئی چاہتاتھا کہ آپ کو اس کے محلہ میں دفن کریں تاکہ اس کا محلہ بابرکت ہوجائے ۔ آخر کار آپ کو سنگ مرمر کے ایک صندوق میں رکھ کر نیل میں دفن کیا اور اس کے اوپر سے پانی کو جاری کردیا تا کہ تمام اہل مصر اس کی برکت اور خیر میں شریک ہوں۔ حضرت موسی(علیہ السلام) نے مصر سے نکلتے وقت آپ کی ہڈیوں کو اٹھا کر اپنے والد کے پاس دفن کیں۔مشہور ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کامل طور سے ۱۲ سال قید رہے ، پانچ سال تعبیر خواب سے پہلے اور سات سال تعبیر خواب کے بعد۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ سات سال قید خانہ میں رہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سب سے پہلے کاغذ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایجاد کیا اس سے پہلے اینٹوں کے اوپر لکھتے تھے۔(۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۱۴۔

3-کربلا میں عمر سعد کا وارد ہونا
سعد بن ابی وقاص کے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے خاندان سے اچھے تعلقات نہیں تھے ، یہاں تک کہ عمر کی شوری میں اس نے اپنا ووٹ عبدالرحمن بن عوف کو دیا تھا اور عثمان کے قتل ہونے کے بعد اس نے حضرت علی(علیہ السلام) کی بیعت نہیں کی تھی ۔ اس کا بیٹے عمربن سعد اپنے باپ کے راستہ پر گیا اور اس خاندان کے ساتھ اس کے بھی تعلقات اچھے نہیں تھے ، ابن زیاد نے شہر رے کی ملکیت عمر سعد کو دی تھی ۔ جب ابن زیاد کو امام حسین (علیہ السلام) کے عراق میں وارد ہونے کی خبر ملی تو اس نے عمر بن سعد کے پاس ایک قاصد بھیجا کہ پہلے وہ امام حسین بن علی(علیہ السلام) سے جنگ کرنے کیلئے جائے اور ان کو قتل کرنے کے بعد شہر رے کی طرف روانہ ہو۔عمر سعد ، ابن زیاد کے پاس آیا اور کہا: مجھے معاف کر، اس نے کہا: تجھے معاف کرتا ہوں لیکن شہر رے کی ملکیت تجھ سے واپس لیتا ہوں ۔ عمر بن سعد نے کہا ایک رات کی مہلت دے۔ آخر کار شہر رے کی ریاست نے اس پر غلبہ کرلیا اوروہ امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کرکے اگلے روز ابن زیاد کے پاس آیا اور امام حسین (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی ذمہ داری لے لی۔ ابن زیاد نے عظیم لشکر کے ساتھ اس کو کربلا کی طرف روانہ کیا، یہاں تک کہ وہ تین محرم کو کربلا میں وارد ہوگیا۔ابن قولویہ نے کتاب ”کامل“ کے صفحہ نمبر ۷۴ اور طبرسی نے کتاب احتجاج کے صفحہ نمبر ۱۳۴ پر معتبر سند کے ساتھ اصبغ بن نباتہ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ ایک روز حضرت علی(علیہ السلام)منبر کوفہ پر خطبہ دے رہے تھے اورفرمارہے تھے: جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے پوچھ لو، قبل اس کے کہ میں اس دنیا میں نہ رہوں۔ خدا کی قسم گذشتہ اور آئندہ سے متعلق جو بھی سوال کرو گے میں ا س کا جواب دوںگا۔عمر سعد کا باپ سعد بن ابی وقاص کھڑا ہوا اور کہا: یا امیر المومنین! مجھے یہ بتاؤ کہ میری ڈاڈھی اور سر میں کتنے بال ہیں۔حضرت نے فرمایا: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ نے مجھے خبر دی ہے کہ تیرے ہر بال میں ایک شیطان ہے جو تجھے گمراہ کرتا ہے اور تیرے گھر میں ایک بچہ ہے جو میرے بیٹے حسین (علیہ السلام) کو شہید کرے گا اور اگرمیں تجھے یہ بتادوں کہ تیرے بالوں کی تعداد کتنی ہے تو پھر بھی تو میری تصدیق نہیں کرے گا، لیکن جس حقیقت کی میںنے خبر دی ہے وہ ظاہر ہوگی۔توجہ رہے کہ اس وقت عمر بن سعد بہت چھوٹا بچہ تھا جس نے ابھی چلنا شروع کیا تھا ، بعض کہتے ہیں کہ کربلا میں اس کی عمر ۲۳ سال کی تھی، لیکن بعض قائل ہیں ۳۶ سال کی تھی، سعد بن وقاص کا ۷۵ ہجری میں ۷۴ سال کی عمر میں انتقال ہوا اور بقیع میں دفن ہوا (۱)۔۱۔ حوادث الایام، ص ۱۵۔

4-امام حسین (علیہ السلام) کا خط ،اہل کوفہ کے نام
آپ نے اس دن بزرگان کوفہ کے نام خطوط جاری فرمائے۔ یہ خطوط لکھ کر قیص بن مسہر صیداوی کے حوالے کئے کہ وہ کوفہ پہنچائیں۔ ابن زیاد کے فوجیوں نے انہیں راستے میں گرفتار کرلیا۔ انہیں یزید اور ابن زیاد کی مخالفت کرنے پر شہید کردیا گیا۔(۱)۔
۱۔ تقویم شیعہ، ص ۱۷۔

زمرہ جات:   Horizontal 3 ، اسلام ،
ٹیگز:   محرم ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

Couple shot, injured in Karachi

- اے آر وائی