عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

سانحہ ساہیوال کی فرانزک رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

مفتی تقی عثمانی پہ حملہ کیا بلاول بھٹو کو تنبیہ ہے؟ عامر حسینی

انسان کا تخلیق کردہ دنیا میں سب سے بڑا کیا؟

بحریہ ٹاؤن سے ملنے والی رقم کہاں جائے گی؟

استقامت کا پانچواں سال بڑی کامیابی کا سال ہو گا، یمن کے وزیر دفاع

حزب اللہ ہماری حکومت کا حصہ، لبنانی حکام

اسپین: طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ انتخابات میں حصہ لیں گے

افغانستان: لشکر گاہ میں 2 بم دھماکے، 4 ہلاک، 30 زخمی

مقبوضہ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بے دریغ‌ فائرنگ، 2 فلسطینی نوجوان شہید

نواز شریف سے مریم نواز اور ذاتی معالج کی ملاقات

کراچی میں ایک اور ماتمی عزادار وجاہت عباس کو شہید کردیا گیا

دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے 10 انتہا پسند گرفتار

مولانا تقی عثمانی حملہ کیس میں کچھ اشارے ملےہیں، جانتے ہیں کون لوگ ملوث ہیں؟آئی جی سندھ

آپ بھی پاکستان ہیں میں بھی پاکستان ہوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

شامی فورسز نے داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ کر دیا

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری

وزیراعلیٰ سندھ کی مفتی تقی عثمانی کے گھر آمد

23 مارچ: مملکتِ خداداد کی قرار داد کی منظوری کا دن

چین، کیمیکل پلانٹ میں دھماکا، ہلاکتیں 64 ہوگئیں

وزیراعظم ملائیشیا دورہ ٔپاکستان مکمل کرکے واپس روانہ

نشان ِحیدر ؑبہادروں کا اعزاز

عراق: کشتی پلٹنے کے واقعے میں 207 افراد جاں بحق و لاپتہ ہوئے

فرقہ واریت کے الزام میں اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کردی گئیں

یوم پاکستان: مسلح افواج کی شاندار پریڈ، غیرملکی دستوں کی بھی شرکت

مفتی تقی عثمانی پر حملہ پاکستان کا امن برباد کرنے کی ملک دشمنوں کی سازش ہے، علامہ راجہ ناصرعباس /علامہ احمد اقبال

بھاڑ میں جاؤ،تم اور تمہارا بیانیہ ،بلاول بھٹو

مفتی تقی عثمانی پرحملہ سازش ہے، وزیر اعظم

مفتی تقی پر حملہ کرنے والوں کو پکڑا جائے، آصف زرداری

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

کیا مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

وہ دیکھو پروفیسر کی لاش پڑی ہے ۔ عامر حسینی

فاضل عبد اللہ یہودا: مسجد اقصی کا جاسوس امام

دوسروں کو نصحیت اور خود میاں فضحیت – عامر حسینی

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

امریکی صدر کا جلد پاکستانی قیادت سے ملاقات کا عندیہ

مغربی اور امریکی سیاستدان حقیقت میں وحشی ہیں، رہبر انقلاب اسلامی

پی پی پی قیادت کے بعد نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا

نوجوان انگلش کرکٹر نے 25گیندوں پر سنچری اسکور کردی

سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینے کے فوائد

بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں کو بنادیاگیا،وزیراعظم عمران خان نے کھری کھری سنادیں

کرائسٹ چرچ، نعیم راشد اور بیٹے کی میت ورثاء کے حوالے

سیلاب متاثرین کوہاوسنگ اسکیم کے نام پر دھوکہ

ادرک بالوں کیلئے مفید کیسے؟

امریکیوں کے ہاتھوں شہریوں کا قتل عام

چین کے کیمیائی پلانٹ میں دھماکا، 47افراد ہلاک

چیف جسٹس نے اسد منیر خودکشی معاملے کا نوٹس لے لیا

وزیر اعظم ملائیشیا کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب

نیوزی لینڈ کی فضا اللہُ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے پر 3 روزہ سوگ

بحریہ ٹاؤن کی پیشکش عدالت میں منظور، اوورسیز پاکستانی خوشی سے نہال

پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

دریائے دجلہ میں کشتی ڈوبنے سے تقریباً 100افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کی ادائیگی، جسینڈا آرڈرن اشکبار

’ہم نیب پر اس سے بھی زیادہ دباؤ بڑھائیں گے‘

ملزمان کا تعلق مودی سرکار سے ہونے کی وجہ سے رہا کیا گیا‘فاروق عبداللہ

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، درجنوں مہاجرین ہلاک

وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کی ہم منصب کو فون

اسرائیل اور امریکا کا ایرانی ’جارحیت‘ کا مقابلہ کرنے کا عزم

اٹلی میں ڈرائیور نے بچوں سے بھری اسکول وین کو آگ لگا دی

افغانستان میں صدارتی انتخابات ایک بار پھرملتوی

ملائیشین کمپنی پروٹان پاکستان میں کار فیکٹری لگائےگی

کٹھ پتلیوں کا عالمی دن، بلاول کی وزیراعظم کو مبارکباد

آغا سراج کے ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع

نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی

ڈیرہ اسماعیل خان ، سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم لشکر جھنگوی کےخودکش بمبار سمیت 2 دہشتگرد گرفتار

