پاکستان بھارت کشیدگی، ایک جائزہ

سانحہ ساہیوال کی فرانزک رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

مفتی تقی عثمانی پہ حملہ کیا بلاول بھٹو کو تنبیہ ہے؟ عامر حسینی

انسان کا تخلیق کردہ دنیا میں سب سے بڑا کیا؟

بحریہ ٹاؤن سے ملنے والی رقم کہاں جائے گی؟

استقامت کا پانچواں سال بڑی کامیابی کا سال ہو گا، یمن کے وزیر دفاع

حزب اللہ ہماری حکومت کا حصہ، لبنانی حکام

اسپین: طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ انتخابات میں حصہ لیں گے

افغانستان: لشکر گاہ میں 2 بم دھماکے، 4 ہلاک، 30 زخمی

مقبوضہ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بے دریغ‌ فائرنگ، 2 فلسطینی نوجوان شہید

نواز شریف سے مریم نواز اور ذاتی معالج کی ملاقات

کراچی میں ایک اور ماتمی عزادار وجاہت عباس کو شہید کردیا گیا

دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے 10 انتہا پسند گرفتار

مولانا تقی عثمانی حملہ کیس میں کچھ اشارے ملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں؟آئی جی سندھ

آپ بھی پاکستان ہیں میں بھی پاکستان ہوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

شامی فورسز نے داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ کر دیا

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری

وزیراعلیٰ سندھ کی مفتی تقی عثمانی کے گھر آمد

23 مارچ: مملکتِ خداداد کی قرار داد کی منظوری کا دن

چین، کیمیکل پلانٹ میں دھماکا، ہلاکتیں 64 ہوگئیں

وزیراعظم ملائیشیا دورہ ٔپاکستان مکمل کرکے واپس روانہ

نشان ِحیدر ؑبہادروں کا اعزاز

عراق: کشتی پلٹنے کے واقعے میں 207 افراد جاں بحق و لاپتہ ہوئے

فرقہ واریت کے الزام میں اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کردی گئیں

یوم پاکستان: مسلح افواج کی شاندار پریڈ، غیرملکی دستوں کی بھی شرکت

مفتی تقی عثمانی پر حملہ پاکستان کا امن برباد کرنے کی ملک دشمنوں کی سازش ہے، علامہ راجہ ناصرعباس /علامہ احمد اقبال

بھاڑ میں جاؤ،تم اور تمہارا بیانیہ ،بلاول بھٹو

مفتی تقی عثمانی پرحملہ سازش ہے، وزیر اعظم

مفتی تقی پر حملہ کرنے والوں کو پکڑا جائے، آصف زرداری

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

کیا مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

وہ دیکھو پروفیسر کی لاش پڑی ہے ۔ عامر حسینی

فاضل عبد اللہ یہودا: مسجد اقصی کا جاسوس امام

دوسروں کو نصحیت اور خود میاں فضحیت – عامر حسینی

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

امریکی صدر کا جلد پاکستانی قیادت سے ملاقات کا عندیہ

مغربی اور امریکی سیاستدان حقیقت میں وحشی ہیں، رہبر انقلاب اسلامی

پی پی پی قیادت کے بعد نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا

نوجوان انگلش کرکٹر نے 25گیندوں پر سنچری اسکور کردی

سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینے کے فوائد

بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں کو بنادیاگیا،وزیراعظم عمران خان نے کھری کھری سنادیں

کرائسٹ چرچ، نعیم راشد اور بیٹے کی میت ورثاء کے حوالے

سیلاب متاثرین کوہاوسنگ اسکیم کے نام پر دھوکہ

ادرک بالوں کیلئے مفید کیسے؟

امریکیوں کے ہاتھوں شہریوں کا قتل عام

چین کے کیمیائی پلانٹ میں دھماکا، 47افراد ہلاک

چیف جسٹس نے اسد منیر خودکشی معاملے کا نوٹس لے لیا

وزیر اعظم ملائیشیا کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب

نیوزی لینڈ کی فضا اللہُ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے پر 3 روزہ سوگ

