کامیابی کے لیے سوچ بدلیں

یمن میں بچے سکولوں سے نکل کر مزدوری کرنے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دوبارہ ملاقات آئندہ چند ہفتوں میں متوقع

شام: اسلحہ ڈپو پر بمباری سے 11 افراد ہلاک

وزیراعظم کی سی پیک کے تحت اقتصادی منصوبے تیز کرنے کی ہدایت

خطے میں ایران کا کردار مثبت اور تعمیری ہے: اقوام متحدہ

امریکی اتحادی جنگی طیاروں کی بمباری 20 جاں بحق

پرامن واپسی مارچ پر فائرنگ 43 فلسطینی زخمی

الحدیدہ پر سعودی اتحاد کے حملے میں یمنی شہریوں کا جانی نقصان

مغربی حلب میں شامی فوج نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کر دیا

گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کا مطالبہ

امریکہ کی ایران مخالف تجویز پر اردن کی مخالفت

افغان مفاہمتی عمل پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ پر وکیل کو کانگریس سے جھوٹ بولنے کی ہدایات دینے کا الزام

راحیل شریف کو سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے این او سی جاری

پولیس کا مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن، 10 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد

پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل ، خواجہ برادران کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا

ملٹری کورٹس فوج کی خواہش نہیں، ملک کی ضرورت ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت: صحافی کے قتل کے جرم میں مذہبی پیشوا کو عمر قید کی سزا

کسی کاباپ بھی پی ٹی آئی حکومت نہیں گراسکتا،فیصل واوڈا

ممتاز دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کے الیکٹرک کے نئے چیئرمین مقرر

نواز شریف کا لابنگ کےلئے قومی خزانے کے استعمال کا انکشاف ، وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا

فیس بک نے روس سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں اکاؤنٹس اور پیجز بند کردیے

شام میں داخلے کے لئے سرحدی علاقوں میں عراقی فورسز چوکس/ امریکی داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں!

’رزاق داؤدسےمجھے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں‘

وزیراعظم کی سی پیک پر کام تیز کرنے کی ہدایت

سوڈان: روٹی کی قیمت پر احتجاج میں شدید، مزید دو افراد ہلاک

کولمبیا میں کار بم دھماکہ، 90 ہلاک و زخمی

ٹرمپ کے حکم پرانتخابات میں دھاندلی کرنے کا اعتراف

آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا

برطانوی وزیر اعظم نئی مشکل سے دوچار

صوبائی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جسٹس مقبول باقر

امریکہ کو ایران کا انتباہ

بحرین میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال

سعودی فوجی ٹھکانے پر میزائلی حملہ

بطورچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک گھنٹے کے اندر پہلے مقدمے کا فیصلہ سنادیا

جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا

’’سندھ حکومت نہیں گرا رہے، خود گرنے والی ہے‘‘

کراچی میں پانی و سیوریج لائنیں ٹوٹنے پر سعید غنی برہم

کسی کو صوبوں کا حق چھیننے نہیں دیں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی

پریس ٹی وی کی اینکر کی عالمی سطح پررہائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا

آسٹریلین اوپن، جوکووچ نے تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنالی

زلمے خلیل زاد کی وزیر خارجہ سے ملاقات

پیغام پاکستان۔۔۔۔۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

’ہمارے اراکین پارلیمنٹ ای سی ایل میں نام آنے سے خوفزدہ کیوں؟‘

کراچی: رینجرز نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنادی

اماراتی فضائی کمپنی کا شام کےلیے فلائیٹ آپریشن بحال کرنے کا اشارہ

عمران خان 5 نہیں 10 سال نکالیں گے، سینیٹر فیصل جاوید

وزیراعظم کے ٹوئٹ پر مخالفت کرنےوالوں کووزیراطلاعات کاکراراجواب

وزیر اعلیٰ سندھ تعاون کریں تو زیادہ نوکریاں دے سکتا ہوں: آصف زرداری

مسجد الاقصی کے دفاع کا عزم

فرانس: یونیورسٹی کی عمارت میں دھماکا، 3 افراد زخمی

نیب میں موجود انگنت کیسز فیصلوں کے منتظر

اسرائیل میں سیکس کے بدلے جج بنانے کا سکینڈل

کانگو میں فسادات 890 افراد ہلاک

ایران مخالف اجلاس میں شرکت کرنے سے موگرینی کا انکار

عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

آخری دم تک انصاف کے لیے لڑوں گا، جسٹس آصف کھوسہ

سپرپاور بننے کا امریکی خواب چکنا چور : جواد ظریف

ایران کی سائنسی ترقی کا سفر جاری رہے گا: بہرام قاسمی

مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری : ندی نالوں میں طغیانی

یمن میں عالمی مبصرین کی تعیناتی کی منظوری

سعودی عرب کی مہربانی عمرہ زائرین پرایک اور ٹیکس عائد

شام میں 4 امریکی فوجیوں سمیت متعدد افراد ہلاک

کچھ ارکان اسمبلی ای سی ایل سےاتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟وزیراعظم عمران خان کا سوال

