اپنی رفتار اور سمت درست رکھنے کی ضرروت

ننیوا عراق: شباک کمیونٹی کی اکثریت نے شیعہ ہونے کی قیمت کیسے چکائی؟ – فناک ویب سائٹ رپورٹ

امریکی وزیر خارجہ کی خاشقجی کے بارے میں محمد بن سلمان کو 72 گھنٹوں کی مہلت

عمران خان کی اہلیت کیخلاف حنیف عباسی کی نظرثانی درخواست مسترد

ابوظبہی ٹیسٹ،پاکستان کی پوزیشن مستحکم، بیٹنگ جاری

واٹس ایپ نے پیغامات ڈیلیٹ کرنے کے فیچر میں تبدیلی کردی

’تحریک انصاف اب تحریک انتقام بن چکی ہے‘

اس آسان نسخے کی مدد سے بیماریوں سے لڑنے کی طاقت میں اضافہ کریں

’ایسپرن سے جگر کے کینسر کے خدشات میں کمی واقع ہوسکتی ہے‘

سعودی سیکیورٹی ادارے دہائیوں سے شہریوں کو اغواء یا قتل کرنے کے حوالے سے بدنام: سابق سی آئی

مائیک پومپیو کے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے مذاکرات

جمال خاشقجی گمشدگی: آئی ایم ایف سربراہ کا مشرق وسطیٰ کا دورہ ملتوی

روس: کریمیا کے شہر کرچ میں دھماکے اور فائرنگ سے 18 ہلاک، 70 زخمی

افغانستان: بم حملے میں پارلیمانی انتخابات کے امیدوار سمیت 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

خاشقجی کو قتل کر کے ان کی لاش کے ٹکڑے کر دیئے گئے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

بن سلمان بلاواسطہ جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہے: گارڈین نیوز

جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعد سعودی عرب کے سفیر واشنگٹن سے فرار: واشنگٹن پوسٹ

جواد ظریف اور شاہ محمود قریشی کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر تاکید

اسرائیل کی شام میں ایرانی فورسز کے خلاف بھرپور کارروائی کی دھمکی

استنبول: سعودی عرب قونصلخانہ کے قونصل جنرل محمد العتیبی ترکی سے فرار

اہواز حملے کا ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ ابوضحی عراق میں ہلاک

دشمن کا منصوبہ ایران کی غلط تصویر پیش کرنا ہے:آیت اللہ سید علی خامنہ ای

’’آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کیلئے مددگار ثابت ہوگا‘‘

قطر کا پاکستان میں 'ویزا سینٹر' کھولنے کا اعلان

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ڈرون کی آزمائشی پرواز

اظہر علی مزاحیہ طریقے سے رن آؤٹ

’’پہلی بار احساس ہوا کہ ارب کیا ہوتا ہے‘‘

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی کا معاونِ خصوصی بننے سے انکار

’’کنیریا کو غلطی تسلیم کرنے کا مشورہ 6 سال پہلے دیا تھا‘‘

نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری

پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ، سرکار کی خالی زمینوں کو عوامی مفاد کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ

سابق وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کے وارنٹ گرفتاری جاری

’’دنیا میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے‘‘

زائرہ زبیدہ خانم کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف زہرانقوی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

پاک افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے: صدر مملکت

’کے الیکٹرک کی فروخت، شریف برادران کا تعاون حاصل کرنے کیلئے 2 کروڑ ڈالرادا کیے گئے‘

شیعہ نسل کشی: اکتوبر کے دو ہفتوں میں چار شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوگئے

محمد بن سلمان کی بادشاہت جمال خاشقجی کے خون میں غرق ہوجائے گی

فلسطین کو اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی تنظیم جی -77 کی سربراہی مل گئی

پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے آمادہ ہیں، ایران کا اعلان

جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی بادشاہت خطرے میں پڑگئی؟

نالج منیجمنٹ کیا ہے ؟

احتساب کے عمل کو بہتر نہ کرنا ہماری مشترکہ ناکامی ہے: خواجہ آصف

بدقسمتی سے جس سیل میں رکھا گیا وہاں لائٹ،کھڑکی نہیں ،شہباز شریف

عابد باکسر کی عبوری ضمانت میں توسیع

اورنج ٹرین غیرضروری منصوبہ تھا جوشہرت کے لیے رکھا گیا‘ہاشم جواں بخت

معیشت میں بہتری کےلیےاہم اورمشکل فیصلےکرنا چاہتے ہیں‘ وزیراعظم

کیلے سے بیماریوں کا علاج

وزیراعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی نیلامی، پھر ناکامی

’’نیب کا موجودہ سیٹ اپ نواز ، خورشید نے لگایا‘‘

’آئین میں تو نہیں لکھا کہ یوٹرن نہیں لے سکتے‘

اسد جیت گئے،واشنگٹن ہار گیا

آسٹریلیا کی پوری ٹیم 145 رنز بنا کر آؤٹ

برطانیہ: مذہبی منافرت پر مبنی جرائم میں 40 فیصد اضافہ

نائجیریا: مذہبی عسکریت پسند گروپ بوکو حرام نے طبی رضاکار کو قتل کر دیا

پاکستان، ایران کے سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات عمل میں لائے

سعودی صحافی قتل: سعودی قونصلخانہ کے اہلکار شامل، قتل براہ راست محمد بن سلمان کے حکم پر کیا

’’سعودی عرب نے صحافی گمشدگی پر احتساب کا یقین دلایا ہے‘‘

فلسطین اقوام متحدہ کی اہم باڈی کا سربراہ بن گیا

امریکا نے ایران پر ایک مرتبہ پھر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں

صومالیہ: امریکی فوج کا فضائی حملہ، 60 شدت پسند ہلاک

آسٹریلیا کا بھی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ

بھارت، کشمیری طلباء و طالبات کی یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی

مائیک پومپیو کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

’چونکا دینے والے سوالات اور واقعات بتانے آیا ہوں‘

سیمنٹ فیکٹریوں نے سارا ماحولیاتی نظام خراب کردیا‘ چیف جسٹس

ترک نائب وزیر دفاع کی نیول چیف سے ملاقات

ہلمند دھماکا،انتخابی امیدوار سمیت 3 ہلاک

آسٹریلیا کے 7 کھلاڑی لنچ سے پہلے پویلین لوٹ گئے

قومی اسمبلی اجلاس: شہباز شریف کے اداروں پر بھرپور الزامات

شور شرابہ اور ہنگامہ کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا، وزیر اطلاعات فواد چوہدری

2018-10-05 07:59:18

اپنی رفتار اور سمت درست رکھنے کی ضرروت

84

تحریر: ٹی ایچ بلوچ

سعودی رجیم کی طرف سے گوادر میں آئل سٹی قائم کرنے اور سی پیک کا شراکت دار بننے کی خبر کو نئے پاکستان کے وزیر اطلاعات کو چھلانگیں مار مار کر بتانے سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ ستمبر 2017ء میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید احمد المالکی نے اسوقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ سعودی عرب کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب بہت جلد گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کر کے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بن جائے گا۔ سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب کی ترقی اور استحکام کے لئے تیس لاکھ سے زائد پاکستانی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، سعودی عرب کی سی پیک میں سرمایہ کاری سے سعودی عرب کو اسی طرح کا کردار پاکستان میں ادا کرنے کا موقع میسر ہو گا۔ سعودی عرب یہ بھی منصوبہ بنا رہا ہے کہ انجینیئرنگ فرمز کو 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت دی جائے، چونکہ ہمارے دو طرفہ تجارتی اور سفارتی تعلقات دوستانہ بنیادوں پر قائم ہیں، چنانچہ یہ سارے مواقع ہمارے لئے مزید ممکن، آسان اور عملی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اِس سب کی ایک قیمت بھی ہو سکتی ہے۔ یہ نہایت بچکانہ سوچ ہے کہ دو ممالک کے درمیان دوستی ایک دوسرے کے لئے فکر، ہمدردی، اور محبت پر قائم ہوتی ہے۔ ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کا اصول ہمیشہ کارفرما ہوتا ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں، خطے اور پاس پڑوس میں تیزی سے دوست اور حلیف تبدیل کئے جا رہے ہیں، عالمی بساط پر اس تیزی سے مہرے بڑھائے اور ہٹائے جا رہے ہیں کہ یہ برق رفتار تبدیلیاں حالات کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے اپنے اتحادی ایک بڑی کشمکش میں ہیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف قطر کے خلاف جارحانہ سفارتی اقدامات کئے ہیں، بلکہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اشارے بھی دے رہا ہے۔ سعودی، ایران کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب قطر کے معاملے پر ترکی کو بھی ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ اس سب کے دوران عرب دنیا کا غریب ترین ملک یمن بھی ہے، جس پر سعودی بمباری کا سلسلہ تھمنے کو نہیں آ رہا۔

