یمن پر سعودی عرب کی چار سالہ فوجی جارحیت کے اثرات

امریکی حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت درجنوں شامی شہری جاں بحق

آیت اللہ شیخ زکزاکی کی رہائی کیلئے مظاہرے

حضرت امام زمانہ (عج) کی امامت کا آغاز منتظران کو مبارک

کیا یمن میں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سانحہ ہونے کو ہے؟

روہنگیا کے حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ کمیٹی کی مذمت

خاشقجی کے آخری کلمات

شاعرِ اہلِ بیت سلمان اعظمی انتقال کر گئے

بلاول بھٹو زرداری کا معروف شاعر ریحان اعظمیٰ کے صاحبزادے سلمان اعظمی ٰکے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

طاہر داوڑ کوئی معمولی پولیس افسر نہیں تھے

پولیس کا مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا فیصلہ

’5 برسوں میں 26 صحافی قتل، کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ہوئی‘

’افسوس ہے کہ اؔمرانہ سوچ رکھنے والا ملک کا وزیراعظم بن گیا‘

عراق کے صدر تہران پہنچ گئے

قائد آباد سے برآمد ہونے والا بم انتہائی پیچیدہ ساخت کا تھا

’’میں نے کئی مرتبہ یو ٹرن لیا ہے‘‘

سعودی عرب کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی

امریکی فوج کے نکلنے کی وجہ روس و چین

امام حسن عسکری علیہ السلام کی پر مشقت ،مختصر زندگی اور شیعوں کی راہنمائی

امریکہ کے نوکر اور غلام عرب حکام کو ایران کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی ہے

سی آئی اے کا سعودی ولی عہد پر خاشقجی قتل کا الزام

’ڈیرہ غازی خان میں ڈولفن فورس کی تعیناتی کا اعلان ‘

’’عمران یوٹرن والے بیان پر بھی یوٹرن لیں گے‘‘

وحدت کیجانب اہم قدم، تحریک بیداری امتِ مصطفیٰ کا 12 ربیع الاول کو وحدتِ امت ریلی نکالنے کا اعلان

چپ تعزیہ کے جلوسوں کے روٹس اور مرکزی اجتماع گاہوں پر سکیورٹی کو غیر معمولی بنایا جائے، آئی جی سندھ

یمن میں قحط سالی کا خدشہ

امریکی بمباری میں درجنوں شامی شہری جاں بحق اور زخمی

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرہ

روہنگیا پناہ گزینوں کا میانمار حکومت کے خلاف مظاہرہ

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یمن پر سعودی اتحاد کے حملے جاری

مصری خاتون کا خاشقجی سے خفیہ شادی کا انکشاف

پاکستان میں ٹیکس چوری کیسے روکی جا سکتی ہے؟

خاشقجی قتل: سعودی موقف کی نفی، ترکی کے پاس ایک اور بڑا ثبوت

خودکش حملے کی داعش نے ذمہ داری قبول کی

شہادت امام حسن عسکری (علیہ السلام)اور حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کو امامت ملنا

تصویریں بولتی ہیں!

’’چیئرمین سینیٹ کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہوئی‘‘

’آئیڈیاز 2018 کی تیاریاں مکمل ہیں‘

’’وہ لیڈر ہی نہیں، جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا‘‘

نائن الیون :امریکی مظالم عروج پر عراق،افغانستان،پاکستان میں تقریبا50لاکھ افرادمارےگئے

بریگزٹ ڈیل: برطانوی کابینہ کے چار وزراء مستعفی

امریکا کو قومی سلامتی اور فوجی بحران کا سامنا، رپورٹ

سکھوں کے پاس جناح جیسا لیڈر ہوتا تو خالصتان بن جاتا:امرجیت

امریکی تسلط پسندی کا دور ختم ہو چکا ہے، ایران

صدر مملکت کا32 گاڑیوں کا پروٹوکول لینے سےانکار

جمال خاشقجی کا قتل سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے: سعودی وزیرِ خارجہ

’میں نے زندگی میں کبھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا‘

اسلام آباد سےایک اور افسر لاپتہ

سینیٹر رضا ربانی حکومت پر برس پڑے

جامشورو ایل پی جی گیس پلانٹ کی بندش، پلانٹ کے مالک کو ڈیڑھ ارب روپے جمع کروانے کا حکم

چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےدرمیان اختلافات میں شدت، اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم کا صادق سجرانی سے فواد چوہدری پر سینیٹ میں پابندی کے معاملے پر تشویش کااظہار

سپریم کورٹ کا زلفی بخاری کی تعیناتی سے متعلق فائل پیش کرنے کا حکم

العزیزیہ ریفرنس: میں نے ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پرانحصارنہیں کیا‘ نواز شریف

خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی توضیح ناکافی: ترکی

یورپی یونین سے نکلنے کی منظوری پر بریگزٹ سیکریٹری مستعفی

امریکہ: کیلی فورنیا میں آگ، ٹرمپ انتظامیہ کی لاپرواہی پر احتجاج

انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سعودی عرب پر انسانی حقوق کی تنظیم کی شدید تنقید

سینیٹ میں شور شرابہ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا معافی مانگنے سے انکار

یورپی پارلیمینٹ کا سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

افغانستان میں طالبان کا حملہ، 30 پولیس اہلکار ہلاک

روہنگیا مسلمانوں کو جبراً واپس نہیں بھیجا جائے گا: بنگلادیش

صیہونی دہشتگردوں میں پھیلی دہشت

تحریک مزاحمت صیہونی حکومت کو شکست دینے کی توانائی رکھتی ہے، حزب اللہ

حضرت امام حسن عسکری(ع) کی شہادت پوری دنیا عزادار

’تحریک لبیک نے انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں‘

پہلا ٹیسٹ: نیوزی لینڈ کا ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف بیٹنگ کا آغاز

پاکستان عباس اور یاسر کی بدولت نیوزی لینڈ کو قابو کرنے کا خواہاں

حکومت اپنی صفوں سے اسرائیلی ایجنٹوں کو نکال باہر کرے،فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی کوشش سے 5 ایرانی مغوی گارڈز بازیاب

بھارتی میڈیا نے کشمیر سے متعلق بیان کی غلط تشریح کی، شاہد آفریدی

2018-11-07 08:12:00

یمن پر سعودی عرب کی چار سالہ فوجی جارحیت کے اثرات

114

مارچ 2015ء میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، سوڈان، اردن اور مصر کے تعاون اور امریکہ اور اسرائیل کی خصوصی حمایت سے یمن کے خلاف فوجی چڑھائی کر دی۔ سعودی عرب نے اس جنگ کا نام “عاصفۃ الحزم” رکھا۔ اب تک اس جنگ میں بڑی تعداد میں بیگناہ یمنی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ یمن کا انفرااسٹرکچر بھی تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف عربی – مغربی – عبری اتحاد نے اس جنگ کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اس جارحانہ اور وحشیانہ حملے کی نوعیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اگر صرف حقیقت پسندی اور انسان پسندی پر مبنی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس جنگ کا نتیجہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی رسوائی اور ذلت کے علاوہ کچھ نہیں نکلا۔ ذیل میں اس بارے میں چند اہم نکات پیش کئے جا رہے ہیں:

1)۔ یہ جنگ درحقیقت موجودہ حساس دور میں ایک مسلمان ملک کا دوسرے مسلمان ملک پر جارحانہ حملے کی بدعت گزاری ہے۔ مزید یہ کہ اس حملے کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں۔

2)۔ یمن ایک انتہائی غریب عرب ملک تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پر جارحیت کرنے والے اتحاد میں شامل عرب ممالک مالی اور فوجی اعتبار سے کہیں زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ ہیں۔ لہذا یہ ایک انتہائی غیر منصفانہ جنگ ہے۔

3)۔ یمن جنگ میں سعودی عرب کا کریہہ چہرہ سب پر عیاں ہو گیا اور اسرائیل کے ساتھ اس کی دوستی اور تعاون بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اب اکثر مسلمان ممالک اس حقیقت کو درک کر چکے ہیں کہ سعودی عرب ماضی کی طرح اسرائیل کے مقابلے میں عرب دنیا کی فتح کا علمبردار نہیں رہا اور اب اس کا مقصد اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا اور سازباز کرنا ہے۔

4)۔ اس جنگ کا مقصد یمن کو توڑنا تھا کیونکہ ایک مضبوط اور بڑا یمن اپنے اردگرد کی جیوپولیٹیکل فضا پر اثرانداز ہو سکتا ہے اور خاص طور پر بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب جیسے اسٹریٹجک آبنائے میں انرجی کے ذخائر کی نقل و حرکت کو متاثر کر سکتا ہے۔ لہذا اسے توڑ کر چھوٹے چھوٹے کمزور ممالک میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔

5)۔ آل سعود رژیم یمن جنگ کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے نتیجے میں مزید مسلمان اور بے دفاع مظلوم یمنی شہریوں کی شہادت کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ یمن کی ایک معتبر ویب سائٹ “المرکز القانونی للحقوق و التنمیہ” پر جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک یمن جنگ میں 15 ہزار بیگناہ شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 23 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ظالم سعودی رژیم کو ایک دن عالمی رائے عامہ اور اسلامی دنیا کے سامنے اس مجرمانہ اقدام کا حساب چکانا ہو گا۔

