آج کا دن تاریخ کا سیاہ دن

امریکا نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بربریت کو نسل کشی قرار دے دیا

کویت میں برطانیہ کا نیا فوجی اڈہ

بھارت: پیلٹ گن کا نشانہ بننے والی کشمیری بچی کے آنکھوں کا آپریشن

غیروں کے ساتھ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا طرزِ معاشرت

وہ معاشرہ جو عقل کی بنیاد پر قائم ہو وہ کامیاب و متمدن ہوتا ہے | انسان کو چاہیئے کہ علمی فکر کرے اور عدلی عمل کرے

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچتا ہوا دیکھیں گے، چیف سیکرٹری بلوچستان

ایران کا یمنی گروہوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کا خیرمقدم

بیت المقدس فلسطین کا تاریخی دارالحکومت

مذہبی آزادی کی آڑمیں امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہا ہے، شیریں مزاری

’نیب حمزہ شہباز کو بھی گرفتار کرسکتا ہے‘

یمن جنگ میں امریکی امداد پر پابندی

کوئٹہ سے نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل اغوا

پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کا راج

چین میں کینیڈا کے سابق سفیر کی گرفتاری کے بعد کاروباری شخصیت بھی زیرحراست

اسد عمر کے انٹرویو سے کلبھوشن کا حصہ نکالنا 'سینسرشپ' نہیں تھا، بی بی سی

فرانس:کرسمس بازار میں تین افراد کا قتل ،حملہ آورگرفتار نہیں ہوسکا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی 14 سالہ لڑکی وادی کی سب سے کم عمر مصنفہ بن گئیں ہیں

یمن جنگ: امریکی سینیٹرز کا سعودی عرب کی پشت پناہی نہ کرنے کا فیصلہ

ایڈیشنل آئی جی کراچی کے حکم پر رشوت لینے والا ایس ایچ او سپر مارکیٹ معطل

سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ٹیکس نظام کو بدلنا ہوگا، وزیر اعظم

رہنما پی ٹی آئی مراد سعید کو وفاقی وزیر مقرر کر دیا گیا

امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد کو خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام

امریکی دباؤ سے کیا مذہبی شدت پسندی کم ہو گی؟

مائنس امریکہ مستقبل کیجانب گامزن شام

چین میں کینیڈا کے ایک اور شہری کی گرفتاری

ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی پاکستان کی کوشش

غرب اردن میں تین صیہونی فوجیوں کی ہلاکت

علاقائی تعاون پر افغان صدر اشرف غنی کی تاکید

پنجاب کے عوام کو آئی فون دکھا کر نوکیا 3310 تھما دیا گیا، مریم اورنگزیب

بھارت بھی ہاکی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا

فواد چودھری کی پی اے سی سربراہی شہباز شریف کو دینے کی مخالفت

منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کو ایک طرح سے ہی ڈیل کریں گے، وزیراعظم

علیمہ خان کون ہیں؟

ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی پاکستان کی کوشش

یمنی حکومت اور حوثی جنگجووں کے درمیان امن مذاکرات کامیاب

بحریہ ٹاؤن کراچی: سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بن گئی؟

امریکہ نے بڑی تعداد میں داعش دہشت گردوں کو افغانستان منتقل کردیا

کیا ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے؟

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

بنگلا دیش:انتخابی مہم کے دوران تصادم 30 ہلاک و زخمی

مصر: فوج کی کارروائی میں 27 شدت پسند ہلاک

حزب اللہ کے ہاتھ لگی موساد کی اہم اطلاعات... اسرائیل میں بوکھلاہٹ

زرداری اور بلاول کے وکیل نیب کے سامنے پیش

پاکپتن مزاراراضی کیس: نوازشریف کے کردار کا جائزہ لینے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

ایف بی آر کا سابق گورنر پنجاب کو نوٹس

بیرون ملک جائیداد کیس: علیمہ خان کو 2 کروڑ 95 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم

پاکستانی معیشت کو شعبہ توانائی کے سبب 18 ارب ڈالر کے بحران کا سامنا

بحریہ ٹاؤن کراچی: سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بن گئی؟

سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوئے تو ایوان نہیں چلے گا، (ن) لیگ

لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب

عمران خان انسٹاگرام پر فعال ترین عالمی رہنماؤں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر

بااثر علاقائی اور عالمی ممالک ایٹمی معاہدے کی حفاظت کریں، گوترش

ایرانی عوام کی تندرستی پر امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا اثر