بحریہ ٹاؤن کی پیشکش عدالت میں منظور، اوورسیز پاکستانی خوشی سے نہال

پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے سے تقریباً 100افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کی ادائیگی، جسینڈا آرڈرن اشکبار

’ہم نیب پر اس سے بھی زیادہ دباؤ بڑھائیں گے‘

ملزمان کا تعلق مودی سرکار سے ہونے کی وجہ سے رہا کیا گیا‘فاروق عبداللہ

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، درجنوں مہاجرین ہلاک

وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کی ہم منصب کو فون

اسرائیل اور امریکا کا ایرانی ’جارحیت‘ کا مقابلہ کرنے کا عزم

اٹلی میں ڈرائیور نے بچوں سے بھری اسکول وین کو آگ لگا دی

افغانستان میں صدارتی انتخابات ایک بار پھرملتوی

ملائیشین کمپنی پروٹان پاکستان میں کار فیکٹری لگائےگی

کٹھ پتلیوں کا عالمی دن، بلاول کی وزیراعظم کو مبارکباد

آغا سراج کے ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع

نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی

ڈیرہ اسماعیل خان ، سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم لشکر جھنگوی کےخودکش بمبار سمیت 2 دہشتگرد گرفتار

امریکا جنگی جرائم کا مرتکب ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

کابل میں دھماکا،25 شیعہ مومنین شہید

بھارتی سیکیورٹی اہلکار نے اپنے ہی 3 ساتھیوں کو قتل کردیا

ایک رسوائی، کئی ہرجائی

2019-03-07 14:40:42

پاکستان بھارت کشیدگی، ایک جائزہ

98

شفقنا اردو:تحریر : عرفان علی

بھارت نے پاکستان میں دراندازی کی اور اسکو پلوامہ حملے کا ردعمل اور انسداد دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔ پاکستان نے بھارت کی دوسری دراندازی پر اس کے دو طیارے مار گرائے۔ اس صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ اس لڑائی سے فریقین نے کیا حاصل کیا اور کیا گنوایا ہے؟ یقیناً اس صورتحال میں بظاہر بھارت کا پلڑہ بھاری نظر آتا ہے، کیونکہ پلوامہ میں بھارت کی ریزرو پولیس پر حملے کو سبھی نے دہشت گردی قرار دیا، حالانکہ یہ علاقہ کشمیر کا حصہ ہے، جسے پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور دیگر ممالک بھارت کے زیر انتظام کشمیر کہتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت قابض ہے اور کشمیری آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارتی تسلط و مظالم کے ردعمل میں انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل اور ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی کے دفتر نے پلوامہ حملے کی شدید مذمت کی۔ سکیورٹی کاؤنسل میں پاکستان کا دوست ملک چین بھی مستقل رکن ہے۔ یاد رہے کہ پلوامہ میں حملہ 14 فروری 2019ء کو ہوا، لیکن سکیورٹی کاؤنسل کا مذمتی بیان 21 فروری کو جاری کیا گیا تھا، جبکہ اسی سکیورٹی کاؤنسل نے ایران میں زاہدان خاش روڈ پر پاسداران انقلاب اسلامی کی بس پر خودکش حملے کی مذمت اگلے ہی دن یعنی 14 فروری کو ہی کر دی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کے دس غیر مستقل اراکین میں دو مسلمان ملک انڈونیشیاء اور کویت بھی شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ملکوں کے میڈیا نے اس پر اپنے اپنے ملکوں کی کامیابی کے پہلو کو نمایاں کیا۔ پاکستانی میڈیا کی خبروں کے مطابق بھارت اس مذمتی بیان میں پاکستان کا نام شامل کروانا چاہتا تھا، لیکن اس میں اسے ناکامی ہوئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یو این ایس سی کے مذمتی بیان میں جیش محمد کا پلوامہ حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا تذکرہ شامل ہے اور چین سمیت سکیورٹی کاؤنسل کے سبھی اراکین کی جانب سے مشترکہ بیان چین کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا نے بھی پلوامہ حملے کی شدید مذمت کی۔ ایک طویل عرصے سے پاکستان ان تین ملکوں کا ساتھ دیتا آیا ہے، لیکن ان تین کا واضح جھکاؤ بھارت کی طرف رہا ہے اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ہے، بس فرق یہ ہے کہ آج کے دور میں معلومات تک رسائی ماضی کی نسبت آسان ہے، اس لئے غیر جانبدار عام پاکستانی حیران و پریشان ہیں۔

