عزت چاہیے یا ذلت؟

سانحہ ساہیوال کی فرانزک رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

مفتی تقی عثمانی پہ حملہ کیا بلاول بھٹو کو تنبیہ ہے؟ عامر حسینی

انسان کا تخلیق کردہ دنیا میں سب سے بڑا کیا؟

بحریہ ٹاؤن سے ملنے والی رقم کہاں جائے گی؟

استقامت کا پانچواں سال بڑی کامیابی کا سال ہو گا، یمن کے وزیر دفاع

حزب اللہ ہماری حکومت کا حصہ، لبنانی حکام

اسپین: طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ انتخابات میں حصہ لیں گے

افغانستان: لشکر گاہ میں 2 بم دھماکے، 4 ہلاک، 30 زخمی

مقبوضہ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بے دریغ‌ فائرنگ، 2 فلسطینی نوجوان شہید

نواز شریف سے مریم نواز اور ذاتی معالج کی ملاقات

کراچی میں ایک اور ماتمی عزادار وجاہت عباس کو شہید کردیا گیا

دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے 10 انتہا پسند گرفتار

مولانا تقی عثمانی حملہ کیس میں کچھ اشارے ملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں؟آئی جی سندھ

آپ بھی پاکستان ہیں میں بھی پاکستان ہوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

شامی فورسز نے داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ کر دیا

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری

وزیراعلیٰ سندھ کی مفتی تقی عثمانی کے گھر آمد

23 مارچ: مملکتِ خداداد کی قرار داد کی منظوری کا دن

چین، کیمیکل پلانٹ میں دھماکا، ہلاکتیں 64 ہوگئیں

وزیراعظم ملائیشیا دورہ ٔپاکستان مکمل کرکے واپس روانہ

نشان ِحیدر ؑبہادروں کا اعزاز

عراق: کشتی پلٹنے کے واقعے میں 207 افراد جاں بحق و لاپتہ ہوئے

فرقہ واریت کے الزام میں اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کردی گئیں

یوم پاکستان: مسلح افواج کی شاندار پریڈ، غیرملکی دستوں کی بھی شرکت

مفتی تقی عثمانی پر حملہ پاکستان کا امن برباد کرنے کی ملک دشمنوں کی سازش ہے، علامہ راجہ ناصرعباس /علامہ احمد اقبال

بھاڑ میں جاؤ،تم اور تمہارا بیانیہ ،بلاول بھٹو

مفتی تقی عثمانی پرحملہ سازش ہے، وزیر اعظم

مفتی تقی پر حملہ کرنے والوں کو پکڑا جائے، آصف زرداری

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

کیا مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

وہ دیکھو پروفیسر کی لاش پڑی ہے ۔ عامر حسینی

فاضل عبد اللہ یہودا: مسجد اقصی کا جاسوس امام

دوسروں کو نصحیت اور خود میاں فضحیت – عامر حسینی

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

امریکی صدر کا جلد پاکستانی قیادت سے ملاقات کا عندیہ

مغربی اور امریکی سیاستدان حقیقت میں وحشی ہیں، رہبر انقلاب اسلامی

پی پی پی قیادت کے بعد نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا

نوجوان انگلش کرکٹر نے 25گیندوں پر سنچری اسکور کردی

سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینے کے فوائد

بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں کو بنادیاگیا،وزیراعظم عمران خان نے کھری کھری سنادیں

کرائسٹ چرچ، نعیم راشد اور بیٹے کی میت ورثاء کے حوالے

سیلاب متاثرین کوہاوسنگ اسکیم کے نام پر دھوکہ

ادرک بالوں کیلئے مفید کیسے؟

امریکیوں کے ہاتھوں شہریوں کا قتل عام

چین کے کیمیائی پلانٹ میں دھماکا، 47افراد ہلاک

چیف جسٹس نے اسد منیر خودکشی معاملے کا نوٹس لے لیا

وزیر اعظم ملائیشیا کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب

نیوزی لینڈ کی فضا اللہُ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے پر 3 روزہ سوگ

بحریہ ٹاؤن کی پیشکش عدالت میں منظور، اوورسیز پاکستانی خوشی سے نہال

پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے سے تقریباً 100افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کی ادائیگی، جسینڈا آرڈرن اشکبار

’ہم نیب پر اس سے بھی زیادہ دباؤ بڑھائیں گے‘

ملزمان کا تعلق مودی سرکار سے ہونے کی وجہ سے رہا کیا گیا‘فاروق عبداللہ

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، درجنوں مہاجرین ہلاک

وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کی ہم منصب کو فون

اسرائیل اور امریکا کا ایرانی ’جارحیت‘ کا مقابلہ کرنے کا عزم

اٹلی میں ڈرائیور نے بچوں سے بھری اسکول وین کو آگ لگا دی

افغانستان میں صدارتی انتخابات ایک بار پھرملتوی

ملائیشین کمپنی پروٹان پاکستان میں کار فیکٹری لگائےگی

کٹھ پتلیوں کا عالمی دن، بلاول کی وزیراعظم کو مبارکباد

آغا سراج کے ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع

نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی

ڈیرہ اسماعیل خان ، سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم لشکر جھنگوی کےخودکش بمبار سمیت 2 دہشتگرد گرفتار

