ملتان سے کربلا کا سفر

کیا یمن میں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سانحہ ہونے کو ہے؟

روہنگیا کے حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ کمیٹی کی مذمت

خاشقجی کے آخری کلمات

شاعرِ اہلِ بیت سلمان اعظمی انتقال کر گئے

بلاول بھٹو زرداری کا معروف شاعر ریحان اعظمیٰ کے صاحبزادے سلمان اعظمی ٰکے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

طاہر داوڑ کوئی معمولی پولیس افسر نہیں تھے

پولیس کا مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا فیصلہ

’5 برسوں میں 26 صحافی قتل، کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ہوئی‘

’افسوس ہے کہ اؔمرانہ سوچ رکھنے والا ملک کا وزیراعظم بن گیا‘

عراق کے صدر تہران پہنچ گئے

قائد آباد سے برآمد ہونے والا بم انتہائی پیچیدہ ساخت کا تھا

’’میں نے کئی مرتبہ یو ٹرن لیا ہے‘‘

سعودی عرب کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی

امریکی فوج کے نکلنے کی وجہ روس و چین

امام حسن عسکری علیہ السلام کی پر مشقت ،مختصر زندگی اور شیعوں کی راہنمائی

امریکہ کے نوکر اور غلام عرب حکام کو ایران کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی ہے

سی آئی اے کا سعودی ولی عہد پر خاشقجی قتل کا الزام

’ڈیرہ غازی خان میں ڈولفن فورس کی تعیناتی کا اعلان ‘

’’عمران یوٹرن والے بیان پر بھی یوٹرن لیں گے‘‘

وحدت کیجانب اہم قدم، تحریک بیداری امتِ مصطفیٰ کا 12 ربیع الاول کو وحدتِ امت ریلی نکالنے کا اعلان

چپ تعزیہ کے جلوسوں کے روٹس اور مرکزی اجتماع گاہوں پر سکیورٹی کو غیر معمولی بنایا جائے، آئی جی سندھ

یمن میں قحط سالی کا خدشہ

امریکی بمباری میں درجنوں شامی شہری جاں بحق اور زخمی

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرہ

روہنگیا پناہ گزینوں کا میانمار حکومت کے خلاف مظاہرہ

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یمن پر سعودی اتحاد کے حملے جاری

مصری خاتون کا خاشقجی سے خفیہ شادی کا انکشاف

پاکستان میں ٹیکس چوری کیسے روکی جا سکتی ہے؟

خاشقجی قتل: سعودی موقف کی نفی، ترکی کے پاس ایک اور بڑا ثبوت

خودکش حملے کی داعش نے ذمہ داری قبول کی

شہادت امام حسن عسکری (علیہ السلام)اور حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کو امامت ملنا

تصویریں بولتی ہیں!

’’چیئرمین سینیٹ کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہوئی‘‘

’آئیڈیاز 2018 کی تیاریاں مکمل ہیں‘

’’وہ لیڈر ہی نہیں، جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا‘‘

نائن الیون :امریکی مظالم عروج پر عراق،افغانستان،پاکستان میں تقریبا50لاکھ افرادمارےگئے

بریگزٹ ڈیل: برطانوی کابینہ کے چار وزراء مستعفی

امریکا کو قومی سلامتی اور فوجی بحران کا سامنا، رپورٹ

سکھوں کے پاس جناح جیسا لیڈر ہوتا تو خالصتان بن جاتا:امرجیت

امریکی تسلط پسندی کا دور ختم ہو چکا ہے، ایران

صدر مملکت کا32 گاڑیوں کا پروٹوکول لینے سےانکار

جمال خاشقجی کا قتل سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے: سعودی وزیرِ خارجہ

’میں نے زندگی میں کبھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا‘

اسلام آباد سےایک اور افسر لاپتہ

سینیٹر رضا ربانی حکومت پر برس پڑے

جامشورو ایل پی جی گیس پلانٹ کی بندش، پلانٹ کے مالک کو ڈیڑھ ارب روپے جمع کروانے کا حکم

چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےدرمیان اختلافات میں شدت، اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم کا صادق سجرانی سے فواد چوہدری پر سینیٹ میں پابندی کے معاملے پر تشویش کااظہار