پلوامہ حملے کی مذمت میں سکیورٹی کاؤنسل کو ایک ہفتہ لگ گیا، اس کی وجہ بھی شاید یہی رہی ہوگی کہ چین کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے میں بھارت اور اس کے دوستوں کو اتنا وقت لگ گیا ہوگا۔ ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ یا جی سی سی کے مذکورہ ممالک نے بھارت کے ساتھ اظہار ہمدردی اور پلوامہ حملے کی مذمت پر مبنی جو بیانات جاری کئے ہیں، اس میں پلوامہ اور کشمیر کو مقبوضہ یا متنازعہ نہیں لکھا ہے۔ یعنی ان بیانات میں بھارت کی خوشنودی کو مدنظر رکھا گیا۔ اس طرح بھارتی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر ماحول کو اپنے حق میں سازگار کر لیا اور 26 فروری کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے جابہ (بالا کوٹ) تک بھارتی فضائیہ کے فوجی طیارے گھس آئے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے جیسے ہی اڑان بھری، بھارتی طیارے فرار ہوگئے اور جاتے جاتے پے لوڈ گرا گئے۔ بھارتی، اسرائیلی اور مغربی ذرایع ابلاغ کے مطابق بھارت نے اسرائیلی ساختہ گائیڈڈ بم استعمال کئے۔

بھارت نے پاکستان کی جغرافیائی حدود، آزادی و خود مختاری کی خلاف ورزی کی، جو کہ انٹرنیشنل لاء کی رو سے ممنوع اور قابل مذمت قدم تھا، لیکن اقوام متحدہ، امریکا و سعودی عرب سمیت کسی ملک نے بھارتی دراندازی کی مذمت کرنے کا تکلف کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ بس پوری دنیا بیک وقت ایک مطالبہ کر رہی تھی۔۔ تحمل، تحمل! بھارت اپنے دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا، لیکن پاکستانیوں کو اس حقیقت کا ادراک ہوگیا کہ ان کے مادر وطن میں بھارتی طیارے گھسے تھے۔ بھارت پوری دنیا میں پاکستان کا تمسخر اڑا رہا تھا، پاکستان کی سبکی ہوئی تھی۔ اس لئے پوری قوم کی جائز خواہش کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلے دن یعنی 27 فروری کو پاکستان نے دن کی روشنی میں بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرانے کی خبر دنیا کو سنائی۔ ابھی نندن نامی بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا، لیکن بعد ازاں اسے بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ طیارے پاکستان کی ٖفضائی حدود میں گرائے گئے تھے۔ یوں پاکستان نے اپنی ریڈ لائن پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کا پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا لب و لہجہ انتہائی غیر مہذبانہ و اشتعال انگیزی پر مبنی ہونے کے باوجود پاکستان نے نہ صرف ردعمل کو محدود رکھا بلکہ جنگجویانہ بڑھک یا ڈینگ مارنے سے بھی گریز کیا۔