سعودی عرب کے ان اقدامات کے پیچھے ایک خوف چھپا ہے، وہی خوف جو تیل کی دولت سے مالا مال ہر خلیجی بادشاہت کو محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کا ساتھ نہ رہا تو خطے میں موجود حریفوں سے کیسے نمٹا جائے گا؟ سعودی عرب ایک عرصے سے امریکہ کی چھتری تلے پناہ لیے ہوئے تھا، لیکن اوباما دور میں اسے امریکہ کے رویئے میں تبدیلی اور تنہائی کا احساس ہوا، جب اوباما نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر مسئلے پر ڈیل کی۔ ایٹمی مسئلے پر بڑی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے کے بعد اور اس سے قبل بھی ایران نے عراق، شام اور لبنان میں مداخلت کی پالیسی اپنائی، جس نے سعودی عرب کے خوف کو بڑھاوا دیا کہ اب امریکہ سعودی عرب کے تحفظ کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دیتا۔ اگرچہ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یقین دہانی کروانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن صدر بش کے بعد اوباما اور پھر اوباما کے بعد ٹرمپ کی پالیسیوں میں انتہائی بڑے تضادات کے بعد اب دنیا بھر میں امریکہ کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے اتحاد کی ایک بڑی (اور شاید بنیادی) وجہ تیل تھا۔

سعودی عرب تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لئے امریکہ کا ساتھ دیتا رہا، لیکن اب توانائی کے متبادل ذرائع کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور پیداوار میں بڑی تبدیلی مستقبل کے سودوں کے لئے ممکن نہیں رہی۔ ان حالات میں خلیج میں سفارتی جنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ خلیج کی اس کشیدگی میں سعودی قطر تنازع کی بنیادی وجوہات میں ایک شام کے حالات بھی ہیں، جہاں روس، ایران اور امریکہ نے حالیہ دنوں میں نئی سرخ لکیریں کھینچی ہیں۔ روس اتحادی ایران، شامی صدر بشارالاسد اور عراق کی ملیشیاؤں کی مدد سے اسٹریٹیجک اہمیت کے علاقے پر تسلط چاہتا ہے۔ روس کا مقصد خلیج سے امریکہ کو نکال باہر کرنا ہے۔ ایران اور شام امریکہ کو داعش کے علاقے سے ہٹا کر شام کے صحرا میں نئی جنگ میں پھسنانا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگ میں پھنسنے کا ڈراوا دے کر خطے سے نکلنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کو اگر روس کی مدد سے شام کے راستے بحیرہ روم تک رسائی ملتی ہے تو یہ اسرائیل کے لئے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔ یہی مجبوری ہے جو امریکہ کو خطے میں فوجی کارروائی تک لائی۔ امریکہ داعش کی پسپائی کے بعد خطے سے نکلنے کے لئے ابھی واضح حکمت عملی نہیں بنا پایا کہ جنگ کے بعد شام میں کس کی حکومت ہو گی، یا بشارالاسد کا کیا کیا جائے گا۔ یہ حالات خلیج میں آگ مسلسل بھڑکتے رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ان حالات میں پاکستان جو امریکی کیمپ سے نکالے جانے کی صورت میں روس اور چین کے ساتھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے، کدھر جائے گا؟ ایران کے اتحادی روس کا ساتھ کیسے دے پائے گا؟ سعودی عرب کو ترکی اور قطر کے ساتھ تعلقات رکھتے ہوئے کیسے مطمئن کرے گا؟ افغانستان اور ہندوستان اور امریکہ اور ہندوستان کے درمیان بڑھتی ہوئی پینگوں کی صورت میں مغربی بارڈر کے حالات کیسے کنٹرول ہوں گے؟ ایسے کئی بھیانک سوالات منہ کھولے کھڑے ہیں، لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت کو کرسی کے جھگڑے سے ہی فرصت نہیں۔ ایک فریق کرسی بچانے دوسرا چھیننے کی فکر میں ہے، ان حالات میں ملکی دفاع کے اداروں کو بھی سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سیاسی قیادت نے مفادات کو پس پشت ڈال کر حالات کا یکسوئی سے مقابلہ نہ کیا تو خطرات کے یہ بادل مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔

چین ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری دیتا ہے، ہم بدلے میں اُنہیں نرم کاروباری ضوابط دیتے ہیں۔ سعودی ہمیں سرمایہ کاری کی اجازت دیں گے تو ہم اپنا غیر جانبدار مؤقف برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ پاکستان کو نہایت سوچ سمجھ کر چلنا پڑے گا۔ جب ہم سعودی سلطنت میں آنے والی معاشی تبدیلیوں کے فائدوں پر غور کریں تو یہ بھی غور کرنا چاہیئے کہ کیا ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اُٹھا سکیں؟ کیا ہمارے پاس وہ ہنر اور مہارت موجود ہے، جس کی اِس وقت سعودی عرب کو تلاش ہے۔؟ اپنا گھر ٹھیک کرنے اور معیشت کے لئے بہتر فیصلے کرنے کا ایک دیانتدارانہ اور مضبوط منصوبہ اِس وقت ہماری اہم ضرورت ہے۔ الفاظ کو اقدام میں بدلنا ہوگا۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد سے سب سے زیادہ زیرِ بحث سی پیک کا منصوبہ ہے۔ سعودی عرب سی پیک میں تیسرے فریق کی حیثیت سے شامل ہو رہا ہے اور سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے لئے سعودی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، جو سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے کر واپس ریاض جائے گا اور آئندہ چند ہفتوں میں ولی عہد محمد بن سلمان دورہ اسلام آباد کے دوران سرمایہ کاری منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو کوئی چین کے مارشل پلان کا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے چین کے نئے ورلڈ آرڈر سے تعبیر کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان نے سی پیک کو اس قدر نمایاں کیا کہ دنیا کی تشکیک اب تشویش میں بدل چکی ہے۔ اس تشویش کے نتیجے میں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے میں 2 نئے منصوبے سامنے آ چکے ہیں۔ سی پیک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے، جس میں سی پیک کے علاوہ مزید 5 اقتصادی راہداریاں بھی شامل ہیں، لیکن اگر اہمیت صرف سی پیک کو مل رہی ہے تو اس کی ایک وجہ 6 راہداریوں میں سے صرف سی پیک کو ہی کامیاب اور قابلِ عمل منصوبہ گردانا جانا ہے۔ چین بھی بیلٹ اینڈ روڈ پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے سی پیک کا حوالہ دینا نہیں بھولتا۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں، خطے اور پاس پڑوس میں تیزی سے دوست اور حلیف تبدیل کئے جا رہے ہیں، عالمی بساط پر اس تیزی سے مہرے بڑھائے اور ہٹائے جا رہے ہیں کہ یہ برق رفتار تبدیلیاں حالات کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، مشرق وسطیٰ ،
ٹیگز:   سعودی عرب ، پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

جام جم - 18 اکتوبر

- سحر ٹی وی