امریکا جنگی جرائم کا مرتکب ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

کابل میں دھماکا،25 شیعہ مومنین شہید

بھارتی سیکیورٹی اہلکار نے اپنے ہی 3 ساتھیوں کو قتل کردیا

ایک رسوائی، کئی ہرجائی

2019-03-11 12:30:17

عزت چاہیے یا ذلت؟

65

شفقنا اردو:تحریر:حامد میر

یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے، کسی کو دشمنوں کے جنگی طیارے گرا کر عزت ملتی ہے اور کسی کو اپنوں پر ٹینک چڑھا کر تمغے ملتے ہیں۔ ہر تمغہ عزت کا باعث نہیں بنتا، کبھی کبھی ذلت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ آئیے! آج دو بھولی بسری کہانیاں سنیں۔ ایک عزت کی کہانی ہے، دوسری ذلت کی کہانی ہے۔ پہلی کہانی فلائٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کی ہے۔ پاکستان ایئر فورس کے اس بہادر شاہین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اپنی مہارت اور بہادری سے نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کے جنگی طیارے بھی مار گرائے۔

1965 ء میں وہ پی اے ایف بیس سرگودھا میں تعینات تھے۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران بھارتی ایئر فورس کا جنگی طیارہ مار گرانے پر انہیں ستارۂ جرأت ملا۔ اگلے ہی سال انہیں اردن بھیج دیا گیا۔ 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی طیاروں نے اردن پر حملہ کیا تو سیف الاعظم نے دو اسرائیلی جہاز تباہ کر دیے۔ کچھ دنوں کے بعد انہیں عراق بھیج دیا گیا اور وہاں بھی انہوں نے دو اسرائیلی طیارے تباہ کیے ۔ اردن کے حکمران شاہ حسین نے سیف الاعظم کو فوجی اعزازات تو دیے لیکن وہ سیف الاعظم کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر عمان کی سڑکوں پر گھومنا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

سیف الاعظم کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ 1971 ء میں پاکستان دو لخت ہوا تو وہ بنگلہ دیش ایئر فورس کا حصہ بن گئے اور 1979 ء میں گروپ کیپٹن کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ دوسری کہانی بریگیڈیئر ضیاء الحق کی ہے۔ وہ 1970 ء میں پاکستان کی طرف سے اردن بھیجے گئے۔ ستمبر 1970 ء میں شاہ حسین نے تنظیم آزاد ئی فلسطین (پی ایل او) کو اردن سے نکالنے کے لئے ایک فوجی آپریشن کیا جس میں ٹینک بھی استعمال ہوئے۔ اس آپریشن کی قیادت بریگیڈیئر ضیاء الحق نے کی۔

اس آپریشن کے دوران پی ایل او اور اردن کی فوج میں شدید لڑائی ہوئی جس میں بہت سے بے گناہ فلسطینی مہاجرین بھی مارے گئے۔ اس آپریشن کی کامیابی پر شاہ حسین نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کو بھی ایک تمغہ دیا لیکن یہ تمغہ ضیاء الحق کے لئے کبھی عزت کا باعث نہ بن سکا۔ فلسطینیوں کے خلاف ان کے آپریشن پر احمد ندیم قاسمی نے ”اردن“ کے نام سے اپنی نظم کو ان الفاظ پر ختم کیا؎

جو ہاتھ ہم پہ اٹھے
ہمارے ہی ہاتھ تھے
مگر ان میں کس کے خنجر تھے؟
کس کے خنجر تھے؟
کس کے خنجر تھے؟
کس سے پوچھیں؟
چلو، چلیں آئینوں سے پوچھیں
آئینوں سے کیا پوچھتے؟

یہی بریگیڈیئر ضیاء الحق 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر براجمان ہوئے تو پی ایل ا و کے سربراہ یاسر عرفات نے کہا کہ افسوس اردن میں فلسطینیوں پر ٹینک چڑھانے والا پاکستان کا حکمران بن گیا۔ ضیاء الحق نے فلسطینیوں کے ساتھ جو کیا اسے پاکستانی قوم بھول چکی ہے لیکن فلسطینی کبھی نہیں بھولیں گے۔ 1973 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پی اے ایف کے ایک اور بہادر شاہین عبدالستار علوی نے شامی ایئر فورس کے مگ 21 کے ذریعے اسرائیلی طیارہ مار گرایا اور پاکستان کے لئے عزت کمائی۔