سپریم کورٹ کا زلفی بخاری کی تعیناتی سے متعلق فائل پیش کرنے کا حکم

العزیزیہ ریفرنس: میں نے ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پرانحصارنہیں کیا‘ نواز شریف

خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی توضیح ناکافی: ترکی

یورپی یونین سے نکلنے کی منظوری پر بریگزٹ سیکریٹری مستعفی

امریکہ: کیلی فورنیا میں آگ، ٹرمپ انتظامیہ کی لاپرواہی پر احتجاج

انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سعودی عرب پر انسانی حقوق کی تنظیم کی شدید تنقید

سینیٹ میں شور شرابہ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا معافی مانگنے سے انکار

یورپی پارلیمینٹ کا سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

افغانستان میں طالبان کا حملہ، 30 پولیس اہلکار ہلاک

روہنگیا مسلمانوں کو جبراً واپس نہیں بھیجا جائے گا: بنگلادیش

صیہونی دہشتگردوں میں پھیلی دہشت

تحریک مزاحمت صیہونی حکومت کو شکست دینے کی توانائی رکھتی ہے، حزب اللہ

حضرت امام حسن عسکری(ع) کی شہادت پوری دنیا عزادار

’تحریک لبیک نے انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں‘

پہلا ٹیسٹ: نیوزی لینڈ کا ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف بیٹنگ کا آغاز

پاکستان عباس اور یاسر کی بدولت نیوزی لینڈ کو قابو کرنے کا خواہاں

حکومت اپنی صفوں سے اسرائیلی ایجنٹوں کو نکال باہر کرے،فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی کوشش سے 5 ایرانی مغوی گارڈز بازیاب

بھارتی میڈیا نے کشمیر سے متعلق بیان کی غلط تشریح کی، شاہد آفریدی

لاہور ہائیکورٹ: شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم

طاہر داوڑ کی میت محسن داوڑ کو دیں گے،افغان حکام

یہ ایمپریس مارکیٹ ہے یا رام دین پانڈے کی قبر؟

2018-11-01 11:14:04

ملتان سے کربلا کا سفر

79

پاکستان اور پاکستانی سیاست پر باتیں کچھ دنوں کے لئے ایک طرف رکھتے ہیں۔ آج آپ کو ملتان سے بغداد تک کے سفر کا تازہ احوال بتاتے ہیں۔اس سال چہلم امام حسینّ پر عراق کے لئے عازم سفر ہوئے۔ حالیہ کچھ برسوں سے چہلم کے موقعہ پر پاکستان سے عرا ق جانے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سڑک سے بسوں کے ذریعے سے زیارات پر جانے والوں کی تعداد سفر کی مشکلات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہر سال کم سے کم ہو رہی ہے۔ کوئٹہ – زاہدان ٹرین سروس ویسے بھی تعطل کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں فضائی راستے سے زیارات پر جانے والوں کی تعداد بہت بڑھ رہی ہے۔ فضائی ٹکٹ مشکل سے اور مہنگے ملے ۔ وہ بھی ملتان ۔ دبئی۔ بغداد تک کا۔ یہی حال متبادل کرنسی کے حصول کے وقت دیکھا۔ یار لوگوں نے امریکن ڈالرز کے دستیاب نہ ہونے کا رونا رویا،اور دوسرے دن ذرا مہنگے داموں ہمیں ڈالرز دیے۔ اسی پر ہی ان کے شکر گزار ہو کر روانہ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی ایک نسبتاً کم تر درجےکی نجی ائیرلائن پر پہلی بار سفر کرنے کا تجربہ اتنا شاندار نہیں تھا۔