پلوامہ حملے کے بعد سے انٹرنیشنل کمیونٹی اور عالمی رائے عامہ واضح طور پر بھارت سے ہمدردی جتاتی رہی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شاہ و شیوخ حکمران سے متعلق خبریں آتی رہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت تناؤ میں کمی کے لئے دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور پھر بھارت کے این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر یکم مارچ 2019ء کو خبر آئی کہ کیسے امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرنے پر مجبور کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھارت کی دراندازی کو انسداد دہشت گردی پر مبنی قدم قرار دیا، انہوں نے بھارتی حکام کی پیٹھ تھپکی اور پاکستانی حکام کو ڈکٹیشن دی کہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ان تینوں ملکوں نے بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کی مذمت نہیں کی، بلکہ متحدہ عرب امارات نے میزبان ملک کی حیثیت سے اسلامی ممالک کی بین الاقوامی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کاؤنسل کے 46ویں اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کیا۔ پاکستان نے اس کی مخالفت کی، اعتراض اور احتجاج کیا، لیکن او آئی سی کے بانی رکن ملک پاکستان کی ایک نہ سنی گئی اور بھارت جو کہ او آئی سی کا نہ تو رکن ہے اور نہ ہی آبزرور، اس کی وزیر خارجہ کی گیسٹ آف آنر کی حیثیت سے افتتاحی سیشن میں خوب آؤ بھگت کی گئی، انہیں خطاب کا موقع دیا گیا۔

او آئی سی اجلاس کے افتتاحی سیشن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے احتجاج ریکارڈ کرانے کی نیت سے شرکت نہیں کی، البتہ دفتر خارجہ کے دیگر حکام نے شرکت کی۔ او آئی سی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یکم مارچ کے اجلاس کی جو تصاویر نشر کی گئیں ہیں، ان میں پاکستان کا نمائندہ بھی دکھایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے یکم مارچ کو بھی بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر جو 50 نکاتی ابوظھبی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، اس میں کہیں بھی بھارت کی پاکستان میں دراندازی کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ اجلاس میں جو قراردادیں کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے منظور کی گئیں، وہ پاکستان کی پیش کردہ تھیں (یعنی کسی اور ملک نے خود سے کشمیر کو یاد نہیں رکھا)۔ یہ بھی یاد رہے کہ او آئی سی کے فورم پر بھی کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں کہا جاتا۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے او آئی سی کے ٹوئٹر بیان کی خبر جاری کی تھی کہ او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے 26 فروری کو بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر ردعمل میں بانی رکن ملک کے خلاف اس ایکشن کی مذمت کی ہے، جبکہ معاملہ لائن آف کنٹرول سے بھی آگے یعنی انٹرنیشنل بارڈر کی خلاف ورزی کا تھا، اسکا کہیں تذکرہ ہی نہیں کیا گیا۔

یہاں تک جو نکات بیان ہوئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنے عمل سے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ وہ پاکستان کی خاطر بھارت کو نہ صرف یہ کہ چھوڑ نہیں سکتے بلکہ بھارت کی خوشنودی کے لئے پاکستان کو بھارت کے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے ایک وسیع حلقے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ حکمران بھارت کے حق میں دی گئی امریکی، سعودی و اماراتی ڈکٹیشن کو پاکستانیوں سے چھپا رہے ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہے کہ کارگل جنگ سبھی کو یاد ہے کہ آغاز میں مسلح گروہوں کی کارروائی تھی، لیکن بعد ازاں دو ملکوں کی جنگ میں تبدیل ہوگئی تھی۔ مئی تا جولائی 1999ء کی کارگل جنگ میں بھی ایک بھارتی فوجی پائلٹ کمبم پتی نچیکیتا پاکستان نے گرفتار کرلیا تھا۔

اس وقت آج سے زیادہ نازک صورتحال تھی۔ پاکستان پر امریکی پابندیاں نافذ تھیں، اس وقت پاکستان کا اقتصادی بحران آج سے زیادہ شدید تھا جبکہ سویلین ملٹری قیادت کے تعلقات میں بھی آج کی سی ہم آہنگی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وزیراعظم نواز شریف کی نون لیگی حکومت کے دور میں وہ 27 مئی 1999ء کو جنگی قیدی کی حیثیت سے گرفتار کیا گیا تھا اور جنیوا کنونشن کے تحت 3 جون 1999ء کو اسے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ 27 فروری کو ایک پائلٹ ابھی نندن پکڑا گیا اور صرف دو راتیں پاکستان کی تحویل میں گذارنے کے بعد تیسری رات یعنی یکم مارچ کو براہ راست بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ فرق ہے نواز حکومت اور عمران حکومت کے مابین۔ کارگل جنگ کو ختم کروانے میں امریکا سے رجوع کیا گیا تھا۔