راہ خدا میں خطرات مول لینے والی قوم سربلند رہتی ہے، رہبرانقلاب اسلامی

اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے یمنی شہریوں کا مظاہرہ

ہاکی ورلڈ کپ: انگلینڈ اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں

صییہونی فوجیوں کی بربریت ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

فلسطینی بچے کی شہادت

بشاراسد کے اس بیان نے مغرب اور اس کےاتحادیوں کی نیندیں حرام کردیں

پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں دوسری میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کا آغاز

ایسا نظام لارہے ہیں ہر واردات ریکارڈ ہوگی، پولیس چیف کراچی

گیس کا بحران، ایم ڈیز سوئی سدرن و ناردرن کیخلاف انکوائری کا حکم

برطانیہ تاریخی بحران کیطرف جا رہا ہے؟

بلیک لسٹ معاملہ، امریکی حکام کی دفتر خارجہ طلبی، شدید احتجاج

ریاست مدینہ کے قیام میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پہلی سیڑھی ہے،علامہ ساجد نقوی

امریکا نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی خصوصی تشویشی ’بلیک لسٹ‘ سے نکال دیا

مردان: اسکول میں پی ٹی آئی ترانہ پڑھنے کا معاملہ، ہیڈماسٹر کی جبری ریٹائرمنٹ

مسلم لیگ(ن) کے 7 رہنماؤں نے مجھ سے این آر او مانگا، مراد سعید کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ممکنہ مواخذے پر پریشان

2018-12-04 08:39:13

آج کا دن تاریخ کا سیاہ دن

63

۵۵ ہجری میں معاویہ نے اپنے بیٹے معاویہ کیلئے بیعت لی اور مدینہ کے حاکم مروان بن حکم کو لکھا کہ اہل مدینہ سے بیعت لے، مروان نے مدینہ میں خطبہ دیا اور یزید کی ولایت عہدی کا اعلان کیا اور ۶۰ ہجری میں معاویہ کے مرنے کے بعد یزید تخت نشین ہوا (۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۹۶۔

2.موسی ابو سبحہ بن ابراہیم مرتضی بن الامام موسی الکاظم (علیہ السلام) ملقب بہ سید مرتضی علم الہدی ۳۵۵ ہجری میں متولد ہوئے اور ۲۵ ربیع الاول ۴۳۶ ہجری کو ۸۱ سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے دادا امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔
قابل ذکر ہے کہ آپ سید رضی صاحب نہج البلاغہ کے بڑے بھائی ہیں۔
آپ کی بہت سی تالیفات ہیں جیسے: الشافی فی الامامة، تنزیہ الانبیا، الذریعة فی اصول الشریعہ، الرسالة الباہرة فی العترة الطاہرة، المسائل الناصریة، المسائل التبانیات وغیرہ (۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۹۵۔