اکلوتی فلپائینی ائیر ہوسٹس اپنے سوڈانی معاون کے ساتھ پورے جہاز میں پھرکی کی طرح گھومتی پھر رہی تھی۔ اتنے مہنگے ٹکٹ کے باوجود کچھ مسافروں کو کھانے پینے کی اشیا قیمتاً حاصل کرنا پڑیں۔ شکر ہے ہمارا شمار ان میں نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ عجیب سا لگا۔خیر کیا کریں،مارکیٹ اکانومی کی دنیا ہے۔ ایسی باتیں اب جگہ جگہ دیکھنا پڑتی ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں کا مطمع نظر اب کم سے کم اخراجات اور زیادہ سے زیادہ منافعے کا حصول ہوتا ہے۔ خدمات گئیں بھاڑ میں۔ دبئی کے شیخوں نے اب کافی حد تک طبقاتی نظام اپنا لیا ہے. پاکستان،ہندوستان، بنگلہ دیش اورسری لنکا وغیرہ کے مسافروں کے لئے پرانا دبئی ائیرپورٹ ٹرمینل اور ترقی یافتہ ممالک کے مسافروں کے لئےنیا اور جدید ائیرپورٹ ٹرمینل استعمال ہوتا ہے۔ دبئی ائیرپورٹ پر کچھ دیر قیام اور 450 روپے کے چائے کے کپ سے نہ صرف آنکھیں کھل گئیں بلکہ طبیعت بھی صاف ہو گئی۔ وہاں سے جہاز بدل کر بغداد روانہ ہوئے۔

اگر آپ دوران سفر اپنے کچھ پیسے بچانا چاہتے ہیں تو دوران پرواز یا ائیر پورٹ پر کھانے پینے کی اشیا خریدنے سے حتیٰ الامکان گریز کیجیے۔ اپنے دستی بیگ میں کھانے کی ہلکی پھلکی اشیا اور پانی کی بوتل ہمراہ رکھیے۔ بغداد ائیرپورٹ پر بالکل مختلف ماحول تھا۔ کہاں دبئی ائیرپورٹ کے چھوٹے ٹرمینل پر بھی مسافروں کا بے پناہ رش اور چہل پہل، اور کہاں ایک بڑے اور اہم عرب ملک کے دارالحکومت کے سب سے بڑے ائیرپورٹ پر ویرانیوں کے ڈیرے۔ اکا دکا ایک دوسرے سے دور کھڑے جہاز اور مکمل خاموشی کا راج۔ ہماری فلائیٹ کے مسافروں کی آمد سے کچھ دیر کے لئے رونق لگی اور آدھے گھنٹے بعد پھر وہی سکوت۔ صرف ائیرپورٹ پر کام کرنے والے عملے کے افراد ہی نظر آئے۔وہ بھی بے زار سے۔ ایرپورٹ پر تمام مراحل سے گزرنے کے بعد عراقی دینار کے حصول کا مرحلہ آیا یہاں بھی قدرے مہنگے دینار ملے ۔ یہاں موجود واحد کرنسی ڈیلر کے علاوہ ہر کوئی اپنے اپنے ریٹ پر ہمیں ڈالر تھمانے اور دیہاڑی لگانے کے چکر میں نظر آیا۔ شہر میں ایک پاکستانی روپے کے بدلے 8 سے زیادہ عراقی دینار مل جاتے ہیں یہاں 7 ملے۔ ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو مسافر کم اور ٹیکسیاں زیادہ تھیں۔ عراقی ڈرائیور سب انگریزی سے نابلد ،ان کی معاونت کے لئے کچھ بنگلہ دیشی لڑکے موجود تھے۔ جو ٹوٹی پھوٹی اردو ،ہندی اور انگریزی میں ہمارے اور ڈرائیور حضرات کے درمیان ترجمان اور مذاکرات کار کے طور پر کام کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ پتا چلا یہاں صرف ایک کمپنی بغداد ٹیکسی سروس کو ہی کام کرنے کی اجازت ہے اور وہ لوگ آپ سے کم سے کم فاصلہ جو کہ شہر کے ٹیکسی سٹینڈ تک کا تھا،اس کے لئے بھی 10 امریکن ڈالر سے کم معاوضہ نہیں لیں گے۔اس 5یا7کلومیٹر کے لئے اتنے پیسے فی کس بہت گراں گزرے۔

