ثاقب نثار صاحب آج کل کہاں ہیں؟

’بھارت پاکستان کو ورلڈ کپ میں شرکت سے نہیں روک سکتا‘

آہیں، چیخیں ، نالے اور بین – عامر حسینی

پاکستانی فوج کے دو اعلیٰ افسران جاسوسی کے الزامات میں گرفتار، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کورٹ مارشل

بحریہ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں شروع

کراچی: مبینہ مضر صحت کھانا کھانے سے 5 کمسن بہن بھائی جاں بحق

انتہا پسندوں کے حملوں کیخلاف کشمیری تاجروں کی ہڑتال

نظامِ سعودی سے بیزار دو خواتین اور فرار

امریکہ عالمی سطح پر تنہا ہو گیا، فرانس

خوان گوائیدو کو روس کا سخت انتباہ

امریکہ میں فائرنگ، بارہ ہلاک، درجنوں زخمی

ملک بھر میں سیلاب، طوفانی بارشوں سے 19 افراد جاں بحق

جنگ کی تیاری نہیں کررہے لیکن دفاع ہمارا حق ہے

بھارتی سپریم کورٹ کشمیریوں کے حق میں بول پڑا

سعودی مظالم عروج پر عورتیں اور بچے شہید

شاہد خاقان عباسی ہوئے سرفہرست عمران خان نےد ی دعوت

آغا سراج درانی کو سندھ اسمبلی پہنچا دیا گیا

بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے مطالبے سے دستبردار

کراچی میں ز ہریلےکھانے سے ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

پاکستان زہر اگلنے والا موساد کا ایجنٹ نکلا

فلسطنیی تنظیموں کا اہم مشترکہ اعلامیہ سامنے آگیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ، شور شرابا، نعرے بازی

چند غذائوں کے استعمال سے بالوں کا گرنا بند

سلامتی کونسل میں بھارت کو سبکی

’بھارت پانی روکتا بھی ہے تو پاکستان کو فرق پڑے گا‘

کیا شام میں ورزش کرنا نقصان دہ ہوتا ہے؟

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان: کچھ داؤ پر تو نہیں لگا؟

اسپیکرسندھ اسمبلی کی گرفتاری: احتساب ، سیاست یا صوبائی خود مختاری پر حملہ

جہاد النکاح کے بہانے میری زندگی برباد کردی گئی، داعشی لڑکی کے دل دہلانے والے انکشاف

’’بھارتی جارحیت کی صورت میں پاک فوج بھرپور جواب دے‘‘

بھارت سے کشیدگی پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

پاکستان کی فوج تیار ہے ! منہ توڑجواب ملے گا؟

بریگزٹ معاہدے میں پیش رفت؟ وقت بہت کم ہے

ایران نے ایک بار پھر دہشت گرد قرار دے دیا

سعودی شہزادے کے محل میں ملازمت کرنے والے پاکستانی کے حیرت انگیز انکشافات

چین ایران کا قابل اعتماد شریک ملک ہے، ڈاکٹر لاریجانی

سابق جج شوکت صدیقی کی درخواست پر اعتراضات ختم، سماعت کیلئے منظور

’میں بے نظیر بھٹو کا سپاہی ہوں، ڈرتا نہیں‘

اپوزیشن رہنمائوں کی پھانسی روکنے کا مطالبہ

بچوں سے متعلق خفیہ قوانین کاسنسنی خیز انکشاف

فوج کا نمازیوں پر حملہ

فوجی ٹھکانوںپر حملہ جب موت سامنے نظر آنے لگی

پاکستان کی جیلیں سیاستدانوں کے لئے بنی ہیں، خورشید شاہ

بنگلہ دیش: کیمیائی گودام میں آتشزدگی، 69 افراد ہلاک

جے پورکی جیل میں پاکستانی قیدی کا قتل قابل مذمت ہے‘ میرواعظ عمرفاروق

افغان امن عمل پر ریمارکس، پاکستانی سفیر افغان دفتر خارجہ طلب

’’نیب نے خواتین کو 6 گھنٹے حبس بیجا میں رکھا‘‘

گڈ گورننس کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اورتربیت ضروری ہے‘ اسد عمر

پلوامہ واقعہ اور کلبھوشن کیس، قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