امریکا جنگی جرائم کا مرتکب ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

کابل میں دھماکا،25 شیعہ مومنین شہید

بھارتی سیکیورٹی اہلکار نے اپنے ہی 3 ساتھیوں کو قتل کردیا

ایک رسوائی، کئی ہرجائی

2019-03-12 13:25:23

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

115

شفقنا اردو:’’ محمد حسن عسکری، انتظار حُسین ،ڈاکٹر جمیل جالبی،سلیم احمد‘‘ کون ہے، جو اِن ناموں سے واقف نہیں۔ یہ چاروں نام اپنے اپنے میدانوں میں یکتااور اپنے ہم عَصروں میں ممتاز نظر آتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اِن بڑے ناموں میں، سوائےاَدب کے ،کوئی اور قدرِ مشترک ہے؟تو اِس کا جواب ہے، جی ، بالکل۔ یہ اِسمائے رجّال، شاگرد ہیں اُس صاحبِ عِلم و کمال کے ،جسے دُنیاپروفیسر کرّار حُسین کے نام سے جانتی ہے۔

ذِکر ہے 1911 ء کا،جب 8 ستمبرکوغیر منقسم ہندوستان کی ریاست ،راجستھان کے ضلعے، کوٹہ میں مہربان علی کے گھر ایک بچّے نے جنم لیا، جس کا نام ’’کرّار حُسین ‘‘ رکھا گیا۔ مہربان علی اپنے نام کی طرح کُشادہ دل اور وسیع النّظر انسان تھے۔ہر کسی سے عاجزی و انکساری سے ملنا اور انسانیت نوازی پر پُختہ یقین اُن کی پہچان تھا۔ہر کسی پر مہربان ہونے والے مہربان علی کے ملنے والوں میں ہندو،سِکھ،عیسائی سب ہی شامل تھے۔ وہ کوٹ راجپوتانہ میں عدالت کے ناظر ہونے کے علاوہ، راجستھان میں واقع مندِروں اور گِرجا گھروں کی دیکھ بھال کے لیے بنائے گئے اَوقاف کے ٹرسٹی بھی تھے۔ اُن کے بیٹے کرّار حُسین نے اپنے افکار و خیالات اور کردار سے بلامبالغہ ہزارہا افراد کی رہنمائی کی۔جب مہربان علی کا انتقال ہوا اورتجہیز و تکفین کے مراحل طے پاگئے ،تو ہندوؤں اور عیسائیوں کی خواہش کے پیشِ نظر، اُن کے جنازے پر گِیتا اور بائبل کی تعلیمات پر مبنی دُعائیں بھی پڑھی گئیں۔

کرّار حُسین نے گرچہ پرائمری تعلیم ایک انگریزی اسکول سے حاصل کی۔تاہم، اُس زمانے کی تہذیب کے عین مطابق بچّے کو قرآن پڑھانے کے لیےایک مولوی صاحب کی خدمات بھی حاصل کی گئیں،جو گھر پر آکر پڑھایاکرتےتھے۔کرّار کی طبیعت میںکم عُمری ہی سے جُستجو کا پہلو نمایا ں تھا۔ اِسی جُستجو و کھوج کی پیاس بجھانے کے لیےوہ مِلنے جُلنے والوں سے خُوب سوالات کرتا، جن میں ’’کیا،کیوں،کیسے‘‘ کا تجسّس بدرجۂ اَتم موجود ہوتا۔ کرّار حُسین کو جو مولوی صاحب پڑھانے آتے تھے،وہ کسی حادثے میں اپنے دونوں بازوؤں سے محروم ہو گئے تھے۔ وہ دورانِ قرات بچّوں کو اچھی باتوں کی تلقین بھی کیا کرتے ۔سو،ایسے ہی کسی سبق کے دوران اُنہوں نے ایک روزکرّار سے کہا کہ روزانہ دانتوں کو صاف کرنا بہت ضروری ہے، کم سِن کرّار نے اُس پر بے ساختہ پوچھا کہ’’توپھر آپ یہ کام کیسے انجام دیتے ہیں؟‘‘جس وقت کرّار حسین نے قاری صاحب سے یہ سوال کیا، اُ س کی والدہ بھی قریب ہی موجود تھیں،تو اُنہوں نے بچّے کی خُوب سَرزنش کی ۔

