کیا پاکستان میں واقعی 'ففتھ جنریشن وار' لڑی جا رہی ہے؟

امریکی دباؤ سے کیا مذہبی شدت پسندی کم ہو گی؟

وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں شیلٹر ہومز کا افتتاح کردیا

’وزیر اعظم پروڈکشن آڈر کے حق میں ہیں‘

نیب نے رانا ثنا اللہ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا

روس نے ایٹم بم لیجانے والے 2 طیارے ونزویلا پہنچا دیے

سندھ کا وفاق سے گھریلو صارفین اور صنعتوں کی گیس بندش فوری ختم کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے خلاف آگ اور خون کی نئی جنگ شروع ہو چکی ہے: اسماعیل ھنیہ

حکومت نے پی اے سی کی سربراہی شہباز شریف کو دے کر یو ٹرن لیا، فواد چوہدری

سپریم کورٹ: پی کے ایل آئی کا انتظام سنبھالنے کیلئے سمری پر 2 ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم

قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ توقیر ڈار عہدے سے مستعفی

کیا پی ٹی آئی ریاستی اداروں کی لاڈلی ہے؟

مجھے نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے، نیدرلینڈ میں زیرتعلیم پاکستانی طالبعلم کا احتجاج

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

امریکا نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بربریت کو نسل کشی قرار دے دیا

کویت میں برطانیہ کا نیا فوجی اڈہ

بھارت: پیلٹ گن کا نشانہ بننے والی کشمیری بچی کے آنکھوں کا آپریشن

غیروں کے ساتھ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا طرزِ معاشرت

وہ معاشرہ جو عقل کی بنیاد پر قائم ہو وہ کامیاب و متمدن ہوتا ہے | انسان کو چاہیئے کہ علمی فکر کرے اور عدلی عمل کرے

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچتا ہوا دیکھیں گے، چیف سیکرٹری بلوچستان

ایران کا یمنی گروہوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کا خیرمقدم

بیت المقدس فلسطین کا تاریخی دارالحکومت

مذہبی آزادی کی آڑمیں امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہا ہے، شیریں مزاری

’نیب حمزہ شہباز کو بھی گرفتار کرسکتا ہے‘

یمن جنگ میں امریکی امداد پر پابندی

کوئٹہ سے نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل اغوا

پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کا راج

چین میں کینیڈا کے سابق سفیر کی گرفتاری کے بعد کاروباری شخصیت بھی زیرحراست

اسد عمر کے انٹرویو سے کلبھوشن کا حصہ نکالنا 'سینسرشپ' نہیں تھا، بی بی سی

فرانس:کرسمس بازار میں تین افراد کا قتل ،حملہ آورگرفتار نہیں ہوسکا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی 14 سالہ لڑکی وادی کی سب سے کم عمر مصنفہ بن گئیں ہیں

یمن جنگ: امریکی سینیٹرز کا سعودی عرب کی پشت پناہی نہ کرنے کا فیصلہ

ایڈیشنل آئی جی کراچی کے حکم پر رشوت لینے والا ایس ایچ او سپر مارکیٹ معطل

سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ٹیکس نظام کو بدلنا ہوگا، وزیر اعظم

رہنما پی ٹی آئی مراد سعید کو وفاقی وزیر مقرر کر دیا گیا

امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد کو خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام

امریکی دباؤ سے کیا مذہبی شدت پسندی کم ہو گی؟

مائنس امریکہ مستقبل کیجانب گامزن شام

چین میں کینیڈا کے ایک اور شہری کی گرفتاری

ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی پاکستان کی کوشش

غرب اردن میں تین صیہونی فوجیوں کی ہلاکت

علاقائی تعاون پر افغان صدر اشرف غنی کی تاکید

پنجاب کے عوام کو آئی فون دکھا کر نوکیا 3310 تھما دیا گیا، مریم اورنگزیب

بھارت بھی ہاکی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا

فواد چودھری کی پی اے سی سربراہی شہباز شریف کو دینے کی مخالفت

منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کو ایک طرح سے ہی ڈیل کریں گے، وزیراعظم