بچوں پر مہلک تجربات کا انکشاف

ملکی معیشت 8 سال کی بدترین سطح پر

کرس گیل نے شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑ دیا

زبان پر چھالے؟

قبض سے نجات دلانے والی 10 غذائیں

پاکستان کے لیے حج کوٹہ بڑھا کر 2 لاکھ کردیا گیا

سعودیوں کی اس کرم فرمائی کے بدلے پاکستان کیا دے گا؟

پاک بھارت کشیدگی، پس پردہ سفارتکاری اور سعودی عرب کا کردار

حج کیوں مہنگا کیا، حکومت سے جواب طلب

جموں میں کرفیو کا چھٹا دن

’پہلے ان کا رونا تھا کیوں نکالا، اب ہے مجھے کیوں سنبھالا؟‘

سعودی فوج کے خلاف یمنی فوج اور عوامی فورس کے حملے

دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے امریکی اور اسرائیلی ہتھیار برآمد

اقوام متحدہ کی پاک-بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش

فرانس میں قبروں کی اجتماعی بے حرمتی پر یہودی سراپا احتجاج

’’سندھ حکومت نئی قانون سازی پر کام کر رہی ہے‘‘

’’نوازشریف کی انجیوگرافی کا فیصلہ فیملی کریگی‘‘

اسلام آباد: اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتار

دہشت گرد گروہ کیساتھ منسلک عناصر کی شناخت

سعودی ہتھیار یمنی فوج کے نشانے پر

میجر جنرل سید یحیی رحیم صفوی کا پاکستان کو مشورہ

امریکی فوجیوں نے ایسا ظلم کر دیا کہ دل لرز جائے

2019-02-09 21:22:18

ثاقب نثار صاحب آج کل کہاں ہیں؟

Saqib-Nisar1

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر 2 طاقتور ترین شخصیات سے راتوں رات تمام تر اختیارات واپس لے لیے جائیں تو وہ کیسا محسوس کریں گے؟

آرمی چیف اور چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کا معاملہ کچھ ایسا ہی تو ہے۔ دونوں بے دریغ و آزادانہ اختیارات رکھتے ہیں اور کسی کے آگے جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔ مگر جب یہ وردی اور کالا کوٹ اتارتے ہیں تو میڈیا کی توجہ کا محور نہیں رہتے اور ان کا دائرہ اقتدار صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ہوجاتا ہے۔

ہاں یہ حقیقت ہے کہ انہیں بڑی تعداد میں مراعات و فوائد کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے لیکن ان کی کامیابیاں، ان کی ہی طرح جلد ہی بھلا دی جاتی ہیں۔ ان میں سے چند نے عوام میں مقبول رہنے کے لیے سیاسی جماعتیں تشکیل دی ہیں۔ چند ہی دوستوں کو جنرل اسلم بیگ کی تھنک ٹینک کا علم ہوگا۔ بھلا ان کی قیادت پارٹی کس کس کو یاد ہے؟ کچھ ایسا ہی معاملہ افتخار چوہدری کی پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی ہے، جس کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ اس کے کل ممبران ایک ہی ٹانگے میں آجائیں گے۔

ثاقب نثار ایگزیکیٹو دائرہ اختیار کے تقریباً ہر ایک پہلو میں غیر معمولی مداخلتوں سے بھرپور مدت پوری کرنے کے بعد عدالتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایک عام آدمی کی طرح وہ کس طرح طاقت سے عاری شب و روز گزاریں گے۔

ان کی یہ بات تو ریکارڈ پر موجود ہے کہ وہ مہمند ڈیم پر لائے جانے والے متوقع تعمیراتی ساز و سامان کی ٹینٹ لگا کر چوکیداری کریں گے۔ تاہم اس منصوبے میں تھوڑا سا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ابھی تک 1 ہزار ارب روپے کے تخمینے کے مقابلے میں محض 9 ارب روپے کا کُل عطیہ جمع ہوسکا ہے۔ اب اگر یہ رفتار جاری رہی تو بھلے ہی ہر گزرتے سال کے ساتھ ڈیم کی قیمت نہ بڑھائی جائے تب بھی ساز و سامان خریدنے میں 100 برس لگ جائیں گے۔ لہٰذا انہیں فی الوقت ٹینٹ کا سامان باندھنے کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حالیہ چند سالوں سے احتساب پر بات چیت کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر پیسے بنانے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں، گرفتار کیا گیا ہے اور جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ تاہم اُن جنرلوں کا کیا جنہوں نے بے پناہ خون اور خزانے کی قیمت پر ہمیں بے معنی جنگوں میں کھینچا؟ یا ان ججز کا کیا جنہوں نے خسارہ کا سامنا کرتے سرکاری اداروں کی نجکاری میں رکاوٹ پیدا کی، جس کے باعث رواں سبسیڈیز کی ادائیگی کے لیے ٹیکس دہندگان سے کھربوں روپے اگلوائے گئے؟