بچپن کے دن پنکھ لگا کر اُڑ گئے اور کرّارحُسین نے 1925ء میں میٹرک اور 1927ء میںانٹر کا امتحان پاس کرلیا۔طالب ِعلمی کے اُس دَور میں، کرّار حُسین نے طلبہ تنظیم اور سیاست میں نہایت فعال کردار ادا کیا۔ اپنےسیاسی خیالات اور رجحانات کے باعث اُنہیںشروع میں’’ انڈین نیشنل کانگریس ‘‘میں بہت کشش محسوس ہوئی ۔تاہم ،یہ کسی گہری اور جذباتی وابستگی کی بنیاد نہ بن سکی۔ یہی وہ دَور بھی تھا ، جب وہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھر پور حصّہ لیتے تھے۔چاہے تقریری مقابلے ہوں ، کوئی ذہنی آزمائش یا مقابلۂ مضمون نویسی ، ہر سرگرمی میںوہ آگے آگے ہوتے۔ اُنہیں کُتب بینی کا بھی بے حد شوق تھا، گویا کتاب کا اِک اِک حَرف اُنہیں اپنی جانب پُکارتا اور وہ نظر انداز نہیں کر پاتے تھے۔مختلف موضوعات سے دِل چسپی کی تو کوئی حد ہی نہ تھی ،مگرجن مضامین سے اُنہیںخصوصی لگاؤ تھا، اُن میں انگریزی ، اُردو ادب،مُسلم تاریخ،فلسفہ،مذہب،تعلیم،ثقافتی اور معاشرتی مسائل وغیرہ شامل تھے، جب کہ فارسی ادَبیات سے دل چسپی ایک الگ ہی سطح پر تھی۔حافظ اور بیدل کا شمار اُن کے محبوب ترین شعرا میں ہوتا تھا۔ اُردو شاعری کی اصناف میںمرثیہ اور غزل طبیعت کو خصوصی طور پر متوجہ کرتی۔ یہی وجہ تھی کہ میرؔ اور انیسؔ دونوں ہی اُن کےدِل کے بہت قریب تھے۔فلسفے میں افلاطون اور مُلّاصدرالدّین زبان پر رہتے۔طبیعت میں توازن ،شائستگی ،متانت اور علم سے حاصل ہونے والی دیانت نےنوجوان کرّار کی شخصیت میں ایک وقار پیدا کر دیا تھا۔ اب انہوں نےافلاک کی وُسعتوں پر نظر رکھنا شروع کر دی تھی۔ راجپوتانہ کی فَضاگریجویشن کی تعلیم کے لیے زیادہ سازگار نہ پا کر کرّار حسین نے آگرہ کے ’’سینٹ جونز کالج‘‘ میں داخلہ لینے کی خواہش ظاہر کی،گھر والوں نے نہ صرف اس فیصلے کی حوصلہ افزائی کی بلکہ آگرہ کے ہاسٹل میں رہنے کے انتظامات بھی کردئیے،تاکہ وہ سُکون سے تعلیمی منازل طے کر سکیں۔ ہاسٹل کی آزاد فَضا ، مختلف الخیال طلبہ اور اساتذہ کے درمیان رہتے ہوئے کرّار حُسین کو سماجی مسائل و عنوانات کا گہرا ادراک ہوا۔ دَراصل ،یہی دَور برّ ِصغیر کی سیاست کا بھی دورِ شادابی تھا۔ سیاسی محاذ پرفرنگی راج کے خلاف جو بڑی بزم سجی تھی،اُس میں کانگریس اورمُسلم لیگ کے علاوہ چند اور جماعتیں بھی متحرّک اور فعال تھیں۔ اُن ہی میںسے ایک’’ خاک سار تحریک‘‘ بھی تھی ،جس کے روحِ رواں ، علّامہ عنایت اللہ مشرقی تھے۔1930 ءکے ہنگامہ خیز عَشرے میںیہ تحریک اس حد تک پُرجوش تھی کہ انگریزوں کو اپنی سرزمین سے نکالنے کے لیے کھلے عام ہتھیار بند حکمت ِعملی اختیار کربیٹھی تھی۔علّامہ مشرقی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ دانش وَر تھے ۔ریاضی میں دِل چسپی و مہارت کا یہ عالَم تھا کہ پنجاب یونی وَرسٹی سے اِس مضمون میں، ایم ایس سی فرسٹ کلاس ڈگری لینےوالے پہلے طالب ٹھہرے۔عِلم کی پیاس اُنہیں کیمبرج یونی وَرسٹی لے گئی ، جہاں سے انہوں نے ریاضی ہی میں ڈاکٹر آف فلاسفی(ڈی ۔فِل) کی سند حاصل کی۔یہاں تک کہ برطانوی اخبارات نے بھی علّامہ مشرقی کو ریاضی میں مہارت پر خُوب داد و تحسین سے نوازا۔کہا جاتا ہے کہ1930 ء میں جب وہ برلن ،جرمنی گئے ، تو ہِٹلرسے بھی ملاقات کی اور وہاں رہ کر یہ نتیجہ نکالاکہ مقصد کی بجا آوری کے لیے ایک ایسی تنظیم کا قیام اَزبس ضروری ہے ،جو طاقت کے ذریعے مخالفین پر اپنی دھاک بٹھا دے۔یوں خاک سار تحریک کا قیام عمل میں آیا ۔جس سےاُس وقت کے نوجوانوں کو ایک خاص لگاؤ ہوگیاتھا، ایسے ہی نوجوانوں میں سے ایک سیّدکرّار حسین بھی تھے۔ بانکے، سجیلے کرّار حسین کاپہناوا، جو کُرتا پاجاما تھا،اب خاک سار والے کُرتے پاجامے میں تبدیل ہو چکا تھا اور اِسی کے ساتھ شخصیت میں ایک اورشے کا اضافہ ہو گیاتھا،جوخاک سار تحریک کا نشان ’’بیلچہ‘‘تھی۔ کرّار حسین کو یہ تحریک اس قدر متاثّر کُن معلوم ہونے لگی کہ وہ اُسے ہی ہندوستان کے باشندوں کی نجات دہندہ سمجھنے لگےتھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اُتّر پردیش (یوپی) میں خاک سار تحریک کے ناظم ِاعلیٰ بھی منتخب ہوگئے۔ دوسری جانب اُن کے ساتھ ایک اور نوجوان ،اختر حمید خان بھی تھے،جو خاک سار تحریک سے وابستہ ہوئے۔یہ نوجوان علّامہ مشرقی کا داماد بھی تھا۔ کرّار حسین کے لڑکپن کے دوست ، اختر حمید خان نے بعد میں انڈین سول سروس(آئی سی ایس) کا امتحان پاس کیا اور کلکٹر ہوگئے،لیکن آگے چل کرملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔تاہم، فِکر و نظر کے اختلاف کی وجہ سےدونوںنوجوانوں کی خاک سار تحریک سے وابستگی طویل عرصے تک نہ رہ سکی۔ یہ اختلاف اس بنیاد پر تھا کہ دھیمے لہجے اور وسعت ِ قلب و نظر کے حامل کرّار حسین ،شدّت پسندی کے مخالف ،جب کہ علّامہ مشرقی حصولِ مقصد کے لیے اُسے اپنانےکو دُرست جانتے تھے ۔