علیمہ خان کون ہیں؟

ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی پاکستان کی کوشش

یمنی حکومت اور حوثی جنگجووں کے درمیان امن مذاکرات کامیاب

بحریہ ٹاؤن کراچی: سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بن گئی؟

امریکہ نے بڑی تعداد میں داعش دہشت گردوں کو افغانستان منتقل کردیا

کیا ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے؟

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

بنگلا دیش:انتخابی مہم کے دوران تصادم 30 ہلاک و زخمی

مصر: فوج کی کارروائی میں 27 شدت پسند ہلاک

حزب اللہ کے ہاتھ لگی موساد کی اہم اطلاعات... اسرائیل میں بوکھلاہٹ

زرداری اور بلاول کے وکیل نیب کے سامنے پیش

پاکپتن مزاراراضی کیس: نوازشریف کے کردار کا جائزہ لینے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

ایف بی آر کا سابق گورنر پنجاب کو نوٹس

بیرون ملک جائیداد کیس: علیمہ خان کو 2 کروڑ 95 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم

پاکستانی معیشت کو شعبہ توانائی کے سبب 18 ارب ڈالر کے بحران کا سامنا

بحریہ ٹاؤن کراچی: سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بن گئی؟

سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوئے تو ایوان نہیں چلے گا، (ن) لیگ

لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب

عمران خان انسٹاگرام پر فعال ترین عالمی رہنماؤں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر

بااثر علاقائی اور عالمی ممالک ایٹمی معاہدے کی حفاظت کریں، گوترش

ایرانی عوام کی تندرستی پر امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا اثر

راہ خدا میں خطرات مول لینے والی قوم سربلند رہتی ہے، رہبرانقلاب اسلامی

اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے یمنی شہریوں کا مظاہرہ

ہاکی ورلڈ کپ: انگلینڈ اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں

2018-12-06 08:29:18

کیا پاکستان میں واقعی 'ففتھ جنریشن وار' لڑی جا رہی ہے؟

51

پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔حال ہی میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی پولیس افسر طاہر داوڑ کی ہلاکت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ یہ ففتھ جنریشن وار فئیر ہے۔ہم نے اس مضمون میں اسی بیانیے کو پرکھا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ففتھ جنریشن وار فئیر کیا بلا ہے اور کیا واقعی پاکستان میں ایسی کوئی جنگ لڑی جا رہی ہے۔وار فئیر ماڈل کا استعمال سنہ 1648 میں معاہدہ امن ویسفالیہ ( Treaty of Westphalia ) کے بعد شروع ہوا۔ یہ معاہدہ اس 30 سالہ جنگ کے بعد ہوا تھا جو اُس وقت کی جرمن سلطنت اور دوسرے ممالک کے درمیان مذہبی بنیاد پر شروع ہوئی تھی۔تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ اس جنگ میں تقریباً 80 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جنگ کیتھولک عیسائیوں اور پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے درمیان مذہبی منافرت کی بنیاد پر شروع ہوئی تھی۔جنگوں کے ماڈل یعنی وار فئیر ماڈل کی اصطلاح اسی معاہدے کے بعد سے شروع ہوئی اور اس 30 سالہ جنگی دور کو ‘فرسٹ جنریشن وار فئیر’ کہا گیا۔

اس جنگ اور اس کے خاتمے کے بعد دنیا بھر میں آج کل کا رائج خود مختار ریاستوں کے نظام کا آغاز ہوا۔

‘فرسٹ جنریشن وار فئیر’ کیا ہے؟
ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا منبہ سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔

‘سیکنڈ جنیریشن وار فئیر’
امریکی پروفیسر رابرٹ جے بنکر کی لکھی ہوئی ایک تحقیق کے مطابق سیکنڈ جنریشن وار فیئر ٹیکنالوجی کی جنگیں تھیں جس میں فوج کے دستوں کی جگہ طاقتور ہتھیاروں نے لے لی اور جنگوں میں بڑا اسلحہ جیسا کہ مشین گن، میگزین رائفلز، توپوں نے لے لی۔ پروفیسر رابرٹ نے ان جنگوں کو ٹیکنالوجی کی جنگیں قرار دیا۔جنگوں کا یہ دور 19ویں صدی کے وسط سے شروع ہوا اور ابھی تک کچھ جنگیں انہی اصولوں پر لڑی جاتی ہیں۔

‘تھرڈ جنیریشن وار فئیر’
پروفیسر رابرٹ کے اسی تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ تھرڈ جنریشن وار فیئر میں جنگیں آئیڈیاز یعنی خیالات کی بنیاد پر شروع ہوگئیں۔پروفیسر رابرٹ کے مطابق اس دور میں جنگی چالوں کا استعمال عام ہوا۔ ان کے مطابق ان جنگوں میں مختلف چالوں سے دشمن قوتوں کی جنگی طاقت کو کمزور کیا جاتا ہے اور یا ایسی جگہوں سے حملہ کیا جاتا ہے جس میں مخالف فریق کو پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے حملہ ہوا ہے۔ایک اور تحقیقی مقالے میں تھرڈ جنریشن وار فیئر کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ اس جنریشن کی جنگوں میں ائیر کرافٹس یعنی جنگی طیاروں کا استعمال بھی شروع ہوگیا۔