بلاشبہ پاکستان ایک دفاعی محاذ پرکامیاب ہوا ہے، لیکن تاحال پاکستان بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے اور دنیا بھارت کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ بھارت نے پلوامہ حملے سے متعلق دستاویزات کا جو مجموعہ بھیجا ہے، اس میں کالعدم جیش محمد کے بعض افراد کے نام شامل ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ پاکستان حکومت ایسے افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، جو بھارت کی نظر میں دہشت گرد ہیں اور ان میں سے بعض پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا بھی اطلاق ہوتا ہے، جیسے کہ حافظ سعید اور ان سے منسوب جماعتیں یا تنظیمیں۔ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی اور بیٹے کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ مذکورہ تنظیموں کے مدارس، مساجد و دفاتر کو یا سیل کیا جا رہا ہے یا حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

ادھر فائنانشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال کر بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یک نہ شد دو شد۔ محکمہ مالیات کے سیکرٹری عارف احمد خان نے ٹاسک فورس کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی سفارشات پر ان کی مرضی کے مطابق عمل نہیں کیا گیا تو بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف امریکا اور بھارت کا ساتھ دیا تھا، ورنہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں نہ آتا۔ پاکستان میں بھی رائے عامہ مسلح تنظیموں کے خلاف ہے، کیونکہ پاکستان کے آئین کی شق 256 کے تحت کوئی بھی نجی مسلح تنظیم ممنوع ہے۔ بیرونی دباؤ نہ بھی ہو تب بھی ریاستی اداروں کو آئین پاکستان پر عمل کرنا چاہیئے اور اس بات پر قومی اتفاق رائے ہے کہ دہشت گردی و انتہاء پسندی پاکستان کے لئے سب سے بڑا اندرونی خطرہ ہے۔

بھارت کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی جوہری تبدیلی امریکا، سعودی عرب، متحدہ امارات لاسکیں گے، اسکے امکانات کم ہیں، لیکن اگر چین کی جانب سے بھی بعض پاکستانی تنظیموں اور قائدین کے حوالے سے بھارت کے موقف کی تائید کر دی گئی تو تبدیلی کے امکانات زیادہ ہو جائیں گے۔ کشمیر کا تنازعہ نہ ہوتا تو مسلح گروہوں کی پیدائش ممکن نہ تھی۔ البتہ مسلح تنظیموں نے بھارت کا اتنا نقصان نہیں کیا، جتنا پاکستانی مسلمانوں کا کیا ہے اور مسلح گروہوں نے ہی تکفیری و متشدد انتہاء پسندی کا سرطان پھیلایا ہے۔ اس لئے انکی مین اسٹریمنگ کی بجائے ان کا خاتمہ پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے۔ اب تک کی صورتحال پر جو کہا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ بھارت نے چند اہلکاروں اور دو فوجی طیاروں کا نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ پاکستان نے پلوامہ حملے کی مذمت نہیں کی، لیکن پوری دنیا نے اسے دہشت گردی قرار دے کر مذمت کرکے پاکستان کو اس محاذ پر تنہا کر دیا۔