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

اِدھر یہ سیاسی سرگرمیاں تھیں ،تو دوسری طرف 1932 ء وہ سال تھا، جب کرّار حسین نے مِیرٹھ کالج سے انگریزی اَدب میں ماسٹرز کیا، بعد ازاں1933 ء میںوہ اِسی کالج میں انگریزی ادب کے استاد کے طور پر تعینات کر دیئے گئے۔ اُس وقت اُن کی تن خواہ، ایک سو پچیس روپے ماہانہ مقرّر کی گئی،جو اُس زمانے کے لحاظ سےخاصی معقول تھی۔بہ حیثیت اُستاد کرّار حسین کو قابل ساتھی اورذہین شاگرد بھی میسّر آئے۔بیس وِیں صدی کا غالباً تیسرا عشرہ تھااور شاید 1936ءکا سال ، جب وہ شادی کے بندھن میں بندھے۔ اہلیہ، سرتاج بانو، طِبّیہ کالج ،دہلی کی فارغ التّحصیل اور اُن کا گھرانہ، اُس وقت کے سیاسی جوار بھاٹے میں مسلم لیگ کا ہَم نوا تھا۔یوں گھر کے اندر ہی میاں بیوی میں ازدواجی مکالمات اور سیاسی افکار کا تبادلہ معمول قرار پا گیا۔کرّار حُسین کو تدریس سے یک گُونہ سکون حاصل ہوتا ، رفتہ رفتہ وہ اُسے سب سے اعلیٰ و ارفع ماننے لگے کہ نسلِ نَو کی فکری آب یاری اور تربیت کے مواقع ،دیگر شعبوں کی نسبت تدریس میں سب سے زیادہ تھے۔ سو،تدریس اُن کی شخصیت کا ایک لازمی حصّہ قرار پا یا۔ اب وہ کالج کی چہار دیواری کے علاوہ، اُردو کا مضمون پڑھانے کے لیے طلبہ کو گھر بھی بلانے لگے،جہاں تدریس کے ساتھ سیاسی تبلیغ کا معاملہ بھی چلتا۔اسی دوران لوگ ملنے بھی آتے رہتے،سیاست کی ہنگامہ خیزیوں پر گفتگو چلتی ، نئے ادَبی رجحانات زیرِ بحث آتے اور جب ملنے والے رُخصت ہوجاتے، تو طلبہ کی تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا۔ طلبہ اُن کی موہنی شخصیت اور دھیمے لہجے کے گویا اَسیر ہو چکے تھے،جو پڑھاتے ،وہ اُنہیں اَزبر ہو جاتا۔

1937 ء میں کرّار حُسین برطانیہ پہنچے ،جہاں اُن کے دوست اختر حمید خان، ایک تعلیمی کورس کی تکمیل کے لیے پہلے ہی سے موجود تھے۔ کرّار حُسین نے برطانیہ میں چند ماہ گزارے ۔ اسی دوران دونوں دوستوں نے چوہدری رحمت علی سے بھی ملاقات کی، جو لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق ہونے کے باعث شہرت پا چکے تھے۔ تاہم، کرّار حُسین اس ملاقات میں چوہدری رحمت علی کے افکار و خیالات سے خود کو ہم آہنگ نہ کر سکے۔ خاک سار تحریک سے علیحدگی کے بعد انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی بہتری کے لیے ایک اورسَمت قدم بڑھایا اور وہ یہ تھا کہ اُنہیں مسائل سے نکالا جائے۔ کرّار حُسین کواس کی راہ یہ نظر آئی کہ انگریزی و اُردو زبان کےدو پرچوں کا اجراء کیا جائے ، جس میں مسلمانوں کو لاحق مسائل پر گفتگو کوبنیاد بنایا جائے۔ سو، ’’الامین‘‘ اور ’’Radiance‘‘ نامی پرچوں کا آغاز ہوا۔کرّار حُسین نے اپنے سیاسی ،سماجی اور فکری شعور و تجربات کی روشنی میں مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا۔اُن مضامین کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ہندو بھی پڑھا کرتےتھے۔ انگریز حکومت نے جب گاندھی جی کے پرچے ’’ہریجن‘‘ پر پابندی لگائی اور اُنہیں قیدکرلیا، تو بہت سے ہندو ؤں نے کہا کہ ’’ہریجن‘‘ کے بعد اُنہیں کرّار حسین کے پر چوں سے رَہ نمائی ملی۔اسی اثنا، برّ ِصغیر کی سیاست کے فیصلہ کُن دَور، یعنی 1940 ء کےعَشرے کا آغاز ہوگیا۔ قائد ِاعظم نے برّ ِ صغیر کے مسلمانوں کے لیے اُس اَہم ترین موڑ پر دو اِداروں ’’حبیب بینک اور ڈان اخبار ‘‘کی بنیاد رکھی۔ بینک کے قیام کا مقصد معاشی استحکام تھا۔ اخبار کی اوّلین اِدارت، پوتھن جوزف کو سونپی گئی۔تاہم، 1945 ء میں مسلم لیگ سے اختلاف کی بنیاد پروہ مستعفی ہو گئے۔انگریزی پرچہ ’’Radiance‘‘ قائد ِاعظم محمد علی جناح کو پابندی سے ارسال کیاجاتا اور وہ اِس میں شامل کرّار حسین کے مضامین کو توّجہ اور شوق سے پڑھتے۔ جب پوتھن جوزف نے ڈان سے استعفیٰ دیا، تو قائد ِاعظم نے نوّاب اسماعیل خاں کی وساطت سے کرّار حسین تک یہ پیغام پہنچایا کہ’’ اُن کی خواہش ہےکہ اخبار کی اِدارت اب اُنہیں(کرّار حسین )سونپ دی جائے۔ اس کے عوض اُنہیں شان دار تن خواہ اور کوٹھی فراہم کی جائے گی۔‘‘تاہم، آزاد مَنش اور درویش پسند کرّار حُسین نے شائستگی سےیہ پیش کَش مسترد کر دی۔