فورتھ جنریشن وار فئیر
جدید دور کی جنگوں کو فورتھ جنریشن وار فیئر کا نام دیا گیا ہے۔ مختلف تحقیقی مقالوں میں لکھا گیا ہے کہ فورتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح سنہ 1989 کے بعد سے شروع ہوئی۔اس جنریشن کی جنگوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ رابرٹ بنکر نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ آج کل ایک فوج ایک آبادی والی جگہ پر حملہ کرتی ہے اور اس چال کو فورتھ جنریشن وار فیئر کا ایک اہم عنصر گردانا جاتا ہے۔لیکن دیگر مخلتف تحقیقی مقالوں میں جنگوں کے اس ماڈل پر بہت تنقید بھی سامنے آئی ہے اور بعض جنگوں کے اس ماڈل پر یقین ہی نہیں کرتے۔

’ففتھ جنریشن وار فئیر‘
مخلتف یونیورسٹیوں کے ریسرچ پیپرز پڑھ کر یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ماڈل ابھی ارتقائی دور سے گزر رہا ہے اور ابھی تک اس کو درست طور پر سکالرز کے سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔تاہم دنیا بھر میں بعض ادارے، باالخصوص ملٹری امور سے وابستہ ادارے اس قسم کی مختلف اصطلاحات استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر عرفان اشرف امریکہ کی ایلینائے یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی حاصل کر کے اب پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور ان کی دنیا بھر میں جنگی معاملات پر گہری نظر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وار فیئر ماڈل کو مختلف سلطنتوں نے ہمیشہ کسی جگہ میں مداخلت کے لیے بطور ایک ہتھیار استعمال کیا ہے۔

کیا پاکستان میں یہ جنگ ہو رہی ہے؟
جیسا کہ اب ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح کو استعمال کیا جاتا ہے جس کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی ‘اسٹیبلشمنٹ’ کسی جگہ پر اپنی طاقت اور اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے جواز بناتے ہیں۔’اس طرح کی اصطلاحات جیسا کہ جنریشن وار فیئر کا استعمال بظاہر جمہوریت اور سول حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کو پاکستان، ہندوستان، امریکہ اور دنیا بھر میں مختلف ریاستیں استعمال کرتی ہیں۔’پروفیسر ڈاکٹر عرفان اشرف نے کہا کہ اگر کشمیر ہی کو دیکھا جائے تو وہاں انڈیا اپنی فوج کی موجودگی کے لیے یہی جواز بناتا ہے کہ وہاں پر جنریشن وار فیئر لڑی جا رہی ہے جو کہ ان کے ملک کے لیے خطرے کا باعث ہے۔انھوں نے ففتھ جنریشن وار فیئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ جنریشن وار فیئر اصل میں جنگوں میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام ہے۔’میں اس بات پر بالکل یقین نہیں کرتا کہ پاکستان میں کسی قسم کی ففتھ جنریشن وار فیئر لڑی جا رہی ہے۔ یہ تو بڑے ممالک جیسا کہ امریکہ کسی جگہ میں مداخلت کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ہم اسی اصطلاح کو استعمال کرکے انہی کے بیانیے کو سپورٹ کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔’جب ان سے پوچھا گیا کہ میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا کو ففتھ جنریشن وار فیئر سے کیوں جوڑا جا رہا ہے تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ چونکہ سوشل میڈیا ہی ایک ذریعہ ہے جس کو دنیا بھر میں ‘ملٹرائزڈ آپریشن’ یعنی فوجی تسلط کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں سوشل میڈیا کو ففتھ جنریشن وار فیئر سے منسلک کیا جاتا ہے تاکہ غیر جمہوری قوتوں کو یہ جواز ملے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں پر کڑی نظر رکھ سکیں اور ان کے خلاف قوانین بنا سکیں۔انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی افواج اس کا استعمال کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہی بات ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں کہ سول حکومتیں اور جمہوریت کو ففتھ جنریشن وار فیئر سے خطرات لاحق ہیں اور اسی لیے فوجوں کو کسی بھی جگہ مداخلت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)