3.جس وقت حضرت علی (علیہ السلام) کی شہادت اور امام حسن (علیہ السلام) کی بیعت کی خبر معاویہ کوملی تو معاویہ نے کچھ جاسوس آپ کی طرف روانہ کئے، امام حسن (علیہ السلام) نے جاسوسوں کو بلاکر قتل کردیا اور معاویہ کولکھا: جاسوس بھیجتے ہو؟ مکر و حیلہ کررہے ہو؟ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارا جنگ کا ارادہ ہے! اگر ایسا ہے تو ہم جنگ کے لئے تیار ہیں ۔ معاویہ اورامام حسن (علیہ السلام) کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی ، یہاں تک کہ معاویہ نے ایک زبردشت لشکر عراق کی طرف روانہ کیا۔ امام حسن (علیہ السلام) کے اصحاب کے درمیان منافقین اور خوارج نے فتنہ برپا کردیا تھا ، جس وقت امام حسن (علیہ السلام) اس موضوع کی طرف متوجہ ہوئے تو منبر پر گئے اور لوگوں کو معاویہ جنگ کرنے کی دعوت دی ، لیکن کوئی بھی جنگ کیلئے تیار نہیں ہوا اور امام کی دعوت کوقبول نہیں کیا۔ اس وقت عدی بن حاتم کھڑے ہوئے اور کہا: تم بہت برے لوگ ہو کیوں کہ امام اور فرزند رسو ل خدا تمہیںجہاد کی دعوت دے رہا ہے اور تم قبول نہیں کررہے ہو۔
کچھ لوگوں نے موافقت کی، امام علیہ السلام نے ان کو نخیلہ کی طرف روانہ کیا، اکثر جن لوگوں نے اطاعت کا اظہار کیا تھا انہوں نے وفا نہیں کی، امام (علیہ السلام) نے کئی مرتبہ ان کو معاویہ کی طرف بھیجا لیکن معاویہ نے ان کو بہت کم پیسہ دے کر دھوکادیا۔ یہاں تک کہ اس نے عبیداللہ بن عباس جو امام حسن (علیہ السلام) کے لشکر کاسردار تھا دھوکا دیا۔ امام (علیہ السلام) نے جب یہ حالات دیکھے تو معاویہ سے صلح کرنے کا ارادہ کیاتو منافقین نے کہا: امام حسن (علیہ السلام)بھی اپنے باپ حضرت علی (علیہ السلام) کی طرح کافرہوگئے ہیں بالآخرفوجی آپ کے خیمہ پرٹوٹ پڑے آپ کاکل اسباب لوٹ لیاآپ کے نیچے سے مصلی تک گھسیٹ لیا،دوش مبارک پرسے ردابھی اتارلی اوربعض نمایاں قسم کے افرادنے امام حسن کومعاویہ کے حوالے کردینے کاپلان تیارکیا،آخرکارآپ ان بدبختیوں سے مایوس ہوکرمدائن کے گورنر،سعدیاسعیدکی طرف روانہ ہوگئے ، راستہ میں ایک خارجی نے جس کانام ”جراح بن سنان“تھا آپ کی ران پرکمین گاہ سے ایک ایساخنجرلگایاجس نے ہڈی تک محفوظ نہ رہنے دیا۔
آپ کو مدائن میں سعد بن مسعود ثقفی کے گھر لے گئے، یہ شخص مختار کا چچا تھا اور کہنے لگے: امام حسن (علیہ السلام) کو معاویہ کے حوالہ کردیں ، شاید معاویہ عراق کی ولایت ہمیں دیدے۔ سعد نے کہا وائے ہو تم پر کیاان کے حق کو بھول گئے ہو ، کیا فرزند رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو معاویہ کے حوالہ کروگے؟ اس وقت لوگوں نے چاہا کہ مختار کو قتل کردیں لیکن ان کے چچا نے شفاعت کی۔ معاویہ نے امام حسن (علیہ السلام) کے پاس صلح کا خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ تمہارے اصحاب نے تمہارے والد کی بھی موافقت نہیں کی تھی جو اب یہ تمہاری موافقت کریں گے ۔ امام نے مجبور ہو کر صلح کرلی۔ یہ صلح نامہ ۴۱ ہجری میں لکھا گیا (۱)۔

۱۔ حوادث الایام، ص ۹۷۔

4.۲۵. ربیع الاول ۵ ہجری کو یہ غزوہ دومة الجندل رونما ہوا۔ دومة الجندل ایک جگہ کا نام ہے۔ کچھ اشرار نے مسلمانوں کے ایک کارواں پر حملہ کیا تھا۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے سباع بن عرفطہ غفاری کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنا یا اور ایک ہزار مسلح افراد کے ساتھ اس مقام کی طرف روانہ ہوئے ، جب ان رہزنوں کو پتہ چلا تو اپنا سامان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کا سارا سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگا ۔ اور بیس ربیع الثانی کو یہ لشکر مدینہ میں داخل ہوا۔
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور ابوموسی اشعری دومة الجندل کو عبور کررہے تھے کہ ابو موسی نے مجھ سے کہا کہ جس زمانے میں ہم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ دومة الجندل پہنچے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مجھ سے فرمایا: ”یہ وہ مقام ہے جہاں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے ایک ظالمانہ فیصلہ کیا تھا اور بہت جلد میری امت ےک دو آدمی اس جگہ پر ظالمانہ فیصلہ کریں گے۔
راوی کہتا ہے کہ جب میدان صفین میں ابوموسی اشعری اور عمرو عاص کو حکم دیا گیا تو یہ دونوں اسی مقام دومة الجندل میں گئے اور فیصلہ کرکے واپس صفین میں آئے ۔ راوی کہتا ہے کہ حکمین کے بعد میری ملاقات ابوموسی اشعری سے ہوئی تو میں نے اس سے کہا: کیا تم ہی نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ایسی حدیث مجھ سے نقل نہیں کی تھی؟!، ا س نے کہا: ”واللہ المستعان” (۱)۔
۱۔ تقویم شیعہ، ص ۹۶۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 3 ، اسلام ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)