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

ہندوستان کی تقسیم کی گھڑی نزدیک آن پہنچی تھی۔سیاسی حالات غیر یقینی کا شکار ہو چلے ۔ اُدھر حکومت بھی ان پرچوں کی آزاد خیالی برداشت نہ کر پا رہی تھی۔ سو، راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دئیے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کرّار حُسین کے دونوں پرچے مالی وسائل کی دشواریوں کے باعث بند ہو گئے۔فقط اسی پر اِکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کرّار حُسین کو ناپسندیدہ شخص قرار دے کر داخلِ زنداں کر دیا گیا۔اُدھر،اُن کے سب سے عزیز دوست، اختر حمید خان نے جامعہ ملّیہ یونی وَرسٹی کا رُخ کیا۔کچھ وقت بعد جب کرّار حُسین رہا ہوئے تو سوچا کہ اب نئی مملکت کا رُخ کرنا چاہیے، لہٰذا پہلے پہل بیوی بچّوں کے بغیر جانے کا ارادہ کیا،تاکہ حالات کااچھی طرح سے جائزہ لے لیا جائے۔اُس وقت کےمِیرٹھ کالج کے پرنسپل ،پروفیسر بی آر چَیٹرجی اورشعبۂ انگریزی کے پروفیسر چاند بہادرنے، جوکرّار حُسین کے دوست بھی تھے،اُنہیں پاکستان جانے سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی، مگر کام یاب نہ ہو سکے۔ جون 1948 ء میں پروفیسر کرّار حُسین نے دہلی ہوائی اَڈّے کا رُخ کیا۔کاغذات میں اُن کے نام کے ساتھ پروفیسر کا سابقہ لگا تھا،وہاں تعیّنات ایک اعلیٰ ہندو افسر نے دَریافت کیا کہ’’ پروفیسر صاحب! پاکستان سے واپسی کب تک ہو گی؟‘‘جواب میں انہوں نے کہا کہ میں مستقل طور پر پاکستان جا رہا ہوں۔ ہندو افسر نے اس بات پر کہا کہ ’’پروفیسر صاحب! اِس زمین نے آپ کو شناخت اور پہچان دی اور آج جب آپ ایک معزّز شخص ہیں ،تو اسے چھوڑ نے پر آمادہ ہیں۔‘‘یہ جملہ پروفیسر کرّار حسین کے دل میں ترازو ہو گیا ۔ اُنہوں نےاُس افسر سے کلام کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری زندگی کے یادگار ترین لمحات ،اِسی سرزمین پر بسر ہوئے ہیں اور یہ میرے رَگ و پے میں لہو بن کر گردِش کرتی ہے،مگر اب یہی زمین مجھے دوسرے درجے کا شخص سمجھنے لگی ہےاوریہ بات میرے لیے سوہان ِ روح ہے۔سو، اب میرا تن مَن دھن پاکستان کے لیے ہے۔‘‘یہ کہہ کر وہ پاکستان چلے آئے۔اُنہوں نے1948ء سے قبل کا پورا عَشرہ، یعنی 1933-48ء تک، مِیرٹھ کالج میں بہ طور انگریزی کے اُستاد گزارا تھا اور اب تدریس ہی اوّل و آخر محبوب مشغلہ تھی، لہٰذا ایک اُمّید یہ تھی کہ پاکستان میں بھی تدریس ہی کو اوڑھنا بچھونا بنایا جائے گا۔نئی مملکت میں وارد ہوئے، تو جس شہر میں قدم رکھا،وہ برّ ِصغیر کا تاریخی و تہذیبی شہر، لاہور تھا۔ یہاں ایک رات قیام کیا،جوداتا دربار میں گزری۔ اگلا دِن بھی یوں مصروف رہا کہ اپنے زمانے کے ’’رستم ِ زماں‘‘اور ’’رستمِ ہند‘‘ گاما پہلوان سے ملاقات ہوئی۔اُس کے بعدمُلک کے اوّلین دارالحکومت ، کراچی کے لیے رختِ سفر باندھا اور ایک دن حیدر آباد میں گزار کر تیسرے دن کراچی پہنچ گئے۔ خُوش قسمتی ہم رُکاب رہی کہ آتے ہی اِسلامیہ کالج،کراچی میں انگریزی کے پروفیسرہوگئے اور پھر اِسی کالج میں وائس پرنسپل کے طور پر تعینات رہے۔ابھی اُن کی تعیناتی کو زیادہ وقت بھی نہیں گزرا تھاکہ پروفیسر بی آر چَیٹر جی اور پروفیسر چاند بہادر نے خطوط لکھ کر اُنہیں باور کروانا شروع کیا کہ ’’جب سے آپ مِیرٹھ کالج کی ملازمت تَرک کر کے پاکستان گئے ہیں، آپ کی جگہ خالی ہے اور ہم نےاُس جگہ پر کسی بھی اُستاد کا تقرّر نہیں کیا ،کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہاں واپس آ جائیں۔‘‘تاہم ، پروفیسر کرّار حُسین نے خندہ پیشانی اور شائستگی سے اُن کی پیش کَش مسترد کر دی۔اسلامیہ کالج،کراچی میںاُن کی تعیناتی کا یہ سلسلہ 1955 ء تک چلا۔یہ وہ زمانہ تھا ، جب مُلک کے دَارالحکومت میں ہندوستان کے مختلف حصّوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ عام لوگوں کے علاوہ ، مشاہیر شعرا اور ادبابھی اس شہر کو آباد کر رہے تھے ۔یوں ، یہاں ایک اَدَبی فضا پروان چڑھنے لگی۔ ڈاکٹر محمود حُسین، سیّد آلِ رضا،غلام کبریا، راجا صاحب محمود آباد وغیرہ وہ ہستیاں تھیں ، جن سے پروفیسر کرّار حُسین کا ملنا جُلنا رہتا۔1955-67ء تک ، اُنہوں نے میرپور خاص،خیرپور اور کوئٹہ میں مختلف کالجز میں پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیں۔میرپور خاص میں قیام کے دَوران، وہاں کے کمشنر نے ایک اسٹیڈیم کی بنیاد رکھنے کے لیے بہت تن دَہی سے کام کیاتھا۔ جب اسٹیڈیم تعمیر ہو گیا، تو اُس کے لیے اچھا سا نام سوچا جانے لگا اور کسی کے مشورے پر اُس اسٹیڈیم کا نام ایک مسلم فلسفی کے نام پر رکھ دیا گیا۔تاہم، ابھی تک نقاب کُشائی کی رسم انجام نہیں دی گئی تھی۔ پروفیسر کرّار حُسین نے کمشنر کو مشورہ دیا کہ بہ جائے کسی عربی یا مسلم فلسفی کے،اسٹیڈیم کا نام برّصغیر کی کسی تاریخی شخصیت کے نام پر ہونا چاہیے، تاکہ ہم اپنی تاریخ سے جُڑے رہیں۔ اُن سے فرمائش کی گئی کہ پھر آپ ہی نام تجویز کردیں ، یوں پروفیسر کرّار حُسین کی تجویز پر اسٹیڈیم کا نام ’’گاما اسٹیڈیم ‘‘ رکھا گیا۔ اِسی سال کراچی واپس آئے اور جامعہ مِلّیہ کالج،کراچی میں انگریزی کے پروفیسر کے طور پر تدریس کا آغاز کیا۔ تدریسی خدمات کا یہ سلسلہ 1972 ء تک جاری رہا۔اکتوبر 1972 ء میںاُس وقت کے بلوچستان کے گورنر، میر غوث بخش بزنجو کے فیصلے پر پروفیسر کرّار حُسین کو،بلوچستان یونی وَرسٹی کا وائس چانسلرتعیّنات کیا گیا۔ بزنجو ،اُن کا اِس قدر احترام کرتے تھے کہ جب پروفیسر کرّار اپنا منصب سنبھالنے کے لیے کوئٹہ ہوائی اَڈّے پر اُترے ،تو وہ نہ صرف اُن کے استقبال کے لیے وہاںخُودموجود تھےبلکہ پروفیسر کرّار کا بیگ اٹھائےاُن کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ یہ عِلم کی قدر کرنے والے ایک صوبے کے حکمراں کا ،ایک صاحبِ علم کے ساتھ برتاؤ تھا۔ پروفیسر صاحب کی یہاں تعیّناتی کی مُدّت، تقریباً سوا چار برس رہی۔وہ 1977ء سے 1999ء تک ’’اسلامک کلچر اینڈ ریسرچ اِنسٹی ٹیوٹ،کراچی‘‘ کے ڈائریکٹرکے طور پر کام کرتے رہے۔