مجھے امید ہے کہ ثاقب نثار نے کوئی مشغلہ اختیار کرلیا ہوگا، کیونکہ ایک طاقتور عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد حقیقی زندگی میں منتقلی کا عمل کوئی بہت ہی کٹھن ہوتا ہے۔ وہ ان سرخیوں کو پھر سے پڑھ سکتے ہیں جنہیں انہوں نے سو موٹو مداخلتیں کر کرکے اخباروں کی زینت بنایا تھا۔ ڈیم منصوبے کے علاوہ انہوں نے ہسپتالوں کے دورے کیے اور نجی اسکولوں کے مالکان کو کھری کھری بھی سنائی۔ اس کاموں کے درمیان انہوں نے بوتل بند پانی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ایک سابق وزیرِاعظم کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں سپریم کورٹ کو دھکیلا۔ تو جب یہ ریٹائرڈ ہوئے تو حزبِ اختلاف کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے سکھ کا سانس لیا جس کا اندازہ مجھے سری لنکا میں بیٹھے ہونے کے باوجود بھی ہوا۔

یہ تو واضح ہے کہ ثاقب نثار نیّت کے بالکل صاف ہیں، آخر کون نہیں چاہے گا کہ ان کے بچے صاف پانی پئیں؟ یا پھر یہ کہ پولیس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کرے؟ درحقیقت زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے زندگی ہی بنیادی حقوق کی ایک طویل خلاف ورزی کی طرح ہے۔

تاہم صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بلاشبہ ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے نہ کہ انہیں کمزور بنانا۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (پی آئی اے) کے لوگو سے لے کر دودھ کے معیار تک کے تمام تر معاملات پر حقائق سے نامکمل آگاہ فیصلوں اور احکامات جاری کرکے ایگزیکیٹو کو تو جیسے کنارے سے لگا دیا۔ جن ماہرینِ تعلیم اور سول سرونٹس پر ٹی وی ٹاک شو پر الزام لگائے گئے تو نیب کو انہیں فی الفور حراست میں لینے بھیج دیا۔

یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ ہماری بیورو کریسی نااہل اور کافی حد تک کرپٹ ہے۔ مگر کارہائے نظام کے بارے میں کم علمی کے ساتھ حکومتی محکمہءِ جات کی مائیکرو منیجنگ کسی مصیبت کو دعوت دینے سے کم نہیں۔ انتظام کاری کے لیے اس قسم کے جبری طریقہ کار سے دُور رس حل برآمد نہیں ہوئے ہیں البتہ اس سے کیریئرز تباہ ہوئے ہیں اور ہمارے سیاسی منظرنامے میں خوف طاری ہوا ہے۔

تاہم میرا اس غیر معمولی حد تک فعال ایکٹی وزم پر اعتراض یہ ہے کہ ان حرکتوں کی وجہ سے ان کا عدالتی نظام کے کاموں کی نگرانی کرنے کے اپنے بنیادی فریضے سے دھیان ہٹ گیا۔ وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ذیلی عدالتوں کے کام کرنے کے انداز میں کوئی بہتری نہ لاسکے، جہاں تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔

جج صاحبان روٹین کے ساتھ ایک دن میں درجنوں کیسوں کی سماعت کرتے ہیں، اور ان کی عدالتیں ایسے مقدمات میں شامل وکلا، گواہان اور مدعیان سے بھری ہوتی ہیں جنہیں ملتوی ہی ہونا ہوتا ہے۔ یوں عدالتی فیصلوں میں ایک پوری نسل جتنا وقت لگ سکتا ہے۔

درجنوں برس قبل جب پاکستانی طالبان نے سوات پر قبضہ کیا تو ابتدائی طور پر ان کا خیر مقدم کیا گیا کیونکہ انہوں نے تیز انصاف فراہم کیا، لیکن انصاف کی فوری فراہمی کا یہ اعزاز ہماری عدالتوں کو کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکا۔ بلکہ اکثر و بیشتر لوگ تو عدالتی نظام کے شکار بننے کے خوف سے آنکھوں کے سامنے ہونے والے جرم کی گواہی دینے سے بھی انکار کردیتے ہیں اور اگر وہ سماعت پر حاضر نہ ہوں تو پھر ان پر توہینِ عدالت کا الزائم عائد کردیا جاتا ہے۔

یہ ہے ہماری ذیلی عدلیہ کی حقیقت جبکہ اعلیٰ عدالتوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ اگر ثاقب نثار اپنی کوئی دیرپا لیگیسی چھوڑنا چاہتے تو انہیں اس ٹوٹے پھوٹے نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ مگر انہوں نے مقبولیت کی وجہ بننے والے کام کیے اور نتیجتاً ہم سب بدتر حالات سے دوچار ہیں۔


یہ مضمون 9 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
ٹیگز:   ثاقب نثار ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)