ٹیکسی سٹینڈ جس کو یہ گیراج بول رہے تھے سے روضہ کاظمین کے لئے ٹیکسی لی تو ایک ٹیکسی کے لِئے 25000عراقی دینار طے ہوئے ۔ ڈرائیور نے کسی جگہ پولیس پوسٹ پر ٹیکس دینے کے بہانے 5000 دینار اور بھی ہماری جیبوں سے نکلوا لئے۔ پہلے کرایہ وصول کرتے ہیں اس کے بعد گاڑی چلاتے ہیں۔ شہر کے مضافات سے گزرتے ہوئے وہی بد نظمی ،ٹوٹی سڑکیں اور صفائی کا فقدان نظر آیا جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہےاس لئے اجنبیت بالکل نہیں ہوئی ۔ ڈرائیور حضرات میں سے جس کا جیسے دل کرتا ہے غیر ملکیوں کو لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ سب لوگ اس طرح کے نہیں،بہت اچھے اور تعاون کرنے والے عراقیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ پاکستانیوں کے لئے اچھی رائے رکھتے ہیں، مگر ایرانیوں سے شاکی نظر آئے۔ دوسرے دن اندرون شہر اور بغداد کے پوش علاقے دیکھے۔ دریائے دجلہ کے کنارے المنصور ہوٹل میں دیگر ممالک کے پرچموں کے بالکل درمیان پاکستانی پرچم لگا دیکھا تو دل خوش ہو گیا۔ پورے شہر میں اکثر عمارتوں پر گولیوں کے نشانات نظر آتے ہیں ۔ایک جگہ پر امریکی بمباری سے تباہ ہونے والی چند عمارتوں کو ویسے کا ویسا چھوڑ دیا گیا ہے۔اسی کی دہائی میں عراق اور ایران کے درمیان 8 سالہ طویل لڑائی لڑی گئی۔اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا۔جو پہلی خلیجی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔اس کے بعد امریکی پابندیاں ، اور پھر دوسری خلیجی جنگ جس نے صدام حسین کے طویل دور کا خاتمہ تو کر دیا لیکن ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ رہی سہی کسرداعش نے نکال دی۔

ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ ہر جگہ ایرانی اور چینی مصنوعات کی بھر مار ہے۔ اتنے طویل بد امنی کے دور کے بعد تعمیر نو کا کام تو شروع ہے پر بہت سست رفتاری سے۔عراق میں غالب آبادی شیعہ افراد کی ہے۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک صدام حسین کے جبر کا شکار رہےلیکن اس وقت تک عراق ایک خوشحال اور پر امن ملک تھا۔ اب اگرچہ ان کو صدام دور کے جبر سے تو نجات مل چکی ہے اوران کے مقدس مقامات کا کنٹرول بھی اب ان کے ہاتھ میں ہے مگر ملک تباہ حال ہے۔غربت زیادہ ہو چکی ہے۔ عراقی لوگوں کی مشکلات کم ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ بہر حال عمومی طور پر یہاں امن و امان ہے۔

بغداد میں مشہور اسلامی زیارات میں روضتہ الکاظمین یعنی امام موسیٰ کاظمؑ اور امام تقیؑ کا روضہ مبارکہ ہیں۔ یہاں پر مقامی اور غیر ملکی زائرین کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ حضرت جنید بغدادی ،غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، اور بے شمار محترم و مقدس ہستیوں کا دیس بغداد بھلا کسے اچھا نہیں لگے گا۔ ہماری خوش قسمتی کہ اس مقدس و محترم شہر میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے بے حد شکر گزار ہیں ۔عراقی کھانا بہت اچھا ہے۔مٹھائیاں بھی ذائقہ دار ہیں۔ہوٹل صاف ستھرے ہیں۔اور لوگ اچھے اخلاق والے ہیں۔ہزاروں سال قدیم شہر کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا،اور محسوس کرنا ایک شاندار تجربہ تھا۔ہو سکے تو ایک بار بغداد ضرور دیکھیے۔بشکریہ دنیا نیوز

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، اسلام ،
ٹیگز:   کربلا ، سفر ، ملتان ، ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

بھرے پیٹ کے بھوکے بچے

- ایکسپریس نیوز

میں راہی پربتوں کا

- ایکسپریس نیوز

تقرر اور تبادلوں کا حل

- ایکسپریس نیوز

ادیبوں کی آر سی ڈی

- ایکسپریس نیوز

اطراف اور اطراف

- ایکسپریس نیوز

تم خوش تو ہو نا؟

- ایکسپریس نیوز

اطراف اور اطراف

- ایکسپریس نیوز

ایس پی طاہر داوڑ کا قتل

- ایکسپریس نیوز

کراچی میں بم دھماکا

- ایکسپریس نیوز