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

پروفیسر کرّار حُسین، علم و آگہی کا ایک دَبِستان تھے۔وہ جس جگہ بھی موجود ہوتے ،ایک ایسے بزرگ کی صورت اختیار کر لیتے ، جس کی خدمت اور صُحبت میں بیٹھ کر تشنہ کام ِ علم ،اپنے آپ کو صاحبِ بصیرت محسوس کرتا۔ گفتگو میں مٹھاس،رکھ رکھاؤ میں شائستگی اور اِنکسار،طبیعت میں حیرت انگیز توازن ،شخصیت میں دِل آوَیز تبسّم،غرض اُس ایک شخصیت میں جہان و معانی کی ایک دُنیا آباد تھی۔کتابوں میں کھوئے رہنے والے پروفیسر کرّار حسین کی زندگی خود ایک کُھلی کتاب کی مانِند تھی ۔ ایک ایسی کتاب ،جس کے ابواب میں انسانیت، محبّت، رواداری، اخلاق، عِلم و حلم شامل تھے۔ جدید عَہدکے معتبر ترین افسانہ نگار،انتظار حُسین نے ’’سوالات و خیالات‘‘ میں اپنے عظیم استاد کو عقیدت سے یاد کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ’’ہم نے تو طالب ِعلمی کے زمانے میں بھی جب انہیں کسی مسئلے پر بات کرتے دیکھا ،تو اپنی ساری کم عِلمی اور کم فہمی کے باوجود یہی سمجھا کہ بات ہماری سمجھ میں آ رہی ہے۔ پتا نہیں ، اپنے اظہار میں مضمون کو کس طرح گھولتے ہیں کہ مشکل سے مشکل مضمون کو پانی کر دیتے ہیں۔خود بھی تو آدمی سیدھے سچّے ہیں۔ طَور اَطوار میں سادگی اور شخصیت میں بھی کوئی ایچ پیچ نہیں۔نہ عالموں والی شان ،نہ پروفیسروں والا ٹھسّا۔لیجیے، کب کی بات یاد آئی،میرٹھ کالج کا ذکر ہے، انگریزی کی کلاس تھی۔ یاد پڑتا ہے کہ ایلیٹ کی ایک نظم سمجھا رہے تھےکہ اچانک رُکے،بولے آگے کی لائن تو فرانسیسی میں ہے،فرانسیسی تو مجھے آتی نہیں۔اور سادگی سے آگے چل پڑے۔بھلا کوئی پروفیسر کلاس میں کھڑے ہو کر اس طرح کا اعتراف کیا کرتا ہے؟اور طلبہ تھے کہ پھر بھی ریجھے ہوئے تھے۔‘‘اُن کی تصنیفات و تالیفات میں ’’Study of Quraán ‘‘،’’Quraán and Our Lives‘‘، ’’غالبؔ:سب اچھا کہیں جسے‘‘،سوالات و خیالات‘‘ کے علاوہ اَن گِنت مضامین اور تقاریر شامل ہیں۔7 نومبر 1999 کو عقل و خرد کے موتی رولنے والا یہ بے مِثل انسان دُنیا سے کُوچ کر گیا۔