گلگت بلتستان اورآزاد کشمیرکی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: شیخ زید ہسپتال کا انتظام وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا عدالت میں آخری روز، اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس

امریکی صدرکےنمائندہ خصوصی زلمےخلیل زاد پاکستان پہنچ گئے

2019-01-06 15:23:23

کامیابی کے لیے سوچ بدلیں

1490121-sochx-1546692756-723-640x480

اگر ہم کامیابی و ناکامی کی اصل وجوہات کی تلاش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پس پردہ انسانی سوچ ہی ہے، جو انسان کو کامیاب و ناکام بناتی ہے۔ اگر آپ کاروباری شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کامیاب بزنس مینوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں، تو بادشاہوں والی سوچ پید اکرنا بے حد ضروری ہے۔ جس طرح فقیر ساری زندگی مانگنے والی سوچ سے باہر نکل کر کامیاب نہیں بن سکتا، اسی طرح بزنس مین اپنی بہترین سوچ و خیالات سے اپنے حالات بدل سکتا ہے؛ کیوں کہ انسان حالات کا نہیں، خیالات کی پیداوار ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں ایک جیسے دکھنے والے انسانوں میں کچھ غریب اور کچھ امیر کیوں ہوتے ہیں؟ اگر ساری دنیا کی دولت تمام انسانوں میں باہم تقسیم کردیں تو آپ دیکھیں گے کچھ دنوں میں پھر سے کچھ غریب اور کچھ امیر ہوں گے۔ اس لیے کہ انسان کے سوچنے کے طریقے مختلف ہیں۔ آج دنیا میں ایک دلچسپ موضوع یہ ہے کہ کیسے کچھ لوگ امیر ہو جاتے ہیں؟ وہ کیا عوامل ہیں جس سے لوگ ساری زندگی غریب رہتے ہیں؟

کاروباری اور پیسے کی دنیا میں آپ کو دو طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ ایک وہ جو غریبی سے امیری کے سفر میں بذات ِ خود کٹھن حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہتے ہیں اور اس سفر میں آنے والی پریشانیوں، مصیبتوں سے نہیں گھبراتے؛ بالآخر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنی ساری عمر ’’کمفرٹ زون‘‘ میں گزار دیتے ہیں۔ جب کامیابی ان سے ایک قدم دور ہوتی ہے، یہ چند دائروں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اگر ان دونوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو امیر اور غریب کا فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بہت سے کام ہیں جن سے امیری اور غریبی کے فرق کی پہچان کی جاسکتی ہے۔

آئیے! امیر غریب کی ان نشانیوں کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

امیر آدمی کی زندگی پلاننگ اور مقاصد سے بھرپور ہوتی ہے، وہ زندگی مقاصد کے حصول کے لیے گزارتا ہے۔ جبکہ غریب آدمی کی زندگی میں کوئی مقصد، کوئی وژن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ غریب آدمی زندگی کو نہیں بلکہ زندگی اسے گزار رہی ہوتی ہے۔ امیر آدمی اپنی زندگی خود تخلیق کرتا ہے۔ یہ اپنے کام سے محبت کرتا ہے، نئے آیڈیاز تلاش کرتا ہے، کتابیں پڑھتا ہے، امیر لوگوں سے ملتا ہے، ان کی عادتیں اپناتا ہے، ان سے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کمر کس لیتا ہے۔

امیر آدمی ہمیشہ کمفرٹ زون سے باہر نکل کھیلنے کا عادی ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ جلد آؤٹ ہوجانے سے بھی نہیں ڈرتا۔ یہ نئے کاروبار سیکھتا ہے اور خود پر نئی پروڈکٹ بنانے کی دھن سوار کرلیتا ہے۔ اس کے لیے یہ کسی بھی بڑی برانڈ سے منسلک ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ غریب آدمی جینے کے آسرے ڈھونڈتا ہے۔ یہ خواب تو دیکھتا ہے مگر یہ خواب بڑے نہیں ہوتے۔ غریب آدمی کی سوچ کا دائرہ محددو ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ہارجانے، ناکام ہو جانے اور رسک لینے سے خوف کھاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی کامیاب انسان نہیں گزرا، جس نے اول جست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہوں۔ کامیابی خطرات مول لینے کے بعد ملتی ہے۔