6)۔ آل سعود رژیم نے خطے میں اجنبی طاقتوں کے داخلے کا بہانہ فراہم کیا ہے اور خطے کی سکیورٹی ان کے سپرد کر دی ہے۔ سعودی رژیم نے اپنی سلامتی کیلئے عالمی استعماری قوتوں خاص طور پر امریکہ پر مکمل انحصار کر رکھا ہے لہذا ایسی صورت میں وہ اسلامی دنیا کی مرکزیت کا دعوی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی بنیاد استکباری قوتوں سے مقابلہ اور مظلوموں کے دفاع پر استوار ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ آل سعود رژیم نے امریکہ کی حمایت اور شہہ پر یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کیا ہے۔

7)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان اپنے سیاسی حریفوں کو میدان سے نکال باہر کرنا چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے یمن کے خلاف جنگ کا بھی آغاز کیا۔ اس جنگ میں ان کا ایک مقصد آل سعود کی طاقت میں اضافہ کرنا بھی تھا۔ ان کی یہ آرزو تو پوری نہ ہو سکی اور الٹا یمنیوں کی مزاحمت نے ان کی موجودہ طاقت کو بھی چکناچور کر کے رکھ دیا۔

8)۔ سعودی عرب اپنے روایتی بادشاہی نظام حکومت اور عوام میں مقبولیت کی کمی کے باعث اس بات سے شدید خوفزدہ ہے کہ کہیں یمن کی انقلابی قوم کا جذبہ سعودی شہریوں اور دیگر عرب ممالک میں سرایت نہ کر جائے لہذا یمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے اپنی پوری طاقت میدان میں لاچکا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں حکم فرما غیرعوامی اور غیرجمہوری نظام پوری دنیا کی نظر میں اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

9)۔ اقوام عالم خاص طور پر مسلمان قومیں جان چکی ہیں کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا مقصد اس ملک کے تیل و گیس کے ذخائر پر قبضہ جمانا اور دنیا کے دوسرے اسٹریٹجک آبنائے یعنی باب المندب پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔ دنیا کی تقریباً 6 فیصد تجارت اس آبنائے کے ذریعے انجام پاتی ہے۔

10)۔ سعودی عرب نے یمن جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عربی نیٹو تشکیل دینے کی کوشش کی۔ یہ منصوبہ بھی خطے میں اپنی ناجائز طاقت پھیلانے کی ایک سازش ہے۔ اسی طرح اس کا مقصد دیگر ممالک کیلئے بھی اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

11)۔ تکفیری دہشت گردوں کو سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی امداد کسی پر ڈھکی چھپی نہیں۔ آل سعود رژیم گذشتہ چند سالوں کے دوران مختلف محاذوں جیسے عراق، شام اور لبنان میں مسلسل ناکامیوں کے بعد خطے میں سیاسی اور اسٹریٹجک اثرورسوخ کھو چکی ہے۔ لہذا اب وہ یمن میں کامیابی حاصل کر کے خطے میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

12)۔ سعودی رژیم درحقیقت خطے میں عالمی استکباری قوتوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کی نمائندہ کا کردار ادا کر رہی ہے اور اسی بنیاد پر یمن میں اسلامی مزاحمتی قوتوں کے خاتمے کیلئے ان کے خلاف نبرد آزما ہے۔

13)۔ انصاراللہ یمن اور انقلاب یمن کی عوامی کمیٹی خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے اتحادی تصور کئے جاتے ہیں لہذا ان کی کامیابی خطے میں اسلامی مزاحمت کی پوزیشن بہتر بنانے میں موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ، اسرائیل اور آل سعود رژیم یمن میں اپنی کٹھ پتلی حکومت برسراقتدار لانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔

14)۔ یمن کے خلاف جنگ کا نتیجہ یمنی عوام کیلئے انتہائی افسوسناک اور ہولناک انداز میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس وقت ہزاروں بیگناہ یمنی عوام اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ کروڑوں یمنی مسلمان وبائی امراض سے دوچار ہیں اور قحط کے باعث ان کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

15)۔ یمن کے خلاف جارحیت میں سعودی عرب کا ایک اسٹریٹجک اتحادی متحدہ عرب امارات ہے جو اس جنگ میں اس لئے شریک ہے تاکہ خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ یمن کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کر سکے۔ یمن کی نابودی میں متحدہ عرب امارات کا کردار سعودی عرب سے کم نہیں ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

بھرے پیٹ کے بھوکے بچے

- ایکسپریس نیوز