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

پروفیسرکرّار حُسین کی اہلیہ ، سرتاج بانو، دہلی کے طِبّیہ کالج کی فارغ التّحصیل تھیں۔اُن کی اَولاد میں شائستہ زیدی،جوہر حُسین،حیدر کرّار، تاج حیدر،صالحہ حُسین،صادقہ صلاح الدّین، طاہرہ عابد اور شبیہ حیدر شامل ہیں۔

شائستہ زیدی نے ایڈنبرا یونی وَرسٹی(اسکاٹ لینڈ، برطانیہ) سے ریاضی میں آنرز کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ کراچی میں اسی مضمون میںتدریس کے فرائض انجام دئیے۔اُن کی ایک اور وجۂ شُہرت ذاکری بھی ہے۔ دھیمے لہجے میں کلام کرنے والی شائستہ زیدی ،جب گفتگو کرتی ہیں ،تو اپنے والد کی تصویر نظر آتی ہیں۔شائستہ زیدی، تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف سے بھی شغف رکھتی ہیں۔ان کی کتابوں میں ’’سفر نامۂ دمشق‘‘ ’’شام شام شام‘‘ (مقامات ِ مقدّس کی زیارات اور اس ذیل میں ہونے والے مشاہدات کا بیان قلم بند کیا ہے)، ’’پیامِ ِکربلا‘‘ (امام حُسین کے خطبات پر مبنی کتاب )،’ ’کربلا سے پہلے کربلا کے بعد( اسلامی تاریخ پر مبنی)‘‘اور ’’اسلام اور علم‘‘ شامل ہیں۔ شائستہ زیدی کے شوہر، ڈاکٹر ناظم حُسین زیدی نے ایڈنبرا یونی وَرسٹی سےریاضی میں پی ایچ ڈی کیا اور وہ بھی بہ طور پروفیسر ریاضی،جامعۂ کراچی ہی سے وابستہ رہے۔ اُن کی اَولاد میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔بیٹے ، ڈاکٹر عبّاس کاظم نے جارج میسن یونی وَرسٹی،ورجینیا،امریکا سے پی ایچ ڈی کیا ہے اور امریکا ہی میں بہ طور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ ایک بیٹی، ڈاکٹر ارجمند زہرا نے بھی جارج میسن یونی وَرسٹی،ورجینیا،امریکا سے پی ایچ ڈی کیااور آج کل یو ایس ایڈ پروگرام سے وابستہ ہیں۔منجھلی بیٹی، ڈاکٹر بتول فاطمہ نے شعبۂ طِب کا انتخاب کیا ، وہ ایم بی بی ایس ، ایم آر سی پی ہیںاور اِن دِنوں برطانیہ میں مقیم ہیں اورسب سے چھوٹی بیٹی ، ڈاکٹر زینب راضیہ نےبھی جارج میسن یونی وَرسٹی،ورجینیا،امریکا سے پی ایچ ڈی کیاہے اور آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔

پروفیسر کرّار حُسین کے بڑے بیٹے جوہر حُسین تھے۔ پارۂ صفت اور متحرّک جوہر حُسین دِل نشیںاندازمیں کلام کرنے کے علاوہ، نِڈر اور بے باک انسان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اُن کا شمار ، فیلڈ مارشل ایّوب خاں کی آمرانہ حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے پُرجوش رہنماؤں میں ہوتا ۔ اِس عُنوان سے مشہور ہونے والے طلبہ رہنماؤں میں ڈاکٹر محمد سَرور،علی مختار رضوی ،ڈاکٹر ہارون احمد،ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر جعفر نقوی،عابد حسن مَنٹو،فتح یاب علی خان، معراج محمد خان،شیر افضل ملک اور محمد کاظم وغیرہ کے نام سامنے آتے ہیں۔ایّوب خاں کی حکومت نےکراچی سے بارہ طلبہ کے اِخراج کا حکم صادِر کیا تھا، جن میں ایک نام ،جَوہر حُسین کابھی تھا۔اُنہوں نے اپنی سیاسی فعالیت کے نتیجے میں ایّوب آمریت کے غَیظ و غضب کی یوں قیمت اَدا کی کہ کئی بار داخل ِ زنداں کیے گئے۔ سیاسی اور سماجی طور پر متحرّک و فعال جوہر حُسین شادی شدہ تھے۔تاہم ، اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔پروفیسر کرّار حُسین کی تیسری اولاد،حیدرِ کرّاراب حیات نہیں ۔اُن کی اولاد میں حسن کرّار،رباب کرّار اور حُسین کرّار شامل ہیں۔ حسن کرّار، لاہور یونی وَرسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تاریخ کے پروفیسر،بیٹی مریم کرّار ،آرکیٹیکٹ ہیںاور اِن دِنوں امریکا میں مقیم ہیں، رباب کرّار انگریزی ادب میں ایم اے ہیںاور آغا خان فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں، جب کہ سب سے چھوٹے صاحب زادے حُسین کرّار، کاروبار سے وابستہ ہیں۔