مجھے لبنان اسرائیل جنگ کے دوران لبنان اور شام میں کافی وقت گزارنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں مجھے مصر کے راستے غزہ جانے کا اتفاق بھی ہوا اور میں نے اپنی آنکھوں سے ننھے فلسطینی سنگ بازوں کو اسرائیلی ٹینکوں کے فائر سے خون میں نہاتے دیکھا۔ بیروت سے غزہ تک اور دمشق سے قاہرہ تک، میں جہاں بھی گیا عربوں کو پاکستان کے پائلٹ یاد تھے۔ وہ پاکستان ایئر فورس کے پائلٹوں کی تحسین کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ جنرل ضیاء الحق کی مذمت کرنا نہیں بھولتے تھے۔

یہ مت دیکھئے کہ عرب ممالک کے حکمران پاکستان کے بارے میں کیا سوچتے اور کیا کہتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ عرب ممالک کے عوام پاکستان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ آج پاکستان کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے جائیں تو اسرائیل اور بھارت کا پاکستان کے خلاف اتحاد ختم ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ دوستی کا مشورہ کون دے رہا ہے؟ کیا اس مشورے کے پیچھے پاکستان کا مفاد ہے یا کسی اور کا مفاد ہے؟

2018 ء میں امریکی صحافی باب ووڈ وارڈ کی نئی کتاب Fearیعنی ”خوف“ شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر قیمت پر ایران کو عراق، شام، لبنان اور یمن سے نکالنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے امریکہ نے سعودی عرب اور کچھ دیگر خلیجی ریاستوں کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی صحافی داہام الانازی نے عربی اخبار ”الخلیج“ میں ”ریاض میں اسرائیلی سفارتخانہ کے لئے ہاں“ کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا کہ سعودی عرب کو مغربی یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کھولنا چاہیے اور اسرائیل کو ریاض میں سفارتخانہ کھولنا چاہیے کیونکہ یہودی تو ہمارے کزن ہیں جبکہ ایرانیوں اور ترکوں سے تو ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

عرب میڈیا میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات قائم ہونے چاہئیں یا نہیں؟ سعودی حکومت اس معاملے پر فی الحال خاموش ہے لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان طاقت کی رسہ کشی میں اسرائیل کو سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا اتنا آسان نہیں کیونکہ مسلم ممالک کی بڑی اکثریت نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے ۔

ان ممالک میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، افغانستان، الجزائر، صومالیہ، سوڈان، شام، ایران، یمن، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، تیونس اور دیگر ممالک شامل ہیں لہٰذا پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اسرائیل سے دوستی کر لو تاکہ باقی مسلم ممالک کو بھی یہ مشکل کام کرنے میں آسانی ہو۔ پاکستان کو یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے اسرائیل اور بھارت کا پاکستان دشمن اتحاد ختم ہو جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان کو ایران کے خلاف تشکیل دیے جانیوالے ایک نئے اتحاد میں شامل کرنے کی تیاری ہے۔ کیا پاکستان کا یہ اقدام ہمارے آئین کی دفعہ 40 کی خلاف ورزی نہیں ہو گا جو پاکستانی ریاست کو اسلامی اتحاد اور عالمی امن کے فروغ کے لئے کام کرنے کا پابند بناتی ہے؟ ہمیں پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے یا کرائے کا گوریلا بننا ہے؟

کوئی مانے یا نہ مانے، آج پاکستان کو اسرائیل کی نہیں اسرائیل کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے لئے یورپ میں حمایت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ 28 یورپی ممالک میں سے 9 یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اسپین، فرانس اور آئرلینڈ بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کو نہیں مانتی۔ یورپ کے علاوہ امریکہ میں بھی اسرائیل کی مخالفت بڑھ رہی ہے کیونکہ دنیا پر یہ واضح ہو رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر انتہا پسندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر حریمی کاربن کھلم کھلا اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل جیوش اینٹی زیاونسٹ نیٹ ورک (آئی جے اے این) کے نام سے یہودیوں کی ایک عالمی تنظیم امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے اور اسرائیلی ریاست کو عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتی ہے۔ اس تنظیم کی بانی برطانوی مصنفہ سیلما جیمز خود یہودی ہیں۔ آج اسرائیل کے لئے سیلما جیمز اور نوم چومسکی جیسے دانشور دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل نیدر لینڈز کی حکومت نے دنیا بھر کے یہودیوں سے کہاکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ظلم پر آواز اٹھائیں، اس صورتحال میں پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو فائدہ کسے ہو گا؟ پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر مسئلۂ فلسطین کے حل کے لئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ مسئلۂ فلسطین کا حل مسئلۂ کشمیر کے حل کی راہیں کھولے گا۔ پاکستان کو کسی عالمی طاقت کے دباؤ یا چند ارب ڈالر کے عوض مشرقِ وسطیٰ میں وہ غلطی نہیں کرنا چاہیے جو 1970 ء میں بریگیڈیئر ضیاء الحق نے اردن میں کی تھی۔بشکریہ جنگ نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، مشرق وسطیٰ ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

سوشل میڈیا کی زندگی

- ایکسپریس نیوز

بیمار ہوں، نہیں ہوں!

- ایکسپریس نیوز