امیر آدمی اپنے وقت کا درست استعمال کرتا ہے۔ یہ اپنے دل دماغ میں بیٹھا دیتا ہے کہ دنیا مواقعوں کا بازار ہے۔ یہاں سے جتنا مال خرید سکتے ہو خرید لو۔ یہ موقعوں کے اس بازار میں کسی سے حسد نہیں کرتا بلکہ اپنے سے زیادہ کامیاب لوگوں کی محفلیں تلاش کرتا ہے اور ان میں جُڑ جاتا ہے۔ یہ امیر لوگوں سے تعلقات بناتا ہے اور امیروں کے اس بازار میں ہر دکان سے کچھ نا کچھ ضرور لیتا رہتا ہے۔ جب وہ بازار سے باہر آتا ہے تو اس کی کاروباری صلاحیتیں نکھری ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ اپنی زندگی میں بہتری کی رمق محسوس کرتا ہے، پھر یہ نئے راستوں پہ چل کر نئی منزلیں پا لیتا ہے۔

اس کے برعکس غریب آدمی موقعوں کے بازار سے خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے۔ یہ ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور انہیں بے کار سمجھتا ہے۔ یہ بھی امیر لوگوں کی طرح بازار تو جاتا ہے مگر حسد کی آگ میں جل کر خاکستر لوٹتا ہے۔ یہ اپنی ساری توانائیاں حسد کرنے میں ضائع کردیتا ہے۔ غریب آدمی کیوں کہ ایک مخصوص دائرے تک سیکھتا ہے، اس لیے یہ بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔

امیر آدمی کی کامیابی کا راز اس کے آس پاس کے متعلقین ہوتے ہیں۔ یہ خوش حال لوگوں سے دوستی کرتا ہے، سازگار ماحول میں رہتا ہے۔ امیر لوگ ایسے ماحول سے ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ جدوجہد کرنے، لڑنے، نہ گھبرانے، ہمت وحوصلے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے ماحول کے نتائج حیران کن ہوتے ہیں۔ یہ کامیاب سوچ کو جنم دیتے ہیں۔ پھر انسان محدود سوچ سے بھی کامیابی کی طرف رواں ہو جاتا ہے اور آسانیاں اس کے ہمدم چلتی رہتی ہیں۔ غریب لوگ کیوں کہ زندگی کا ابتدائی وقت کھیل کود ،سیر وتفریح، سونے اور غفلت میں گزار دیتے ہیں جس کی وجہ سے آنے والی زندگی کولہو کا بیل بن کر رہ جاتی ہے۔ غریب آدمی محنت تو کرتا ہے لیکن اس محنت کا ’’فیڈ بیک‘‘ اسے نہیں ملتا۔ ایسے میں اسے مایوسی گھیر لیتی ہے اور پھر یہ اس مایوسی کے جال میں جکڑ کر رہ جاتا ہے۔

امیر اور غریب آدمی میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ امیر آدمی پیسے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ پیسے سے پیسہ کماتا ہے، کچھ خرچ کرتا ہے، کچھ جمع کرتا ہے اور کچھ کاروبار میں لگا دیتا ہے۔ جب کہ غریب آدمی پیسہ خرچ کرنے کے لیے کماتا ہے۔ یہ پیسے کو ہاتھ کی مَیل سمجھ کر واقعی ہاتھ کی مَیل کی طرح جیب سے صاف کر دیتا ہے۔ یہ فضول خرچی کو بھی اپنی سخاوت ودریا دلی سمجھ کر خوش ہوتا ہے۔ نہ خریدنے والی اشیاء کو اسٹاک کرلیتا ہے۔ پھر ضروری چیزوں کے لیے پیسے کی محتاجی اسے کھا جاتی ہے۔ اسی وجہ سے غریب آدمی اپنی آمدن سے اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اس کے پاس اضافی بچت نہیں ہوتی۔

اگر آپ بھی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنی سوچ کو بدلیں۔ اپنی سوچ بدل لیں حالات اپنے آپ مڑ جائیں گے۔ پھر خیالات کا بدلنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

تبدیلی تو آئی ہے!

- ایکسپریس نیوز