تاج حیدر سیاست کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی رکھنے والے تعلیم یافتہ (ایم ایس سی ریاضیات) تاج حیدر، دانش ورانہ سوچ اورقلندرانہ مزاج کے حامل ہیں۔ اُن کے سیاسی افکار سے اِختلاف کے سلسلے میں بلند ہونے والی آوزیںتو ہر سطح پر سنائی دیتی ہیں،لیکن اُن کا دامن کسی بھی طرح سیاسی آلودگی و آلائش سے پاک ہے۔ایک زمانے میں تاج حیدر نے پی ٹی وی کے لیے ڈرامے بھی تحریر کیے اور اداکاری کے جوہر بھی دکھائے، مگر ’’سیاست کار تاج حیدر ‘‘نے’’ تخلیق کار تاج حیدر‘‘ کو پَسپا کر دیا۔ البتہ، سیاسی اُمور پر اُن کی تحریریں گاہے گاہے اخبارات و رسائل کی زینت بنتی رہتی ہیں۔تاج حیدر نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی سے دو لڑکیاں ہیں، جو بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

پروفیسر کرّار کی دوسری صاحب زادی صالحہ حسن بھی والد ہی کی طرح درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں۔ اُن کے تین بچّے (فضّہ، سلمان حسن اور عطیہ حسن )ہیں۔ بڑی صاحب زادی فضّہ درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بیٹے سلمان حسن انجینئراورایک فرم میں ملازمت کرتے ہیں، جب کہ چھوٹی صاحب زادی عطیہ حسن آرٹسٹ ہیں اور بیرون ِ ملک مقیم ہیں۔

صادقہ صلاح الدّین اعلیٰ تعلیم یافتہ ،متحرّک اور فعال خاتون ہیں۔ اُنہوں نے اندرونِ سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے کئی اسکول قائم کیے۔ اُن کے شوہر غازی صلاح الدّین کا شمار پاکستان کے نام وَر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں میں کیا جاتا ہے۔ غازی صلاح الدّین بنیادی طور پر انگریزی صحافت سے وابستہ اورمُلک کے مؤقر انگریزی روزناموں میں اِدارت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ساٹھ اور ستّر کی دَہائی میں معاصر انگریزی اخبار کے لیے اُن کی تحریر کی جانے والی ’’کراچی ڈائری‘‘ بہت مقبول تھی۔انہوں نے نوجوانی میں افسانے بھی تحریر کیے ۔ ہمہ وقت صحافت ،اَدب اور سماج کے تعلق سے گفتگو کرنے اور سوچنے والے غازی صلاح الدّین کی تحریروں میں غور و فکر کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور پروگرام ’’کسوٹی‘‘ کی ٹیم میں بھی شامل رہے ۔ صادقہ اور غازی صلاح الدّین کی دوبیٹیاں،ڈاکٹر شہر بانو اورعالیہ صلاح الدّین ہیں۔ بڑی بیٹی ڈاکٹر شہر بانو طِب سے تعلق رکھتی ہیںاور اِن دنوں امریکا میں مقیم ہیں۔چھوٹی صاحب زادی عالیہ صلاح الدّین کا تعلق میڈیا سے ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والی عالیہ، جیو ٹی وی کےپروگرام ’’جیو پاکستان‘‘ کی میزبانی بھی کرتی رہی ہیں۔ وہ مختلف انگریزی جراید و رسائل کے لیے قلمی تعاون بھی کرتی ہیں۔ عالیہ اِن دِنوں بیرونِ مُلک مقیم ہیں۔

عِلم و آگہی کا گَھنا شجر ’’پروفیسر کرار حُسین‘‘

طاہرہ عابد اور اُن کے شوہر آلِ عابد ،دونوں کا تعلق بینکنگ انڈسٹری سے ہے۔ اُن کےبیٹےڈاکٹر علی رضا نے آکسفورڈ یونی وَر سٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کیااور آج کل لاہور یونی وَرسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز سے تاریخ کے پروفیسر کے طور پر وابستہ ہیں۔صاحب زادی ، زہرہ عابد کاتعلق صحافت سے ، جب کہ چھوٹے صاحب زادے جعفر رضا نے لندن سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی ہے۔

پروفیسر کرّار حُسین کے سب سے چھوٹے صاحب زادے شبیہ حیدر انجینئر ہیں۔تاہم، اُن کا بھی بنیادی حوالہ تدریس ہے۔ وہ آج کل تُرکی میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اُن کی اولاد میں سجّاد حیدر، حاجرہ حیدر ،سارہ حیدر اورعلی حیدر شامل ہیں۔سجّاد حیدر والد کی طرح تُرکی ہی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔صاحب زادی حاجرہ حیدر ، آرٹسٹ ہیں اور جرمنی میں مقیم ہیں۔ سارہ حیدر ،نیشنل کالج آف آرٹس،لاہور میں زیر ِتعلیم ہیںاور سب سے چھوٹے صاحب زادے علی حیدر، انجینئر ہیں۔

پروفیسر کرّار حسین نے عِلم و آگہی کی جو شمع جلائی تھی،اُسے ’’خانوادے‘‘ کے افراد نے آج بھی روشن کر رکھا ہے اور یوں روشنی کا یہ سفر نسل دَر نسل جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ، پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

سوشل میڈیا کی زندگی

- ایکسپریس نیوز