کیا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ مفت میں دیا ہے؟

ایم ڈبلیوایم اور آئی ایس او کے مرکزی رہنمائوں کی آئی او کے بازیاب چیئرمین رضی العباس شمسی سے ملاقات، خیریت دریافت

وزیر اعظم عمران خان روانہ

’وزیر اعظم اپنے گھر ریگولرائز کراتے، غریبوں کے گراتے ہیں‘

فلسطینی راکٹوں سے صیہونی کابینہ لڑکھڑائی

ایمان کے درجات میں تنزلی و بلندی کے عوامل

میلاد النبیؐ سرکاری سطح پر منانے کا اعلان

’پی ایس ایل کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آ رہے ہیں‘

نواز شریف کا آخری چار سوالوں کے جواب پر مبنی بیان موخر

دشمن اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا

نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی: عمران خان

جموں میں سالانہ سیرت النبی (ص) کانفرنس کی تیاریاں جاری

امام خمینی (رح) نے ہفتہ وحدت کا نام دے کرعملی طور پر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کیا: ڈاکٹرعادل مزاری

امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

کراچی اتنا خوبصورت بنائینگےکہ دنیا دیکھنے آئے گی

پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں, پینٹاگون

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ‘ 4 کشمیری شہید

سعودی عرب کے خونخوار بادشاہ کا ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے کا مطالبہ

’آج کے بعد ایبٹ آبادکےکالجز میں کوئی داخلہ نہیں‘

عراقی صدر برہم صالح دورہ پرریاض پہنچ گئے،پرتپاک استقبال

شرپسندیہودیوں کے حملے میں فلسطینی اسپتال کی ایمبولینس تباہ

امریکہ کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے، ایران

امریکی شہرشکاگو میں فائرنگ 4 ہلاک متعدد زخمی

ایرانی حکام سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات

جشن عید میلاد النبی (ص) اور ہفتہ وحدت مبارک ہو

لیبیا: سرت میں داعش دہشت گرد گروہ کی سرگرمیاں

یمن کی جانب سے قیام امن کی کوششوں کی حمایت

ایوان صدر میں محفل میلاد کا انعقاد

کراچی: بارہ ربیع الاول کے حوالے سے ٹریفک پلان جاری

آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے بڑے مطالبات رکھ دیے

بھارت، مہاراشٹر کے اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 4 افراد ہلاک

کوئٹہ کا امن اور ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی ہفتہ وحدت12تا 17ربیع اول کے حوالے سے شہر میں مختلف پروگرامات منعقد کئے جائیں گے۔مجلس وحدت مسلمین

ابوظہبی میں پاکستان جیتی بازی ہار گیا

سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس کاشاعر اہل بیت ؑ ریحان اعظمی کے فرزند سلمان اعظمی کی رحلت پر اظہار افسوس

افغانستان میں قتل ہونے والے پولیس افسر طاہر داوڑ کے لواحقین کی وزیراعظم سے ملاقات

’میرے بچے باہر جاکر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے؟‘

قومی غیرت کا درس دینے والے قرضوں کیلئے ملکوں ملکوں پھر رہے ہیں، بلاول بھٹو

حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے، ترک صدر

’پاکستان دہشت گردی کیخلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے‘

’پاکستان کو 2 دہائیوں میں مختلف خطرات کا سامنا رہا‘

’جیت کے قریب پہنچ کر ہار جانا مایوس کن ہے‘

ممبئی حملوں کے الزام میں پھانسی پانے والا اجمل قصاب بھارتی شہری نکلا

عمران خان کا ٹرمپ کو کرارہ جواب

پاکستان کو جیت کیلئے 8 رنز، نیوزی لینڈ کو ایک وکٹ درکار

’’مڈل کلاس طبقہ اسکول فيسيں کیسے ادا کرے گا‘‘

حسین نقی تم کیا ہو؟

بیت المقدس کی وقف املاک کی خریدو فروخت حرام ، اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت ہے:امام مسجد اقصیٰ

ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اتحادکیساتھ لڑی، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ

سپریم کورٹ کا نواز شریف کے خلاف ٹرائل 3 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم

گزشتہ 10 سال میں عوام کو 36 ارب ڈالر کا مقروض بنادیا گیا: فیاض الحسن چوہان

ٹرمپ کا بیان ان کیلئے سبق ہے، جو 9/11 کے بعد امریکا کو خوش کرنا چاہتے تھے،شیریں مزاری

رائیونڈ: علامہ جواد نقوی کی مولانا طارق جمیل سے ملاقات

ایران میں عالمی اتحاد امت کانفرنس

فاطمیون سے متعلق امریکہ کے دعوے من گھڑت ہیں: ایران

آزادی کی منزل قریب تر ہے، فلسطینی قوم کا خون جلد رنگ لائے گا: خالد مشعل

آئی او کے لاپتہ چیئرمین رضی شمسی بخیر و عافیت گھر پہنچ گئے

'گجرات سے مسلم نشانیاں دانستہ مٹائی جا رہی ہیں'

’امریکا کیلئے پاکستان نے جو کیا اس کا بدلہ خون سے چکا رہے ہیں‘

افغانستان میں طالبان ہارے نہیں بلکہ پوزیشن مضبوط ہوئی ہے

’جے آئی ٹی کے ریکارڈ کردہ بیانات قابل قبول شہادت نہیں‘

انسداد مالی بدعنوانی کیلئے اجتماعی تعاون کی ضرورت

ایمپریس مارکیٹ آپریشن کے متاثرین کا کیا ہوگا؟

یمن پر سعودی جارحیت اورامریکی سعودی گٹھ جوڑ کے خلاف مظاہرہ

برطانوی وزیر خارجہ ایران پہنچ گئے

سعودی عرب نے وحشی پن کے ہتھیار کو تلوار سے آری میں تبدیل کر دیا

خاشقجی کے قاتل لاش کی باقیات ترکی سے باہر لے گئے: ترکی

دمشق کے مضافات میں امریکی میزائلوں کا انکشاف

نمائشی انتخابات کے خلاف بحرینی عوام کے مظاہرے

غزہ کے حالیہ واقعے میں تحریک حماس کی کامیابی کا اعتراف

ماڈل ٹاؤن کیس: نئی جے آئی ٹی کیلئے لارجر بنچ کی تشکیل

2018-11-02 08:11:59

کیا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ مفت میں دیا ہے؟

15

تحریر: محمد حسن جمالی
وہ ملک جس کا نظام قرضے کے سہارے چلتا ہے، کبھی بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا، ملکی پیشرفت کے لئے آزادی اور استقلال بنیادی شرط ہے، جس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ آزادی کے مقابل والی صفت کا نام غلامی ہے، یہ ایک ایسی بدترین صفت ہے، جو انسان، ملک یا قوم کو قہر مذلت میں گرا دیتی ہےـ جو قوم یا ملک اغیار کی غلامی پر ناز کرتا ہے، وہ کبھی بھی سربلند ہوکر سکھ کا سانس نہیں لے سکتا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزارت عظمٰی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دو بار سعودی عرب کا دورہ کیا ہےـ دوسرے دورے کے بعد وزیراعظم نے قوم سے خطاب بھی کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے سعودیہ کے دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمیں نو ارب ڈالر کا فری تیل دینے کے علاوہ تین ارب ڈالر قرضہ دینے کے لئے آمادہ ہوگیا ہےـ یہ خبر پورے پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دوسرے دن یہ خبر تمام ملکی و قومی اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی اور مختلف تجزیہ نگاروں نے اس پر مختلف زاویوں سے تجزیہ و تحلیل کرنے کی کوشش کی۔

بعض نے لکھا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ دے کر ایثار اور فداکاری کا مظاہرہ کیا ہےـ کچھ نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کا صمیمی دوست ملک ہونے کی وجہ سے قرضہ دیا ہےـ بعض کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارا برادر مذہبی ملک ہے، وہ پاکستان کو قرضہ دے کر اسے اقتصادی بحران سے نکالنے کا خواہاں ہے، وغیرہ…… یوں پاکستانی قوم کی اکثریت نے سعودی قرضے کو خوشحال پاکستان کی علامت قرار دے کر خوشی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیـ لیکن دنیا کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والوں کے لئے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سعودی عرب اس وقت اپنے غلط کرتوت کے سبب پوری دنیا کے سامنے رسوا ہو رہا ہےـ وہ دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہےـ

ہر باشعور انسان سمجھتا ہے کہ سعودی عرب تین سالوں سے یمن پر وحشیانہ بمباری کرکے اپنی سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ترکی میں قلمکار جمال قاشقچی کے بدن کے ٹکرے ٹکرے کروا کر سعودی عرب اپنے امریکی آقا صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک کی مذمت سے بچ نہیں سکاـ، خصوصاً جب سے امریکی صدر کا یہ بیان منظر عام پر آیا ہے کہ سعودی عرب ہماری بیساکھیوں کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتا ہے، سعودی حکمرانوں کی پریشانیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور وہ کسی حد اس بات کی جانب متوجہ ہوگئے ہیں کہ ہم امریکہ و اسرائیل کے مہرے بنے ہوئے ہیں، ان کی دوستی ان کے اپنے مفادات سے وابستہ ہے، جو کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے، جس دن انہوں نے اپنا دست شفقت ہمارے سروں سے اٹھا لیا، اس دن ہماری موت یقینی ہے۔

لہذا سفارتی تنہائی سے نکلنے اور دنیا والوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی نفرت کو ختم کرنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ دیا ہے، تاکہ پاکستان سعودی عرب اور اس سے متنفر ممالک کے درمیان ثالثی کرکے اسے سفارتی تنہائی سے باہر نکالنے میں کردار ادا کرےـ اس کے علاوہ اتنی خطیر رقم قرضہ دینے کے مقاصد میں سے ایک ہدف یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر سعودی عرب نے مدارس کے نام سے جو دہشتگردی کے جال پھیلائے ہوئے ہیں، انہیں حکومت آزاد رکھے اور ان مدارس سے نکلے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے، اس پر شاہد یہ ہے کہ وزیراعظم کی زبانی سعودی قرضے کی نوید سنانے کے چند روز بعد ایک تکفیری گروہ نے بر سرعام جلسے میں شیعہ کافر کا نعرہ لگایا۔۔۔۔

اب عمران خان نے سعودی عرب سے قرضہ لے کر اس کی غلامی قبول کرلی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یمن کے حوالے سے وہ کیا ردعمل دکھائیں گے؟ بہت سارے احتمالات ہیں اور ہر احتمال میں پاکستان کے لئے داخلی و خارجی نقصان مضمر ہےـ سب سے خطرناک ناقابل تلافی نقصان اس صورت میں ہوگا کہ اگر وہ خدانخواستہ یمن کے اندر سعودی عرب کی مدد کے لئے پاکستان سے فوج روانہ کر دی جائے گی۔ لہذا پاکستانی حکمرانوں کو پانی سر سے گزرنے سے قبل اس مسئلے پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ تبدیلی قرضے سے نہیں بلکہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے اغیار سے بے نیاز کرنے سے آتی ہےـ تبدیلی استقلال و آزادی سے آتی ہے، دوسروں کے سامنے بھیک مانگنے سے نہیںـ بے شک سروے کرکے دیکھ لیں کہ استقلال کسی بھی ملک کی ترقی کے اہم رازوں میں شمار ہوتا ہے، اگر پاکستان میں تبدیلی لانے کے وعدے میں سچے ہو تو وہ یہ چند کام ضرور کرلیں۔
1ـ اپنے ملک کے تعلیم یافتہ جوانوں کی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے ان پر سب سے زیادہ توجہ دیں۔
2ـ اپنے ملک کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں۔
3ـ اغیار کی غلامی سے آزاد ہوکر امور مملکت چلانے کی ہمت کریں۔
4ـ انصاف کے بل بوتے پر نظام مملکت استوار کرنے کو اپنی پہچان بنائیں۔
5ـ چوروں اور کرپشن کرنے والے غداروں کے خلاف عمل کو تیز تر کرکے ان گھیرا تنگ کریں۔
6ـ پاکستان کے اندر پاکستان سے حقیقی محبت کرنے والوں کو پہچان لیں، کیونکہ یہی لوگ پاکستان کی ترقی کے لئے حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں، جن میں سرفہرست خطہ امن گلگت بلتستان کے باسی ہیں، لہذا گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرکے انہیں انسانی حقوق دینے میں تاخیر نہ کریں۔ہر پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ مفت میں دیا ہے۔؟

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)