ایسا کہنے اور کرنے والوں میں وہ بھی ہیں، جن کو عمران خان ڈرائیور بن کر ایوان وزیراعظم لائے اور وہاں مہمان بناکر خوب خدمت چاکری کی، اس کے باوجود پاکستان میں بھارتی دراندازی کی مذمت انہوں نے بھی نہیں کی۔ سو سنار کی ایک لوہار کی، یہ مقولہ آپ نے سنا ہوگا۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جو کیا ہے، وہ کچھ ایسا ہی ہے، کیونکہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں کم سے کم ایک کامیابی ایسی حاصل کی ہے، جس کی بنیاد پر بھارت دنیا بھر کی حمایت کے باوجود اس کھیل کو مکمل طور جیت نہیں پایا۔ وہ کامیابی یہ ہے کہ بھارت کا دنیا بھر میں جو بھرم تھا کہ وہ جنوبی ایشیاء ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی بڑی طاقت ہے، وہ پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑی فوجی طاقت ہے، دن کی روشنی میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اس کے جو دو فوجی طیارے پاکستان نے گرائے اور پائلٹ کو جنگی قیدی بنا لیا، مطلب یہ کہ شری نریندرا مودی نے بھارت کے اس بھرم کو اپنی حماقت اور بچگانہ پن سے لمحوں میں ختم کرکے رکھ دیا۔

حضور، کہاں بھارت، کہاں پاکستان! مودی اتنے اتاؤلے نہ ہوتے تو بھارت کی فوجی بالادستی کا تاثر ملیا میٹ نہ ہوتا۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک، اقتصادی لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک، فوجی لحاظ سے امریکا، روس اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا ملک بھارت! جبکہ پاکستان اقتصادی رینکنگ میں 107واں نمبر، آبادی میں چھٹا نمبر، اور فوجی لحاظ سے 17واں نمبر۔ پوری دنیا کا مطالبہ تحمل تحمل بظاہر دونوں ملکوں کے لئے تھا، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ انکی طرف سے دباؤ پاکستان پر تھا کہ وہ ردعمل نہ کرے۔ عالمی برادری کا دباؤ اور ہر لحاظ سے بھارت کی مستحکم حیثیت بھی پاکستان کو محدود مگر دور رس اثرات کے حامل دفاعی حملے کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹاسکے۔ بھارت نے جو ’’نیو نارمل‘‘ کی اصطلاح وضع کرلی تھی، بھارت نے خوابوں اور خیالوں میں جو نئی لائن آف کنٹرول بنالی تھی، پاکستان کا ردعمل اسے پھر سے حقیقت کی دنیا میں لے آیا ہے۔

البتہ مودی کی حماقتوں کے بعد بھی، ان تمام تر شکایتوں کے باوجود پاکستان اس خطے میں امن کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم مصمم رکھتا ہے۔ یہ بھارت ہے جس نے خواجہ اجمیر شریف کی درگاہ کے زائرین کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے اور یہ پاکستان ہے جس نے بھارت کے ہندو اور سکھ یاتریوں کو پاکستان میں مندر اور گوردرواروں پر آنے سے کبھی منع نہیں کیا۔ سمجھوتہ ایکسپریس، دوستی بس سروس، یہ سبھی کچھ اچھے تعلقات کی خواہش کا عملی ثبوت ہیں۔ بھارت نے پاکستان سے تجارتی در آمدات پر دو سو فیصد ڈیوٹی لگا دی ہے، مگر پاکستان نے تاجروں کے دباؤ کے باوجود بھارت کی اس ناانصافی کا برابر کا جواب نہیں دیا ہے۔ گو کہ ابھی نندن کو اتنی جلد رہا کرنے پر پاکستانی ناراض ہیں، لیکن مجموعی طور پر پاکستان نے شری نریندرا مودی کے بھارت کو بہت ہی سوبر انداز میں جواب دے کر بین الاقوامی تعلقات کی جدید تاریخ میں ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے۔ یہ الگ بات کہ او آئی سی نے بھی بھارت کو بانی ملک پاکستان پر ترجیح دے کر اسلامی دنیا کے آپسی تعلقات میں (بھونڈی ہی سہی) لیکن ایک نئی مثال قائم کی ہے!

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، دنیا ،
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

سوشل میڈیا کی زندگی

- ایکسپریس نیوز

بیمار ہوں، نہیں ہوں!

- ایکسپریس نیوز